شیر اَور لومڑی کی کہانی

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہےَ کہ ایک شخص جنگل سے گزر رہا تھا۔کیا دیکھتا ہےَ کہ ایک لومڑی درخت کے سائے میں بیٹھی تھی۔ اُس کی دونوں پچھلی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔وہ بمشکل سے ٹانگیں گھسیٹ گھسیٹ کر چل رہی تھی۔وہ حیران ہُؤا کہ یہ کس طرح زندہ ہےَ۔ یہ اپنی خوراک کیسے تلاش کرتی ہوگی  اَور پانی کی ندی کے پاس کیسے پہنچتی ہوگی۔وہ تجسس کے مارے تھوڑی دُور بیٹھ کر مشاہدہ کرنے لگا کہ آخر لومڑی کس طرح خوراک حاصل کرتی ہوگی۔

وہ شخص ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھنے لگا۔ اِسی اثناء میں ایک شیر جنگل سے نکلا۔وہ مُنہ میں شکار لئے آ رہا تھا۔ وہ لومڑی سے تھوڑی دُور آ کر رُک گیا۔اَور بیٹھ کر مزے سے اپنا شکار کھانے لگا۔جب اُس کا پیٹ بھر گیا۔تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھا اَور اپنا مُنہ بسورتا ہُؤا وہاں سے چل دیا۔

شیر کے جانے کے بعد لومڑی اپنی جگہ سے اُٹھی۔اَور ٹانگیں گھسیٹتی ہوئی اُس جگہ پہنچی جہاں شیر کے شکار کا گوشت بچا پڑا تھا۔ وہ اِس کو کھانے لگی۔ اَور تھوڑی دیر میں مُردار خور پرندے اَور جانور بھی آ پہنچے۔وہ بھی اِس میں سے کھانے لگے۔ سب اپنا اپنا پیٹ بھر کر وہاں سے چل دئیے۔

یہ منظر دیکھ کر وہ شخص خُدا کی پروردگاری پر حیران ہُؤا۔اَور کہنے لگا کہ واہ مالک!تُو کس طرح اپنی ہر مخلوق کو خوراک مہیا کرتا ہےَ۔ وہ اِس تجربے سے بڑا متاثر ہُؤا۔ اَور اپنے جی میں کہنے لگا۔بس اَب مزے ہی مزے۔ اگر خُدا لومڑی کو مہیا کرسکتا ہےَ۔ تو میَں بھی تو خُدا کی مخلوق ہُوں۔اَب مجھے اپنی خوراک کے لئے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔اَب میَں بھی لومڑی کی طرح خُدا کی پروردگاری پر بھروسہ رکھتے ہوئے آرام کی زندگی گزاروں گا۔

اُس شخص نے گھر پہنچ کر محنت مزدوری کرنا چھوڑ دی۔اِسی طرح بہت دِن گزر گئے۔گھر کا راشن ختم ہونے لگا۔اُس نے خُدا سے گِلہ کیا کہ اَے خُدا کیا میَں اِس لومڑی سے بھی کم قدر رکھتا ہُوں۔کیا تجھے میری کوئی فکر نہیں؟

اتنے میں اُسے آواز آئی۔اَے انسان تو لومڑی نہ بن۔بلکہ شیر بن کر دوسروں کی پروردگاری کا میرا وسیلہ بن۔کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ ہمارے کام کاج کی بدولت کتنے لوگوں کو رذق مِلتا ہےَ۔

Read Previous

انجیلِ مقدس برائے 13 اگست 2020

Read Next

انجیلِ مقدس برائے 14 اگست 2020

error: Content is protected !!