کیا مرحوم عزیزوں کے لئے دُعا کرنی چاہئیے؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

کیا ہمیں اپنے مرحوم عزیزوں کے لئے دُعا کرنی چاہئیے؟ جس طرح ہم دُنیا میں اُن سے پیار کرتے تھے۔ اَب بھی اُن سے پیار کرتے ہیں۔ اَور اُن کے لئے خُداوند سے دُعا کرتے ہیں۔ کچھ مسیحی غلط تعلیم کی وجہ سے اپنے مرحوم عزیزوں کے لئے دُعا نہیں کرتے۔ وہ موت کے بعد اُن سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ اَور جھوٹے معلموں اَور اُن کی تفسیروں سے گمراہ ہو کر اپنے مرحومین کو فراموش کردیتے ہیں۔ وہ اپنے حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ چونکہ کلامِ مقدس میں مرحومین کے لئے دُعا کرنے کے بارے میں کوئی حوالہ موجود نہیں۔ بائیبل مقدس میں تو کفن بکس میں دفنانے کا بھی کوئی حوالہ موجود نہیں ہےَ۔ پھر یہ مسیحی اپنے مرحومین کو کفن بکس میں کیوں دفناتے ہیں ؟

عہدِ عتیق کے زمانے میں

یہودی روایت میں مرحومین کے لئے دُعا کا ذکر مکابین کی کتاب میں پایا جاتا ہےَ۔ بائیبل مقدس میں عہدِ عتیق کی آخری کتاب میں یوں لکھا ہےَ کہ جُرجیاؔس کو شکست دینے کے بعد جب یہودہؔ نے اپنا لشکر جمع کیا۔ اَور اُسے عدلامؔ شہر کو لے گیا۔ کیونکہ اگلے دِن سبت تھا۔ اَور سبت کے دوسرے دِن یہودہؔ کے ساتھی اپنے مقتولین کی لاشیں اُٹھانے گئے  تاکہ اُن لاشوں کو اُن کی آبائی قبروں میں اُن کے رشتہ داروں کے ساتھ دفن کیا جائے۔ جب وہ لاشوں کو اُٹھانے لگے تو “اُنہوں نےمقتولوں میں سے ہر ایک کے کپڑوں کے نیچے یَبنہ کے بُتوں کے تعویذ پائے۔ جن سے کسی بھی قسم کا واسطہ رکھنا شریعت یہُویوں کو منع کرتی ہےَ (تثنیہ شرع 7: 25)۔ پس سب پر ظاہر ہوگیا کہ اِن کے مارے جانے کا یہی سبب تھا” (2 ۔ مکابین 12: 38-40)۔

پھر اُس [یعنی یہودؔہ مکابی] نے ہر ایک سے چندہ اکٹھا کیا یعنی تقریباً دو ہزار درہم چاند ی جو اُس نے “یروشلیمؔ بھیج دی تاکہ خطا کے لئے قربانی گزارنی جائے۔ یوں اُس نے قیامت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بڑی نیکی اَور دینداری کا کام کیا۔ کیونکہ اگر اُسے اُمید نہ ہوتی کہ مقتولوں کی قیامت ہوگی  تو مُردوں کے لئے دُعا بے جا اَور باطل ہوتی۔ اِس لئے اُس عُمدہ ثواب پر غور کرکے جو دینداری میں سوئے ہوؤں کے لئے ذخیرہ کیا گیا ہےَ۔ یقیناً یہ خیال پاک اَور نیک ہےَ۔ اُس نے کفارہ کے لئے قربانی چڑھائی تاکہ وہ اپنے گناہ سے رہائی پائیں” (2 ۔ مکابین 12: 43 ۔ 46)۔اِس حوالے سے ظاہر ہوتاہےَ کہ یہودیوں میں مرحومین کے لئے دُعا کرنے کا دستور پایا جاتا تھا۔ اگر یہ دستور نہ ہوتا تو یہودؔہ مکابی جو ایک کٹر یہودی اَور اُن کا حاکم تھا۔ وہ کبھی مرحومین کے لئے دُعا کا بندوبست نہ کرتا۔

عہد جدید میں

عہدِ جدید میں ہم پڑھتے ہیں کہ مقدس پولوؔس رسول نے خود اونیسفرؔس  مرحوم کے لئے دُعا کی۔ اونیسفرؔس ایک مسیحی تھا۔ جس نے افسسؔ اَور رومؔ میں قید کے دَوران مقدس پولوؔس رسول کی خدمت  گزاری کی تھی (2 ۔ تیموتاؤس 1: 18)۔ اگر مرحومین کے لئے دُعا کرنا بے فائدہ ہوتا تو مقدس پولوؔس رسول اپنے اِس مسیحی بھائی اَور دوست کے لئے دُعا نہ کرتا۔  

اِبتدائی کلیسیا میں

اِبتدائی مسیحیوں میں مرحومین کے لئے دُعا کرنے کا دستور پایا جاتا تھا۔ رومؔ میں غار نما قبرستان ہیں جن کو کیٹاکومب کہا جاتا ہےَ۔ یہ زمین دوز قبرستان اِس بات کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ کہ اِبتدائی مسیحی اِن قبرستانوں میں اپنے مرحومین کے لئے دُعا کرنے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ اِبتدائی مسیحی تعلیم اَور دُعاؤں کی کتابوں میں مرحومین کے لئے دُعاؤں کا ذکر پایا جاتا ہےَ۔

سن 211 خ س میں طرطولیؔن مسیحیوں کے بارے میں لکھتاہےَ کہ وہ  ہر سال اپنے مرحومین کی برسی منانے کے لئے اکٹھے ہوتے تھے۔ اَور وہ لکھتا ہےَ  کہ مرحومین کی برسی منانا اُن کے لئے  کوئی نئی بات نہ تھی۔ بلکہ یہ دستور کافی مدت سے پایا جاتا تھا۔

مقدس سِرلؔ نوبپتسمہ یافتوں کو ہدایت کرتے ہیں کہ یوخرستی قربانی میں زِندوں کے لئے دُعا کرنے کے بعد مرحومین کو یاد کیا جائے۔ یعنی اُن کے لئے دُعا کی جائے۔اَور کئی حوالے ایسے بھی موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہےَ کہ اِبتدائی کلیسیا میں مرحومین کے لئے دُعا کرنے کا دستور پایا جاتا تھا۔ کیا ہم اِن سب شہادتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سولہ سو سال کے بعد آنے والی کلیسیاؤں کی تعلیم کو مانتے ہوئے اپنے مرحومین کو فراموش کردیں اَور اُن کے لئے دُعا کرنا چھوڑ دیں؟ وہ جو مرحومین کے لئے دُعا نہیں کرتے ۔ وہ ہر سال اپنے مرحوم عزیزوں کی برسی کیوں مناتے ہیں؟ کیا اِس برسی کا مقصد صرف اکٹھے کھانا کھانا ہوتا ہےَ؟

Read Previous

بائیبل مقدس میں زیارت کا تصّور

Read Next

انجیل مقدس برائے 21 جولائی 2020

error: Content is protected !!