انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

دُنیا میں کسی بھی چیزکو لے لیں۔ خالق خُدا نے ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد  رکھاہےَ۔ مقصد بیان کرتا ہےَ کہ وہ کس لِئے بنائی گئی ہےَ۔ مثلاً گھڑی ہی کو لے لیں۔گھڑی وقت دیکھنے کے لئے بنائی گئی ہےَ۔ اِسی طرح قلم لکھنے کے لئے بنایا گیا ہےَ۔ کوئی چیز اُس وقت تک کارآمد ہوتی ہےَ۔ جب تک وہ اپنے  اُس مقصد کو پورا کرتی ہےَ۔ جس کے لئے وہ بنائی گئی ہےَ۔ ایک گھڑی قیمتی ضرور ہوسکتی ہےَ۔ اگر وہ گھڑی وقت نہ بتائے تو اُس کا کیا فائدہ؟ اگر قلم نہ لکھے تو اُس کا کیا فائدہ ؟ بے مقصد چیزوں کو لوگ کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیتے ہیں۔

جب ہم اپنے اِرد گرد نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہےَ کہ دُنیا میں ہر چیز کا کوئی نہ کوئی مقصد ہےَ۔ہم مٹی کو دیکھتے ہیں۔ بُنیاد ی طور پر مِٹی نباتات اَور درختوں کو اُگانے کے لئے بنائی گئی ہےَ۔ ہم مِٹی کے بغیر نباتات، پودوں اَور درختوں کے اُگنے  اَور نشوونماپانے کا تصّور بھی نہیں کرسکتے۔اِس لئے پودوں اَور درختوں کے اُگنے اَور نشوونما پانے کے لئے مِٹی کی اَشد ضرور ت ہےَ۔

جب ہم سبز نباتات اَور پودوں کو دیکھتے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہےَ کہ یہ بھی کسی کے لئے بنائے گئے ہیں۔بنیادی طور پر نباتات اَور پودے جانوروں کے لئے بنائے ہیں۔تاکہ وہ چارہ کھائیں اَور انسان کے کام آئیں تکوین کی کِتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ خُدا نے کہا کہ ” زمین کے سب چرِندوں اَور آسمان کے پِرندوں اَور سب کو جو زِمین پر چلتے اَور زندگی رکھتے ہیں۔ اِن کو میَں سارے سبز پَودے کھانے کو دیتا ہُوں ” (تکوین 1: 30)۔خُدا نے جانور بے مقصد پیدا نہیں کئے۔ جانور جہاں سواری، مال برداری اَور گوشت کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ وہیں کچھ جانور اَورپرندے کرہِ ارض کے ماحول کی صفائی پر مامور ہیں ۔ گدھ، چیلیں اَور کوّے جہاں مُردہ جانور اَور الائشیں کھا کر ماحول سے بد بُو اَور تعفن دُور کرتے ہیں۔ کچھوے پانی کی کثافتیں دُور کرتے ہیں۔ جبکہ چمگادڑ، بگلے ، ہُدہُد، تیتر، بٹیر، اَور چڑیاں زمین سے ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کو چٹ کرماحول کو صاف ستھرہ بناتی ہیں۔

پھر اِنسان کس مقصد کے لِئے بنایا گیا ہےَ؟ کیا ہم دُنیا میں دیکھ سکتے ہیں جس کے لِئے انسان بنایا گیا ہےَ؟دُنیا میں ہم جو بھی چیز دیکھتے ہیں اپنے سے برتر کے لئے بنائی گئی ہےَ۔ مثلاً نباتات، پودے اَور درخت مِٹی سے برتر ہیں۔کیونکہ پودے زندگی رکھتے ہیں۔جبکہ زمین بے جان ہےَ۔جانور پودوں سے برتر ہیں۔کیونکہ یہ نہ صرف زندگی رکھتےہیں۔بلکہ یہ احساس بھی رکھتے ہیں۔جبکہ پودے احساس سے عاری ہیں۔انسان جانوروں سے برتر  اَور افضل ہیں۔کیونکہ انسان نہ صرف زندگی رکھتا ہےَ۔ بلکہ یہ اپنے اندر شعور اَور عقل رکھتا ہےَ۔ اَور انسان سمجھ بوجھ رکھتا ہےَ جبکہ جانور بے سمجھ ہوتے ہیں۔اب اِنسان سے کسی برتر ہستی کو تلاش کرنا چاہئیے۔ جس کے لئے انسان بنایا گیا ہےَ۔

تکوین کی کتاب میں ہم پڑھتے ہیں کہ تمام چیزیں انسان کے لئے خلق کی گئی ہیں۔” اَور خُدا نے اِنسان کو اپنی صُورت پر پَیدا کِیا۔ ۔۔نر و ناری اُن کو پیدا کیا۔ اَور خُدا نے اُنہیں برکت دی  اَور کہا پھلو اَور بڑھو اَور زمین کو معمور و محکوم کرو۔۔۔دیکھو میَں ہر ایک بیج دار نَباتات جو زمین پر ہے َ اَور سارے درخت جن میں اُن کی اپنی قسم کا بیج ہے َ تمہیں دیتا ہوں۔ اَور یہ تمہارے کھانے کو ہوں” (تکوین 1: 27- 29)۔اَور تمام چیزوں کو خلق کرنے کے بعد آخر میں خُدا نے انسان کو بنایا۔انسان چیزوں کے لئے نہیں بنایا گیا۔ بلکہ چیزیں نسان کے لئے بنائی گئی ہیں۔ اِنسان کی زندگی کا مقصد دُنیا میں تمام موجودات سے اعلیٰ اَور افضل ہےَ۔

دُنیا میں انسان سے برتر وجود یا کوئی ہستی دکھائی نہیں دیتی۔اپنے ارد گرد انسان سے برتر ہستی کو تلاش کرتے ہوئےہم اِس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ خُدا ہی انسان سے برتر ہستی ہےَ۔ جس کے لئے انسان بنایا گیا ہےَ۔اُس کا زندگی کا مقصد خُدا کو جانے، اُسے پیار کرے اَوراِس دُنیا میں اُس کی خدمت کرے اَور اگلے جہان میں خُدا کی رفاقت حاصل کرے۔

جس انسان کے سامنے مقصد نہ ہو۔ اُس کی زندگی صرف موت کا سفر رہ جاتی ہےَ۔

Read Previous

انجیلِ مقدس برائے 7 اگست 2020

Read Next

امن کامجسمہ

error: Content is protected !!