بائیبل مقدس میں زیارت کا تصّور

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

بائیبل مقدس میں زیارت کا تصّور پایا جاتا ہےَ۔ زیارت کسی مقدس مقام کی جانب سفر کو کہتے ہےَ۔ خُدا نے ابراہیمؔ کو بُت پرستوں کے درمیان سے بُلایا اَور اُس سے کہا “تُو اپنے  وطن اَوراَقربا  کے درمیان سے بلکہ اپنے باپ دادا کے گھر سے روانہ ہو اَور اُس سرزمین میں چل جو میَں تجھے دکھاؤں گا” ( تکوین 12: 1)۔ ابراہیمؔ کے اِسی سفر کو بُنیاد بنا کر مقدس پولوؔس رسول لکھتے ہیں کہ “اِیمان ہی سے جب ابراہیمؔ کو بُلایا گیا۔ اطاعت کرکے اُس جگہ چلا گیا جو میراث پانے کو تھا۔ اگرچہ جانتا نہ تھا کہ میَں کہاں جاتا ہُوں۔ تاہم روانہ ہوگیا۔ اَور اِیمان ہی سے مُلکِ موعود میں اِس طرح جا بسا گویا اجنبی ہے” ( عبرانیوں 11: 8-9)۔ موسیٰؔ کی رہنمائی میں بنی اسرائیلؔ کا موعودہ سرزمین کی طرف سفر کرنا بھی زیارت ہےَ۔

عہدِعتیق میں زیارت

بنی خُدا نے بنی اسرائیلؔ کو حُکم دیا تھا کہ “سال میں تین مرتبہ تیرے سب مرد خُداوند اسرائیل کے خُدا کے سامنے حاضر ہوں” (خروج 43: 23)۔ اسرائیل ؔ کی مذہبی زندگی میں ہیکل کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ اِس کی جھلک تقریبا ً پوری بائیبل مقدس میں دکھائی دیتی ہےَ۔ ہیکل صادقوں کی آرزو کا مرکز تھی (مزمور 63: 6؛ 27: 5)۔ دُنیا کے ہر کونے سے یہودی ہیکل کی زیارت کے لئے آتے تھے (مزمور 122: 1-4، رسولوں کے اعمال 2: 5-11)۔ پندرہ مزامیر ایسے ہیں جو خاص کر زیارت کے حوالے سے لکھے گئےہیں (ملاحظہ ہو مزامیر 120-134)۔ یہ مزامیر چڑھائی کے مزامیر کہلاتے ہیں۔ چونکہ یروشلیمؔ شہر پہاڑ پر واقع تھا اِس لئے یہودیوں کو یروشلیمؔ جانے کے لئے پہاڑی پر چڑھنا پڑتا تھا۔

میکاؔ نبی لکھتے ہیں کہ “خُداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر استوار کیا جائے گا۔ اَور پہاڑوں سے بُلند کیا جائے گا۔ اَور اُمتیں اُس کی طرف روانہ ہوں گی۔ اَور بہت سی قومیں آئیں گی  اَور کہیں گی کہ آؤ ہم خُداوند کے پہاڑ کی طرف یعنی یعقوبؔ کے خُدا کے گھر کی طرف چڑھیں” (میکا 4: 1-2)۔

یروشلیمؔ شہر تین  پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر آباد تھا۔ جو کوہِ صیہوؔن کہلاتا ہےَ۔ داؤؔد بادشاہ کے دورِ سلطنت میں عہد کے صندوق کو صیہوؔن میں لایا گیا تھا۔ اَور اُس وقت سے یہ پہاڑ مُتبرک سمجھا جانے لگا (2 – سموئیل 16: 1-12)۔ بعد میں سلیماؔن بادشاہ کے دَور میں عہد کے صندوق کو موریاؔ پہاڑ پر لے جایا گیا۔ تو وہ علاقہ صیہوؔن کہلانے لگا (اشعیا 8:18؛ یوئیل 3:17، میکا 4:7)۔  یہودی ہیکل کی سالانہ زیارت پر جاتے ہوئے خوشی سے زیارتی مزامیر گاتے تھے (مزامیر 120-134)۔

جب یہودی بابلؔ کی اسیری میں تھے۔ تو وہ صیہوؔن کے لئے اُداس اَور غمگین ہوتے تھے۔ وہ بابلؔ کی نہروں پر بیٹھے صیہوؔن کو یاد کرکے روتے تھے (مزمور 136(137): 1)۔ اسیری کے زمانے میں یہودیوں کو اسیر بنانے والے کہتےتھے کہ تم “صیہوؔن کے گیتوں میں سے کوئی ہم کو سناؤ” (مزمور 137: 3)۔ مگر یہودی اُن کے لئے صیہوؔن کے گیت گانا نہیں چاہتے تھے۔ اِس لئے کہ وہ صیہوؔن کے لئے اُداس تھے اَور اُن کے دِل صیہوؔن کے لئے دھڑکتےتھے۔ وہ اِس کو جا کر دیکھنا چاہتے تھے۔ اُن کے دِل میں صیہوؔن کے لئے زیارت کی شدید خواہش موجود تھی۔

عہدِ جدید میں زیارت

عہدِ جدید میں ہم پڑھتے ہیں کہ تین مجوسیوں کی آمد بھی زیارت تھی۔ وہ بچہ یسوؔع کو دیکھنے کے لئے اپنے مُلکوں سے روانہ ہوئے۔ جب وہ سفر کرتے ہوئے یروشلیمؔ پہنچے تو وہاں پوچھتے پھرتے تھے کہ “یہودیوں کا بادشاہ جو پیدا ہُؤا وہ کہاں ہےَ۔ کیونکہ ہم نے مشرق میں اُس کا ستارہ دیکھا اَور اُسے سجدہ کرنے آئے ہیں” (مقدس متی 2: 2)۔پھر اُنہوں نے بچہ یسوؔع کو بیت لحم ؔ میں اُس کی ماں مریمؔ کے ساتھ پایا اَور بچہ یسوؔع کے آگے گِر کر اُسے سجدہ کیا اَور اپنے ڈبے کھول کر سونا اَور لوبان اَور مُر اُسے نذر گزرانا اَور بچہ یسوؔع کا دیدار کرنے کے بعد اپنے مُلکوں کو روانہ ہوئے۔

کلام ِ مقدس میں پاک خاندان کے زیارت پر جانے کا ذکر کیا گیاہےَ۔ خُداوند یسوؔع مسیح کے والدین ہر سال زیارت کے لئے یروشلیمؔ جایا کرتے تھے۔ یسوؔع بارہ سال کا تھا۔ جب وہ دستور کے مطابق اپنے والدین کے ہمراہ یروشلیمؔ کو گیا (مقدس لوقا 2: 41۔ 42)۔

اِبتدائی مسیحیوں میں زیارت

خُداوند یسوؔع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے اَور آسمان پر جانے کے بعد بارہ شاگرد دُنیا میں انجیل کی منادی کے لئے چل پڑے۔ ماسوائے یوحنؔا رسول کے باقی تمام رسولوں نے شہادت پائی۔ اُن کی شہادت کے بعد اِبتدائی مسیحی سالانہ زیارت کے لئے اُن کے مقبروں پر جانے لگے۔ مثال کے طور پر مقدس پطرؔس اَور مقدس پولوؔس رسول کا مقبرہ رومؔ میں ہےَ۔ مقدس یعقوبؔ رسول کا مقبرہ اسپین میں ہےَ۔ اَور مقدس توماؔ رسول کا مقبرہ مائلا پور (ہندوستان) میں ہےَ۔ اِن کے اَور دیگر رسولوں کے مقبروں پر جا کر مسیحی زائرین رسولوں اَور مسیحی شہیدوں سے اپنی محبت اَور عقیدت کا اظہار کرتے تھے۔

مقدس پولیکارپؔ مقدس یوحنؔا رسول کے شاگرد اَور سمرنہؔ کے بشپ تھے۔ اُن کی شہادت کے بعد سمرنہؔ کے مسیحیوں نے اپنے گردو نواح کے مسیحیوں کو ایک مراسلہ بھیجا۔ جس میں اِس زیارت کی اہمیت کو بیان کیا گیا تھا:”ہم ہر سال اُس (مقدس پولیکارپؔ) کا یومِ شہادت فتحمندی  اَور خوشی کے ساتھ منانے کے لئے (اُن کے مقبرے پر) اکٹھے ہوتے ہیں”۔

زیارتِ ارض مقدس

سن 313 میں جب رومؔ میں مسیحیوں کو اپنی عبادت کرنے کی آزادی ملی۔ تو بہت سے مسیحی زیارت کے لئے ارضِ مقدس جانے لگے۔ جہاں خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنی زمینی زندگی گزاری تھی۔ وہ خُداوند یسوؔع مسیح کی جائے پیدائش، جائے تصلیب، قبر جس میں اُنہیں رکھا گیا تھا۔الغرض وہ اُن تمام مقدس مقامات پر جانے لگے جن سے اُن کے خُداوند یسوؔع مسیح کی یادیں وابستہ تھیں۔مسیحی زائرین خاص کر روزوں کے ایام میں مقاماتِ مقدسہ کی زیارت پر جاتے تھے۔

زیارتِ مقدسہ مریمؔ

کاتھولک کلیسیا میں خاص مقامات کو زیارتِ مقدسہ مریمؔ کا درجہ دیا گیا ہےَ۔ جن میں میکسیکو میں گوادالوپے، فرانس میں لوردؔس، اَور پُرتگال میں فاطمہ کے مقام کو زیارت گاہوں کا درجہ حاصل ہےَ۔ایک اندازے کے مطابق 20 لاکھ زائرین  گوادالوپے،  60 لاکھ زائرین لوردسؔ، اَور 53 لاکھ زائرین فاطمہ کے مقام پر جاتے ہیں۔ یہ تینوں مقامات ایسے ہیں جہاں مقدسہ مریمؔ ظاہر ہوئی تھیں۔

زیارتِ مریمؔ آباد

چونکہ تمام مسیحی زائرین ارضِ مقدس یا دیگر ممالک میں زیارت گاہوں پر نہیں جاسکتے۔ کیونکہ وہاں جانے کے لئے بہت سی مُشکلات حائل ہیں۔ جن میں ویزہ اَور مالی مسائل درپیش ہیں۔ کچھ ممالک میں زیارت گاہوں کو قومی زیارت گاہ قراردیا گیا ہےَ۔ پاکستان میں مریم ؔ آباد کو پاکستان کاتھولک بشپس کانفرنس کی جانب سے قومی زیارت گاہ قرار دیا گیا ہےَ۔ ہر سال زائرین ستمبر کے مہینے میں سالانہ زیارت گاہ پر جاتے اَور برکت پاتے ہیں۔

Read Previous

عام ایام کے دَوران سولہوں اتوار

Read Next

کیا مرحوم عزیزوں کے لئے دُعا کرنی چاہئیے؟

error: Content is protected !!