بائیبل مقدس میں جادُوکی حقیقت کیا ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

خروج کی کتاب میں مِصری جادُو گروں کا ذکر ہےََ ۔مِصرؔ کی ثقافت میں جادُو گری عام تھی۔جادُو ایک حقیقت ہے َ۔ بائیبل مقدس میں جادُو گروں کا ذکر پایا جاتا ہے َ۔  جب ہارونؔ نے خُدا کے حُکم سے الٰہی نشان کے طور پر عصا فرعَون اَور اُس کے درباریوں کے سامنے پھینکا تو وہ سانپ بن گیا۔ فرعَون نے اپنے جادُو گروں کو طلب کیا۔ اُن میں سے ہر ایک نے اپنا عصا پھینکا تو وہ بھی سانپ بن گئے۔ مگر ہارونؔ کا عصا تمام مِصری جادُو گروں کے عصا کو نِگل گیا( خروج 7: 8-13)۔ خُدا کی قُدرت کے سامنے جادُو ٹھہر نہیں سکتا۔

پھر موسیٰؔ اَور ہارونؔ نے خُدا کے حُکم سے دریا کے پانی پر عصا مارا۔ تو دریا کا سارا پانی خُون ہوگیا۔مِصری پانی کو ترسنے لگے۔ کیونکہ سارے ملکِ مِصر میں پانی خُون ہوگیا تھا۔ مِصر ؔ کے جادُو گروں نے بھی اپنے کرتب سے اِیسا ہی کر دکھایا( خروج 7: 22)۔ پھر خُداوند نے موسیٰؔ کو حُکم دیا کہ ہارونؔ سے کہہ کہ اپنا عصا دریاؤں ، نہروں اَور حوضوں پر بڑھائے۔ اُس نے اِیسا ہی کیا۔ تو مینڈک پیدا ہوگئے۔ اَور مِصری جادُو گروں نے خُدا کی قدرت کے مقابلے میں بھی ایسا ہی کر دکھایا( خروج 8: 1-7)۔

اگرچہ مصری جادُو گر شیطان کی مدد سے مینڈک تو نکال لائے ۔ مگر وہ اُنہیں دفع کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے ۔بالآخر اُن کو موسی ٰ ؔ اَور ہارون سے شفاعت کرنا پڑی ۔ موسیٰ ؔ نے خُدا کے سامنے موسیٰ ؔ کی تو مینڈک گھروں ، گاؤں اَور کھیتوں میں مرگئے اَور  یوں مِصریوں نے مینڈکوں سے چھٹکارہ حاصل کیا( خروج 8: 13-15)۔پھر خُدا نے موسیٰؔ کو فرمایا کہ ہارونؔ سے کہہ کہ وہ اپنا عصا بڑھائے اَور زمین کی گرد کو مارے تو وہ زمین مصر ؔ میں مچھر بن جائے گی۔ ہارونؔ نے اپنا ہاتھ عصا کے ساتھ برھایا اَور زمین کی گرد کو مارا  تو وہ مچھر بن گئی۔جادُوگروں نے بھی مچھر نکالنے کی کوشش کی۔ مگر وہ نہ نکال سکے۔ اَور جادُوگروں نے فرعوؔن سے کہا کہ یہ خُدا کی قُدرت ہےَ۔

شیطان انسان کو گمراہی کے راستے پر لے چلتاہےَ۔ شیطان کی چالوں میں  سےجادُو بھی  ایک ذریعہ ہےَ۔ جو خالصتاً ایک شیطانی عمل ہےَ۔ بائیبل مقدس میں جادُوگری کو  ایک  قابل ِ نفرت گناہ قرار دیا گیا ہے َ۔ اِسے مسیحی طرزِ زندگی کا حصہ نہیں بننا چاہئیے۔ کیونکہ ” ایسی حِکمت اُوپر سے نہیں اُترتی بلکہ زمینی ، نفسانی اَور شیطانی ہے َ( یعقوب 3: 15)۔ جادُوگر وں کی حکمت کا انحصار دھوکا اَور فریب دینے والی روحوں پر  ہوتاہے َ۔ خُدا کی قدرت جادُو گری کی طاقت سے کہیں بڑھ کر ہے َ۔بائیبل مقدس میں ہم نے پڑھا کہ  فرعوُنؔ نے  موسیٰؔ کے مقابلے کے لئے  اپنے جادُوگروں کوطلب کیا۔بالآخر جادُو گروں نے  خُدا کی قُدرت کے سامنے ہار مان لی۔

بائیبل مقدس میں بے شمار حوالہ جات ایسے  ہیں ۔جن میں جادُو کی سختی سے مذمت کی گئی ہےَ۔ اَور جادُو کو خُدا کا حریف کہا گیا ہےَ۔ جادُو گری خُدا کی حکمت اَور قُدرت کو نظر انداز کرنے اَور اِس کی جگہ شیطان کی مدح سرائی کرنے کی کوشش کا نام ہےَ۔خُدا جادُو گری کو برداشت نہیں کرسکتا۔تثنیہ شرع کی کتاب میں جادُو گری  کو بنی اسرائیلؔ کے اِرد گرد کی قوموں کی مکروہات میں شمار کرتے ہوئے اِسے قابل نفرت ِ گناہ قرار دیا گیا ہےَ۔ ” تیر ے درمیان کوئی ایسا نہ پایا جائے  جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ سے گُزارے یا جو غیب گو سے صلاح لے یا شُعبدہ باز یا فال گیر یا جادُو گر ہو۔ نہ منتر پڑھنے والا نہ جنات سے سوال کرنے والا نہ رمّال اَور نہ وہ جو مُردوں سے مشورہ کرتا ہے” ( تثنیہ شرع 18:  10-11)۔21: 8۔

بائیبل مقدس میں جادُو گروں کی طرف رجوع کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہےَ۔کلام ِ مقدس میں یوں لکھا ہے کہ ” تم جادُو گروں کی طرف مائل نہ ہو۔ اَور نہ فال گیروں کو ڈھونڈو۔ کیونکہ تُم اُن سے ناپاک ہو جاؤ گے۔ میَں خُداوند تمہارا خُدا ہُوں “( اَحبار 19: 31)۔ جادُو گر آگ اَور گندھک کی جلتی جھیل میں ڈالے جائیں گے ( مُکاشفہ 21: 8)۔

اگرچہ اصل جادُو گر شیطانی قوتوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کام کرواتے ہیں۔ لیکن سب کے سب جادُو گر اَور عامل یہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ محض دھوکے باز، فریبی  اَور شُعبدہ باز ہوتے ہیں ۔ جو اپنی چالاکی سے لوگوں کو پھانس لیتے ہیں۔ اَور اُن سے پیسہ بھٹورتے ہیں۔ لیکن مسیحیوں کو اِن کے بارے میں بڑا محتاط ہونے کی ضرورت ہےَ۔ سچے  اِیمانداروں کو جادُو گروں کی طرف راغب نہیں ہونا چاہئیے۔ ہم واحد اَور سچے خُدا پر اِیمان رکھتے ہیں ۔اَورخُداوند یسوؔع مسیح کے نام اَور قدرت کے سامنے جادُو بے اثر ہے۔

Read Previous

صبح کی دُعا

Read Next

عام ایام کے دوران سترھواں اتوار

error: Content is protected !!