مکاشفہ کی کتاب کا مطالعہ آٹھویں قسط

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ازمیرؔ کی کلیسیا کے نام

مقدس یوحنؔا رسول افسسؔ سے تقریبا ً 101 کلومیٹر دُور پطمُسؔ کے جزیرے میں جلاوطنی میں تھے۔ جب اُنہوں نے خُداوند یسوؔع مسیح کے حُکم کے مُطابق آسیہ ؔ کی سات کلیسیاؤں کو خطوط لکھے۔ اُن میں سے دوسرا خط ازمیرؔ کی کلیسیا کے فرشتے کو لکھا گیا ہے

” اَور ازمیرؔ کی کلیسیا کے فرشتے کو یہ لکھ کہ جو اوّل اَور آخر ہےَ۔ جو مرگیا تھا اَور زندہ ہُؤا ۔ وہ یہ کہتا ہےَ کہ میَں تیری مُصیبت اَور مُفلسی کو جانتا ہُوں ۔ پھر بھی تو غنی ہےَ۔ اَور اُس لعن طعن کو بھی جو وہ کرتےہیں جو اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں۔ حالانکہ ہیں نہیں بلکہ شیطان کی جماعت ہیں۔ جو دُکھ تجھے اُٹھانے ہیں۔ اُن سے نہ ڈر۔ دیکھو شیطان تُم میں سے کئی ایک کو قید میں ڈالنے کو ہےَ تاکہ تُم آزمائے جاؤ۔ اَور تُم دس دِن تک مُصیبت اُٹھاؤ گے ۔ جان دینے تک بھی وفادار رہ تو میَں تجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔ جس کے کان ہوں وہ سُن لے کہ رُوح کلیسیاؤں سے کیا کہتا ہےَ۔ جو غالب آئے وہ دوسری موت سے نقصاں نہ اُٹھائے گا”(مُکاشفہ 2: 8-11)۔

تاریخی پس منظر

ازمیرؔ کا پُرانا نام سمرؔنہ تھا۔ اِس کا موجودہ نام ازمیرؔ ہےَ جو افسسؔ سے 55 کلومیٹر ترکی میں  کے شمال مغرب میں بحیرہ ِ ایجئین کے ساحل پر واقع ہےَ۔ آج کل ازمیرؔ ترکی کا تیسرا بڑا شہر ہےَ۔ رسولوں کے زمانے میں یہ رومی صوبے آسیہؔ کا ایک خوشحال شہر تھا۔ اَور یہ شہر اُس قدیم شاہراہ پر واقع تھا جو دریائے ہرمؔس کی وادی میں سے گزرتی ہوئی اِسے بندرگاہ سے ملاتی ہےَ۔

ازمیرؔ تجارت کا مرکز تھا ۔ اِس کے وسط میں ایک “سنہری شاہراہ” تھی جس کے ارد گرد دیوتاؤں کے مندروں کی عظیم الشان عمارتیں ہوا کرتی تھیں۔ رسولوں کے زمانے میں دیوتاؤں کی پرستش مدھم پڑچکی تھی اِس کی جگہ شہنشاہ پرستی عروج پر تھی۔

شہنشاہ پرستی کو رومی شہنشاہ دومطیانؔ نے متعارف کروایا تھا۔ دومطیانؔ پہلا  رومی شہنشاہ تھا۔  جس نے رومی سلطنت سے سیاسی وفاداری کے طور پر قیصر کو “خُداوند ” کا لقب دیا  اَور ہر شہری کے لئے قیصر کی پرستش کو لازمی قرار دیا۔ سال میں ایک دفعہ ہر رومی شہری کو قیصر کے مجسمہ کے سامنے چُٹکی بھر لوبان جلانا ہوتا اَور قیصر کے “خُداوند خُدا” ہونے کا حلفیہ اقرار کرنا ہوتا تھا۔ جو کوئی ایسا کرتا ۔ اِس کے عوض اُسے ایک سرٹیفکیٹ دیا جا تاتھا۔ یہ سرٹیفکیٹ حُب الوطنی اَور شہنشاہ سے محبت کا ثبوت تھا۔ مقدس یوحنؔا رسول کے زمانہ میں طباریُسؔ قیصر کی پرستش کی جاتی تھی۔

مسیحیوں سے بھی تقاضا کیا جاتا تھا کہ وہ بھی شہنشاہ پرستی کی رسم میں شامل ہوں۔ اَورصرف ایک چُٹکی بھر لوبان لے کر قیصر کے مجسمہ کے آگے جلاتے ہوئے اُس کے خُداوند خُدا ہونے کا اقرار کریں۔اَور اِس کے بدلے رومی شہریت کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں۔ اَور پھر جیسے چاہیں جا کر اپنی عبادت کریں۔ مگر مسیحیوں کے لئے یہ بات قابل ِ قبول نہ تھی۔ وہ خُداوند یسوؔع مسیح کے علاوہ کسی دوسرے کو “خُداوند ” کے لقب سے پکارنے کے لئے تیار نہ تھے۔ اِس طرح شہنشاہ پرستی سے انکار نے مسیحیوں کی زندگی کو انتہائی مشکل بنادیا تھا۔ اُس وقت مقدس پولیکارؔپ سمرنہؔ کے بشپ تھے۔ جن کو یہ خط لکھا گیا تھا ۔

کلیسیائی صورتِ حال

خط سے معلوم ہوتا ہےَ کہ ازمیرؔ کے مسیحی غریب تھے۔ وہ سن 70 میں رومیوں نے یروشلیمؔ پر حملہ کیا۔ تو کئی مسیحی گلیلؔ اَور یہودیؔہ سے ترک ِ وطن کرکے سمرنہؔ(ازمیر) چلے آئے تھے۔ اِس لئے خُداوند مقدس یوحنؔا رسول کو ہدایت کرتے ہیں کہ ازمیرؔ کے فرشتے کو لکھ کہ ” میَں تیری مُصیبت اَور مفلسی کو جانتا ہُوں۔ پھر بھی تو غنی ہےَ”( مُکاشفہ 2: 9)۔ ازمیرؔ کے مسیحی غریب تھے ۔ مگر وہ اِیمان کے لحاظ سے دولتمند تھے۔ اُن کو معاشی طور  ستایا جاتا تھا۔ اُن سے نفرت کی جاتی تھی۔ اُن کو کام پر نہیں لگایا جاتا تھا۔ مسیحی اِس صورتِ حال سے پریشان اَور دُکھی تھے۔ معاشرے کی نفرت اَور اقتصادی لحاط سے شکستہ مسیحی پھر بھی خوش تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اُن کے پاس اِیمان کی سب سے بڑی دولت ہےَ۔ اِس لئے خُداوند اُن کو باور کراتے ہیں کہ مُفلسی کے باوجود بھی تم غنی ہو۔

اِس خط میں مقامی یہودیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہےَ۔ جو مسیحیوں کو ستانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ وہ مسیحیوں پر الزام لگاتے تھے کہ وہ رومی حکومت کے وفادار نہیں ہیں۔ وہ اکثر مسیحیوں کے ساتھ اُلجھتے رہتے تھے۔ خُداوند یسوؔع مسیح اِس خط میں اُن کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” جو اپنے آپ کو یہودی کہتے ہیں۔ حالانکہ ہیں نہیں۔ بلکہ شیطان کی جماعت ہیں”۔ کیونکہ اِن لوگوں میں خُدا کے لوگوں کا سا رویہ نہ تھا۔

خُداوند اِسی خط میں متنبہ کرتے ہیں کہ ” دیکھو شیطان تم میں سے کئی ایک کو قید میں ڈالنے کو ہےَ۔ تاکہ تم آزمائے جاؤ”( مُکاشفہ 2: 10)۔ یہاں شیطان سے مُراد وہ شریر لوگ ہیں جو شیطان کا کام سر انجام دیت ےہیں۔ خُداوند ازمیرؔ کی کلیسیا کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” جو دُکھ تجھے اُٹھانے ہیں۔ اُن سے نہ ڈر”۔ اَور خُداوند ستائے جانے والوں کے لئے ایک انعام کا وعدہ کرتے ہیں کہ ” جان دینے تک بھی وفادار رہ تو میَں تجھے زِندگی کا تاج دُوں گا”( مُکاشفہ 2: 11)۔

ہمارے لئے پیغام

اگرچہ مُکاشفہ کی کتاب میں ازمیرؔ کی کلیسیا کے نام خط میں اُس وقت کے بشپ اَور مسیحیوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔ تاہم ازمیرؔ کی کلیسیا کی صورتِ حال ہر دَور کے مسیحیوں کے لئے دہرائی جاتی ہےَ۔ خُداوند یسوؔع مسیح ہماری صورتِ حال سے بھی واقف ہیں۔ آج بھی مسیحیوں کو ستایا جاتا ہےَ۔ اُن سے نفرت کی جاتی ہےَ۔ معاشی طور پر اُنہیں دبایا جاتا ہےَ۔ مسیحی غریبی اَور مُفلسی کا شکار ہیں۔ مگر وہ اپنے اِیمان میں خوش ہیں۔

خُداوند یسوؔع مسیح اِس تمام پریشان کُن صورت ِ حال سے واقف ہیں اَور مسیحیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں کہ ” جو دُکھ تجھے اُٹھانے ہیں۔ اُن سے نہ ڈر”۔ بلکہ اِن سے بھی مشکل حالات کے لئے اپنے آپ کو تیار کرو۔ اگر خُداوند یسوؔع مسیح کی خاطر دُکھ اُٹھانا پڑیں اَور قید میں بھی جانا پڑے۔ تو ایسے حالات سےقطعاً گھبرانا نہیں۔ کیونکہ شیطان ہر دَور میں مسیحیوں کو آزماتا رہا ہےَ۔ اَور آزمائے گا۔ مگر ہم نے اپنے مسیحی اِیمان میں ثابت قدم رہنا ہےَ۔ جو جان دینے تک وفادار رہیں گے۔ وہ خُداوند سے زِندگی کا تاج پانے کے حقدار ہوں گے۔ اَور دوسری موت سے نقصان نہ اُٹھائیں گے۔

آئیں مُکاشفہ کی کتاب کے اِس پیغام کو عام کریں۔ اَور ازمیرؔ کے مسیحیوں کی طرح آج اپنے مسیحی بہن بھائیوں کو اِیمان میں دلاسہ دینے کا وسیلہ ثابت ہوں۔

Read Previous

انجیل مقدس برائے 13 جولائی 2020

Read Next

انجیل مقدس برائے 14 جولائی 2020

error: Content is protected !!