اعراف کیا ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

موت کے فوراً بعد عدالت

موت کے وقت انسان کی روح بدن سے جُدا ہوجاتی ہےَ۔ بدن مٹی میں دفن کیا جاتا ہےَ۔ اَور یہ خاک میں مل کر خاک ہوجاتا ہےَ۔کلام مقدس میں انسان کو یاد دلایا گیا ہےَ کہ ” توخاک ہےَ اَور خاک میں پھر لوٹے گا” (تکوین 3: 9)۔ مگر رُوح لافانی ہےَ۔کلا م مقدس میں لکھا ہےَ کہ “جس طرح آدمیوں کے لئے مرنا مقرر ہےَ۔ اَور اُس کے بعد عدالت کا ہونا ” ( عبرانیوں 9: 27)۔ مرنے کے فوراً  بعدروح کی عدالت ہوتی ہےَ۔اِس انفرادی عدالت کے بعد نیکی کا اَجر پانے ۔اَور بدی کی سزا  کاٹنےکا فیصلہ ہوجاتا ہےَ۔۔ روح بہشت یا اعراف یا جہنم میں سے کسی ایک مقام میں داخل ہوتی ہے َ۔

فردوس (بہشت)

بہشت کو کلام ِ مقدس میں ” فردوس” کہا گیا ہےَ ۔ خُداوند یسوؔع مسیح نے تائب بدکار سے کہا”آج ہی تو میرے ساتھ فردوس میں ہوگا” (مقدس لوقا 23: 43)۔ وہ جنہوں نے اِس دُنیا میں خُدا کو پیار کیا اَور اُس کے حکموں کے مطابق زندگی گزاری۔ وہ راستبازفردوس میں  جائیں گے۔ فردوس کو آسمان کی بادشاہی بھی کہا گیا ہےَ۔ “تب بادشاہ اُن سے کہے گا۔۔۔آؤ میرے باپ کے مُبارک لوگو۔ جو بادشاہی بنائے عالم سے تمہارے لئے تیار کی گئی ہےَ۔ اُسے میراث میں لو” (مقدس متی 25: 34)۔

جہنم(دوزخ)

جہنم ایسی جگہ ہےَ جہاں آگ بجھتی نہیں ہےَ(مقدس متی 3: 12، مقدس مرقس 9: 43)۔ اَور ہمیشہ جلتی رہتی ہےَ(مقدس متی  18:8، 25: 41)۔ مکاشفہ کی کتاب میں جہنم کو آگ اَور گندھک کی جھیل کہا گیا ہےَ( مکاشفہ 20: 10)۔ اشعیا نبی لکھتے ہیں کہ “ہم میں سے کون بھسم کرنے والی آگ میں رہ سکتا ہےَ؟ اَور ہم میں سے کون اَبدی شُعلوں میں بس سکتا ہے َ؟”( اشعیا 33: 14)۔ جہنم  ابلیس ؔ اَوراُن شریروں کے لئے ہےَ جنہوں نے اِس دُنیا میں رہتے ہوئے  خُدا اَور اُس کی محبت کو رد کرتے ہوئے خُدا کے حکموں کو نظر انداز کرتے ہوئے زندگی گزاری۔

اعراف

لفظ “اعراف “بائیبل مقدس کے کسی متن میں موجود نہیں ہے َ۔مگر بائیبل مقدس میں حوالہ جات  موجودہیں جو اِس حقیقت کی طرف اِشارہ کرتے ہیں۔

” پھر اُس نے ہر ایک سے چندہ اکٹھا کیا یعنی تقریبا ً دو ہزار درہم چاندی جو اُس نے یروشلیم ؔ بھیج دی  تاکہ خطا کے لئے قربانی گزارنی جائے۔ یُوں اُس نے قیامت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بڑی نیکی اَور دیندادی کا کام کیا۔ کیونکہ اگر اُسے اُمید نہ ہوتی کہ مقتولوں کی قیامت ہوگی تو مُردوں کے لئے دُعا کرنا بے جا اَور باطل ہوتا۔ اِس لئے اُس عمدہ ثواب پر غور کرکے دینداری میں سوئے ہوؤں کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہے ۔ اُس نے کفارہ کے لئے قربانی چڑھائی تاکہ وہ اپنے گناہ سے رہائی پائیں “( 2۔  مکابین 43-45)۔

اعراف کا تصّور یہودیت میں پایا جاتا تھا۔ ورنہ یہودہ مکابی مرحومین کے گناہوں کے کفارہ کے لئے قربانی نہ گزرانے کا بندوبست نہ کرتا۔ اگر وہ مقتولین فردوس میں تھے۔ تو فردوس میں روحوں کی دُعاؤں کی ضرورت نہیں  ہےَ۔اَور نہ ہماری دُعاؤں سے جہنم کی روحوں کو کچھ فائدہ پہنچ سکتا ہےَ۔اِس حوالے سے ثابت ہوتا ہے َ  کہ یہ کوئی تیسرا مقام ہےَ۔ جہاں روحیں جاتی ہیں اَور جن کو ہماری دُعائیں فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔

فردوس اَور جہنم دائمی مقام ہیں ۔جبکہ اعراف “دائمی ” نہیں بلکہ ” عارضی ” قیام ہے َ۔ جو  مرنے کے فوراً بعد عدالت اَور روزِقیامت کےدرمیان کا عرصہ ہےَ۔ خُداوندیسوؔع مسیح نے “اعراف” کی جگہ کو” قیدخانہ ” سے تشبیہ دی گئی ہے َ۔”جب تک تو مُدعی کے ساتھ راہ میں ہےَ۔ جلد اُس سے میل کر تا نہ ہو کہ مُدعی تجھے منصف کے حوالے کرے اَور منصف تجھے پیادے کے سُپرد کرے اَور تو قید خانہ میں ڈالا جائے ۔ میَں تجھ سے کہتا ہُوں کہ جب تک تُو کوڑی کوڑی اَدا نہ کرے گا ۔ وہاں سے ہر گز نہ چھوٹے گا” (مقدس متی 5: 25-26)۔اِس حوالے کی روشنی میں اعراف نہ تو فردوس ہوسکتا ہےَ۔ کیونکہ وہاں راستباز ہی جائیں گے۔ اَور نہ ہی فردوس” قید خانہ “ہوسکتا ہےَ۔ جہاں روح کوڑی کوڑی کا حساب دینا پڑے گا۔ ۔اَور نہ ہی یہ دوزخ ہوسکتا ہےَ۔ جہاں کوئی کوڑی کوڑی کا حساب دے کر چھوٹے جائے۔ کیونکہ  شریروں کا تو فیصلہ ہو چکا کہ وہ دوزخ میں جائیں گے۔ اعراف فردوس اَور جہنم کے علاوہ کوئی تیسرا مقام ہےَ۔ ۔ جہاں روحوں کو ” دوسری موت ” سے بچنے کا موقعہ ملے گا۔جو اِس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اُٹھا سکے ۔ اُن کا حصّہ  “آگ اَور گند ھک ” کی جھیل میں ہوگا (مکاشفہ  21: 27)۔ اعراف کو ” دوسری موت” کا نام بھی دیا گیا ہےََ ۔ اِس لئے اعراف روحوں کی طہارت کا مقام ہےََ ۔

“جو کوئی ابن ِ انسان کے خلاف بات کہے  اُسے معاف کیا جائے گا۔ مگر جو کوئی رُوح القدس کے خلاف کہے اُسے معاف نہ کیا جائے گا۔ نہ موجود زمانے میں  اَور نہ آئندہ میں”( مقدس متی 12: 32)۔ اِس کا مطلب ہےَ کہ اِس زمین پر کئے گئے اعمال کے بعد اگلے جہان میں معافی کا ایک اَور موقعہ فراہم کیا جائےگا۔ یہ موقعہ صرف اعراف میں روحوں کے لئے ہے َ۔ وہ جو اعراف کو رد کرتے ہوئے ۔وہ مرحوم اِیمانداروں کے لئے دُعا بھی نہیں کرتے۔ اُن کے لئے سوچنے کا امکان ہےَ۔ کہ مرحوم اِیمانداروں کو ہماری دُعا ؤں کی ضرورت ہےَ۔ جن کے طفیل وہ خُداوند کی رحمت سے معافی حاصل کرسکتے ہیں۔

لہذا اعراف ایسا مقام ہےَ۔ جہاں  وہ روحیں جاتی ہیں جنہوں نے زمین پر خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کی ۔ مگر وہ اپنی بشری کمزوریوں کے سبب سے پورے طور پر اُس کی مرضی کو پورا نہ کرسکے ۔اَوروہ صغیرہ ۔گناہوں کے سبب  فردوس میں داخل ہونے سے قاصر ہیں۔ وہ آسمان میں داخل ہونے سے پیشتر دُکھ سہتے ہیں مرحومین کی مغرفت کے لئے لکھی ہوئی۔

اِبتدائی کلیسیا کی دُعائیں اعراف پر اُن کے اِیمان اَور اُمید کی عکاسی کرتی اَور ہمارے لئے ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ کہ مرحومین کے لئے دُعاکرنا اَور پاک ماس کی قربانی گزراننانہایت عُمدہ اَور فائدہ مند ہےََ۔صرف یہ دُعائیں اَور پاک ماس کی قربانی اُن کے گناہوں کی معافی کے لئے فائدہ مند ہیں ۔ جو اِس دُنیا میں رہتے ہوئے اعراف پر اِیمان رکھتے تھے۔

Read Previous

کیا آپ جانتے ہیں ؟

Read Next

صبح کی دُعا

error: Content is protected !!