مقدس فرانسسؔ زیوئیر کا کیکڑا

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

مقدس فرانسسؔ زیوئیر ہسپانوی جیزوٹ مشنری تھا۔ جو اپنے مسیحی اِیمان کی گواہی دینے کےلئے ہندوستا ن آیا تھا۔ سن 1546 کا واقعہ ہے کہ مقدس فرانسسؔ زیوئیر ہندوستان سے اپنی بشارتی سرگرمیوں سے فارغ ہو کر سنگاپور، فلپائن، ملاکا اَور انڈونیشیا کے جزیروں میں منادی کی غرض سے جا رہا تھا۔فروری 1546 خ س میں اُن کی کشتی سمندری طوفان میں پھنس گئی۔پانی کی اونچی اونچی لہریں آ کر کشتی سے ٹکرانے لگیں۔ملاح سخت پریشان تھے۔

مقدس فرانسسؔ زیوئیر کے ہاتھ میں ایک مشنری صلیب ہَؤا کرتی تھی۔اُنہوں نے کشتی سے نیچے جُھک کر صلیب کو پانی میں ڈبو کر خُداوند سے دُعا کی اَور طوفان فوراً تھم گیا۔وہ صلیب کو ہاتھ میں لئے کشتی کے ایک کنارے پر بیٹھے تھے کہ اچانک پانی کی ایک لہر آئی۔اُن کے ہاتھ سے صلیب چھوٹ گئی اَور گہرے پانی میں چلی گئی۔اُنہیں صلیب کے بہہ جانے کا بڑا دُکھ ہُؤا۔

مقدس فرانسسؔ جزیرہ سیرامؔ پہنچنے پر اگلی صبح ساحل پر چہل قدمی کر رہے تھے۔کہ اچانک اُنہوں نے دیکھا کہ سمندر سے ایک کیکڑا اُن کی طرف چلا آ رہا ہےَ۔اَور اُس کے جبڑوں میں وہی صلیب تھی۔ جو مقدس فرانسسؔ زیوئیر کے ہاتھ سے چھوٹ کر پانی کی لہروں میں بہہ گئی تھی۔

مقدس فرانسسؔ زیوئیر نے وہیں گھٹنے ٹیک کر خُداوند کی تعریف کی۔اَور اپنی صلیب کیکڑے سے لے لی۔مقدس فرانسسؔ نے صلیب کے لئے شکریہ ادا کیا۔صلیب کو بوسہ دیا۔ اَور کیکڑے کو برکت دی۔اَور کیکڑا واپس سمند ر میں چلا گیا۔ روایت ہےَ کہ کیکڑے کی پُشت پر صلیب کا نشان بن گیا۔اَب یہ خاص قسم کے کیکڑوں کی نسل گّواؔ اَور اِس سے ملحقہ سمندر میں پائی جاتی ہےَ۔ جن کی پشت پر صلیب کا نشان بنا ہوتا ہےَ۔ اَور کبھی کبھار یہ کیکڑے کراچی کے ساحل پر بھی پائے گئے ہیں۔ اَور مکرانی ماہی گیر بھی کیکڑے کی اِس نسل سے واقف ہیں۔

کیکڑے کی یہ نسل مقدس فرانسسؔ زیوئیر کے معجزے کا زندہ ثبوت ہےَ۔ جو آج تک مقدس فرانسسؔ زیوئیر کی زندگی اَور اِیمان کی گواہی دیتا ہےَ۔یہ واقعہ بہت سے لوگوں کے مسیحی اِیمان کی تقویت کا وسیلہ ہےَ۔

Read Previous

سولی اَور صلیب میں کیا فرق ہےَ؟

Read Next

کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔

error: Content is protected !!