سمجھدار گدھا

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہےَ کہ ایک کسان تھا۔ اُس کے پاس ایک گدھا تھا۔ گدھا ایک دِن کنویں میں گِر گیا۔ کسان نے گدھے کو کنویں سے نکالنے کے بڑے جتن کئے۔ مگر کامیاب نہ ہُؤا۔ بالآخر کسان نے سوچا کہ اُس کا گدھا  ویسے بھی بوڑھا ہوچکا ہےَ۔ اَب اُسے نکالنے کا کیا فائدہ۔ اُس نے سوچا بہتر ہےَ کہ گدھے کو زندہ دفن کردیا جائے۔ اُس نے مدد کے لئے کچھ لوگوں کو طلب کیا۔ سب نے مل کر کنویں میں گرے گدھے پر مٹی ڈالنا شروع کردی۔جب وہ بیلچوں سے مٹی ڈال رہے تھے۔ گدھا بڑا گھبرایا۔ اُس نے گھبراہٹ کے عالم میں ڈھینچوں ڈھینچوں کرنا شروع کیا۔ مگر کسی نے گدھے کی آواز پر کان نہ دھرا۔ وہ مسلسل مٹی ڈالتے رہےَ۔ تھوڑی دیر بعد گدھے نے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنا بند کردیا ۔ کسان نے سوچا کہ اَب اُس کا گدھا مرچکا ہےَ۔ اُس نے کنویں میں جھانک کر دیکھا تو حیران رہ گیا۔ گدھا اَب بھی زندہ تھا۔ کیونکہ جب وہ مٹی سے بھرا بیلچہ گدھے پر ڈالتے تو گدھا اپنی کمر جھٹک دیتا تھا۔اَور مٹی نیچے گر جاتی تھی۔ اَور گدھا مٹی کے اوپر کھڑا ہوجاتا تھا۔ اِسی طرح وہ گدھے پر مسلسل مٹی ڈالتے رہے۔۔ گدھا مٹی جھاڑ کر اُس کے اوپر کھڑا ہو جاتا تھا۔ گدھا قدم بہ قدم اوپر آتا گیا۔ بالآخر گدھا کنویں سے باہر نکل آیا۔

اِس سمجھدار گدھے سے ہم ایک سبق سیکھتے ہیں کہ ہماری دُنیا ایک گہرا کنواں ہےَ۔ زندگی میں لوگ ہم پر کیچڑ اچھا لیں گے۔ کہ ہم اُس کے نیچے دب جائیں۔ اِس گہرے کنویں سے نکلنے کی ایک ہی راہ ہےَ۔ کہ گدھے کی طرح گرد جھاڑتے رہیں۔ اَور قدم بہ قدم اوپر اُٹھتے جائیں۔ ہم زندگی کے گہرے گڑھوں سے باہر نکل آئیں گے۔ ہمت ہاریں گے تو دَب کر مرجائیں گے۔

Read Previous

پاک ماس میں مسیح کا خُون کیوں نہیں دیا جاتا؟

Read Next

دونوں صورتوں میں پاک شراکت کا تقاضا

error: Content is protected !!