قناعت

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

چوتھی قبل از مسیح میں ایتھنزؔ (یونان) میں ایک فلاسفر تھا۔ جس کا نام دیوجینسؔ تھا۔ وہ بڑا قناعت پَسند تھا۔وہ اِنسانوں کی بجائے کُتّوں کی صحبت میں رہنا پسند کرتا تھا۔ اُس نے پانی کے ایک پُرانے پائپ میں رہائش اِختیار کر رکھی تھی۔دیوجینسؔ کا موقف تھا کہ تھوڑی سی تھوڑی چیزوں پر گزارا کرو۔

ایک دفعہ دیوجینسؔ کی ملاقات سکندرِ اعظم سے ہوئی۔اُس نے سکندرِ اعظم سے پوچھا کہ تیری سب سے بڑی خواہش کیا ہےَ؟ سکندرِ اعظم نے فخریہ انداز میں جواب دِیا۔کہ میرے دِل میں یونانؔ کو فتح کرنے کا عزّم موجود ہےَ۔ دیوغنیطسؔ نے اُس سے پوچھا کہ اِس کے بعد کیا ہوگا؟سکندرِ اعظم نے جواب دیا کہ اِس کے بعد میَں ایشائے کوچک کو فتح کرنا چاہوں گا۔دیوجینسؔ نے پوچھا کہ اِسے کے بعد کیا کروگے؟سکندرِ اعظم نے جواب دیا کہ میَں دُنیا کو فتح کروں گا۔دیوجینسؔ نے پھر پوچھا کہ اِس کے بعد کیا کروگے؟

سکندرِ اعظم تھوڑی دیر کے لئے سوچ میں پڑگیا۔ اَوربالآخر جواب دیا۔پھر میَں آرام کروں گا اَور زِندگی سے لُطف اَندوز ہوں گا۔دیوجینس نے کہا کہ اتنی ساری پریشانیوں سے بچ کر آپ ابھی سے زِندگی سے لُطف اندوز کیوں نہیں ہوتے۔

سکندرِ اعظم کی طرح ہم ساری عُمر فتوحات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کرنے کے بعد آخر تک فتوحات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اَور پھر جب سکندر ِ اعظم کی طرح دُنیا سے رُخصت ہونے کا وقت آتا ہےَ۔تو خُدا کی دِی ہوئی نعمتوں سے لُطف اندوز ہونے سے محروم ہو کر لُطف اندوز ہونے کی حسّرتیں لے کر دُنیا سے چل دیتے ہیں۔ آئیں وقت کو غنیمت جانیں ۔ اَور جو کچھ خُدا نے ہمیں دِیا ہےَ۔ اِسی پر قناعت کرتے ہوئے۔پریشانیوں سے بچیں  اَوراچھی زندگی گزاریں۔

Read Previous

برکت دینا یا مخصوص کرنا بپتسمہ کا متبادل نہیں ہےَ۔

Read Next

انجیلِ مقدس برائے 13 اگست 2020

error: Content is protected !!