دونوں صورتوں میں پاک شراکت کا تقاضا

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہَے کہ ایک کاتھولک خاتون ہسپتال میں بیمار تھی۔ اُسے گلے کا کینسر تھا۔ وہ کچھ کھا پی نہیں سکتی تھی۔ اُس کو خوراک کی نالی لگائی گئی تھی۔ جس کے ذریعے اُسے ٹھوس کی بجائے مائع خوراک دی جاتی تھی۔ وہ پاک شراکت لینا چاہتی تھی ۔ اَب سوال تھا کہ اِس بیمار خاتون کو کس طرح پاک شراکت دی جائے؟  کیا وہ مسیح کے اقدس بدن سے محروم رہے ؟ ہسپتال کا چیپلن صبح پاک ماس کے بعد مسیح کا خُون ایک چھوٹی بوتل میں لاتا اَور خاتون کو لگائی گئی خوراک کی نالی میں انڈیلتا۔ اُس کے بعد خوراک کی نالی کو صاف کرنے کے لئے اِس میں تھوڑا ساپانی انڈیلتا۔ کیا آپ کے خیال میں اُس خاتون کو پاک شراکت ملی یا نہیں؟ جی ہاں بالکل اُس خاتون نے مسیح کے اقدس خُون کی صورت میں پاک شراکت لی۔ اَور ہسپتال کے چیپلن نے موقعہ محل کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ کس طرح اُسے پاک شراکت دی جائے۔

کل ہم  نے اِس سوال کا جواب دیا تھا کہ ” پاک ماس میں مسیح کا خُون کیوں نہیں دیا جاتا ؟”کئی قارئین نے اِس کی مزید وضاحت مانگی ہےَ۔ اُن کے مطالنے پر ہم اقدس یوخرست پر یہ ایک اَور مضمون شائع کریں ۔جس میں اقدس یوخرست کے اِس بھید پر روشنی ڈالی گئی ہےََ ۔

جب خُداند یسوؔع مسیح نے کفرنحومؔ کے عبادت خانے میں تعلیم دیتے ہوئے اقدس یوخرست کے بارے میں بتایا۔ تو اُس کے بہت سے شاگرد اُس کی باتیں سُن کر کہنے لگے کہ ” یہ کلام سخت ہےَ ۔ اِسے کون سُن سکتا ہےَ؟” شاگرد خُداوند یسوؔع مسیح کی باتوں پر کُڑکڑاتے تھے۔ خُدا  وندجو دِلوں کے راز جانتا ہےَ۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا” جو باتیں میَں نے تم سے کہیں وہ رُوح ہیں اَور زندگی بھی ہیں۔ مگر تم میں سے بعض ایسے ہیں جو اِیمان نہیں لاتے”(مقدس یوحنا 6: 60 -65)۔ اقدس یوخرست کے بارے میں خُداوند یسوؔع مسیح کی باتیں سُن کر اُس کے بہت سے شاگرد اِیمان سے پھر گئے اَور آئندہ اُس کے ساتھ نہ رہےَ۔

آج بھی بہت سے مسیحی ایسے ہیں۔ جو اقدس یوخرست کے بھید کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اَور بضد ہیں کہ جب تک اُن کو روٹی اَور مے کی صورت پاک شراکت نہ دی جائے۔خُداوند یسوؔع مسیح کے بدن اَور خُون کی شراکت کا عمل پورا نہیں ہوتا۔

1970 سے پہلے پاک شراکت صرف روٹی ( پاک ہوستیہ) کی صورت میں دی جاتی تھی۔ 1970 میں ویٹیکن نے مقامی بشپس کانفرنس کو اجازت دی کہ وہ حالات  کو مدِ نظر رکھتے ہوئے خود فیصلہ کرسکتے ہیں کہ پاک شراکت منہ میں دی جائے، ہاتھ پر دی جائے ، دونوں صورتوں(روٹی اَور پاک پیالے) میں دی جائے یا اِن میں سے کسی ایک صورت  میں دی جائے۔ جب کسی ایک صورت میں پاک شراکت دی جاتی ہےَ تو اِس میں خُداوند یسوؔع مسیح کا بدن اَور خُون دونوں شامل ہوتے ہیں۔

رسولوں کے اعمال میں پاک یوخرست کے بارے میں لکھا ہےَ کہ ابتدائی مسیحی ” گھر گھر روٹی توڑا کرتے تھے”( رسولوں کے اعمال 2: 42)۔ کیا اِس سےیہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ وہ پاک ماس میں صرف روٹی استعما ل کرتے تھے۔ ایذا رسانیوں کے دَوران مسیحی قیدیوں کو پاک شراکت صرف روٹی کی صورت دی جاتی تھی۔ اُنہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا تھا کہ مسیح کا خُون کیوں نہیں لائے۔ کیونکہ وہ اپنی اِیمانی تعلیم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اُن کو یہ بھی معلوم تھا کہ پاک یوخرست میں خُداوند یسوؔع مسیح کلی طور پر بدن اَور خون، روح اَور الوہیت سمیت بلکہ ہر صورت میں موجود ہےَ۔

ابتدائی کلیسیا میں ایک صورت میں پاک شراکت کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔

  1. بیماروں کو پاک شراکت دینا۔ بیماروں کو ایک ہی صورت یعنی روٹی کی صورت پاک شراکت دی جاتی تھی۔ آج بھی گھروں میں اَور ہسپتالوں میں بیماروں کو روٹی کی صورت میں پاک شراکت دی جاتی ہےَ۔ اَور پاک شراکت لینے والوں نے کبھی الگ سے خُداوند کے اقدس خون کا تقاضا نہیں کیا۔کیونکہ اُن کا اِیمان ہےَ کہ “مسیح کے بدن” میں خُون بھی شامل ہےَ۔
  2. اِبتدائی مسیحیوں میں مسیحی درویش صحراؤں میں رہتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ عرصے کے لئے روٹی کی صورت پاک شراکت لے جاتے تھے۔ اَور ہر روز ہوستیہ کی صورت میں مسیح کا بدن لیتے ہیں۔اُن کو کبھی شک نہیں گزرا کہ اُن کی زندگی میں پاک شراکت کا عمل پورا نہیں ہُؤ ا اَور نہ ہی کبھی اُنہوں نے مسیح کے بدن کے ساتھ الگ سے “مسیح کے خون” کا تقاضا کیا۔ اِس لئے کہ وہ اپنی اِیمانی تعلیم کو بخوبی جانتے تھے۔
  3. ایذارسانیوں کے دَوران مسیحی قیدیوں کو صرف ایک صورت یعنی روٹی کی صورت پاک شراکت دی جاتی تھی۔ اِس سے وہ اپنے اِیمان اَور اُمید میں مضبوطی اَور تسلی پاتے تھے
  4. پاک صندوق میں جو پاک یوخرست رکھی جاتی ہے۔۔ وہ صرف ایک صورت یعنی روٹی کی صورت رکھی جاتی ہےَ۔ اَور مسیحی وہاں خُداوند کی  حقیقی حضوری پر اِیمان رکھتے ہوئے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔
  5. پاک جمعہ کے روز پاک ماس نہیں ہوتی۔ پاک جمعرات کی رکھی ہوئی پاک شراکت روٹی کی صورت میں اِیمانداروں کو دی جاتی ہےَ۔ کبھی کسی نے اِس پر سوال نہیں اُٹھایا کہ مسیح کا خُون کہاں ہےَ۔

دونوں صورتوں میں پاک شراکت لینے کا تقاضا اِیمان کی کمزوری کی نشانی ہےَ۔ جو انٹرنٹ پر جھوٹے معلموں کی تعلیم کا نتیجہ ہےَ۔ اِس سے پہلے کبھی ہمارے آباؤاجداد نے نہ کبھی ایسا سوچا اَور نہ ہی کبھی ایسا تقاضا کیا تھا۔ ہمارے دَور میں دونوں صورتوں میں پاک شراکت لینے کا تقاضا زور پکڑ رہا ہےَ۔ جو اِیمانی تعلیم کا فقدان ہے۔

پاک شراکت ایک اِیمانی عمل ہےَ۔ پاک یوخرست میں مسیح کی حقیقی موجودگی انسان کی حکمت، منطق اَور دلیل کو چیلنج کرتی ہےَ۔ کیونکہ پاک یوخرست میں مسیح کی حقیقی موجودگی حواس ِ خمسہ کی مرہون ِ منت نہیں ہےَ۔ بلکہ یہ اِیمان کی مرہونِ منت ہےَ۔ ایسا اِیمان جو پاک یوخرست کی ادائیگی کے عمل سے خُداوند یسوؔع مسیح کے اِیمانداروں کے درمیان پروان چڑھتا ہےَ۔ اِس لئے آبائے کلیسیا لگاتار مسیحی اِیمانداروں کو متنبہ کرتے رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی عقل پر بھروسہ کریں گے تو اُنہیں پاک ماس میں صرف “روٹی ” اَور “مے” کے سِوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ اِس لئے وہ اِیمانداروں کو تاکید کرتے ہیں کہ وہ خُداوند یسوؔع مسیح کے  الفاظ کو یاد کریں ۔ جس کے کہنے سے پانی “مے” بن گیا(مقدس یوحنا 2 باب) اَور پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں اِس قدر بہتات میں بڑھ گئیں کہ پانچ ہزار نے کھا کر بچے ہوئے ٹکڑوں کی بارہ ٹوکریاں اُٹھائیں( مقدس متی 14: 13-21)۔ اُسی کے الفاظ کی قدرت سے پاک ماس میں روٹی مسیح کے بدن اَور مے مسیح کے خُون میں تبدیل ہوتے ہیں۔   

پس پاک شراکت کا عمل اِیمان کا عمل ہےَ۔ جب فادرپاک شراکت دیتے ہوئے ہوستیہ دکھا کر کہتا ہےَ کہ ” مسیح کا بدن” تو ہم اپنے اِیمان سے اِس کا جواب دیتےہیں ” آمین”۔ جس کا مطلب ہےَ کہ ہمارا اِیمان ہےَ کہ یہ واقعی مسیح کا بدن ہےَ جو ہم حاصل کرنے کو ہیں۔ اِس لئے اقدس یوخرست کے بھید کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں ۔ پاک شراکت ایک صورت میں دینا ہےَ یا دونوں صورتوں میں دینا یہ کاہن کا صوابدیدی اِختیار ہےَ۔ کوئی اِیماندار فادر کو دونوں صورتوں میں پاک شراکت دینے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ اَور نہ کسی کو کرنا چاہئیے مجلس ٹرنؔٹ نےایسے افراد کو جو  غلط تعلیم کی وجہ سے دونوں صورتوں میں ( بدن اَور خون) پاک شراکت لینے پر اصرار کرتے اَور اپنی بات منوانے پر تلے رہتے ہیں۔ اُن کو ملعون قرار دیا ہےَ۔

Read Previous

سمجھدار گدھا

Read Next

زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو

error: Content is protected !!