لطوریائی نعرے

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

اُس نے ایک تمثیل اُن کے سامنے پیش کر کے کہا۔ آسمان کی بادشاہی اُس آدمی کی مانند ہےَ جس نے اچھا بیج اپنے کھیت میں بویا۔ لیکن جب لوگ سو گئے تو اُس کا دشمن آیا اَور گیہوں میں زوان بو کر چلا گیا۔ جس وقت پتے لگے اَور بالیں نکلیں تب زوان بھی ظاہر ہوا۔ تو گھر کے مالک کے غلاموں نے آکر اُس سے کہا۔ اَے صاحب کیا تو نے کھیت میں اچھا بیج نہ بویا تھا؟ پھر زوان کہاں سے آگیا؟ اُس نے اُن سے کہا دشمن نے یہ کیا ہےَ ( مقدس متی 13: 24- 27)۔

نعرہ کے معنی ہیں بلندآواز سے پکارنا۔ نعرے ہماری زندگی کا حصّہ ہیں۔ نعروں کے ذریعے ہم اپنی باطنی کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر ہماری کلیسیا میں کچھ نعرے ایسے داخل ہو چکے ہیں۔ جو ہماری مسیحی زندگی اَور اِیمان کا حصّہ نہیں ہیں۔ مثلاً کھجوروں کے اتوار کو ” ہوشعنا” کا نعرہ لگانے کی بجائے۔ بار بار یہ نعرہ لگایا جاتا ہےَ کہ ” یسُوؔع مسیح دی جے ، یسُوؔع بادشاہ کی جے”۔ مقدسہ مرؔیم کی زیارت اَور مقدسہ مریم کی خاص عیدوں کے موقعوں پر ” ماں مریم دی جے”۔ پاشکائی  شبِ بیداری کی عبادت کے اختتام پر ” ہلَلِویاہ کی بجائے” نعرہ تثلیث” لگایا جاتا ہےَ۔

لفظ ” جے ” ہندی زبان کا لفظ ہےَ۔ جب بھارتی ” جے ہند ” بولتے ہیں۔ تو اِس سے مراد ” ہندوستان زندہ باد” یعنی ہندوستان سلامت رہےَ۔ اِسی طرح ہم” پاکستان زندہ باد” کا نعرہ لگاتے ہیں جو ہماری حُب الوطنی کو ظاہر کرتا ہےَ۔ یہ وطن کے لئے دُعا ہےَ۔ اگر جے کو دُعا کے معنوں میں لیا جائے۔ تو وہ پھر ہمارے خُداوند اَور مقدسہ ماں مریم کو ہماری دعاؤں کی ضرورت نہیں۔ اگر جے کو تعریف کے معنی میں لیا جائے ۔ تو اِس کا مطلب ہےَ کہ یہ ہَللِویاہ کا متبادل ہےَ۔ مگر جے وہی مفہوم نہیں دیتا جو ہلَلِویاہ کا ہےَ۔ ہلَلِویاہ کے معنی ہیں” خُداوند کی تعریف ہو”۔

جموں کے نزدیک ایک ہندو دیوی کا مندر ہےَ۔ جب ہندویاتری اپنی دیوی کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو وہ ورد کرتے جاتے ہیں۔جے ماتا دی”۔ اِسی طرح ہمارے مسیحی مقدسہ مرؔیم کی زیارت اَور عیدوں پر” جے مریم دی” کے نعرے لگاتے ہیں۔ ایسے موقع پر ہمیں نعرے لگانے کی بجائے اقدس روزری پڑھنی چاہئیے۔ اگر ” ماں مریم دی جے” اور” یسُؔوع دی جے” کو فتح کے مفہوم میں لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہےَ کہ وہ تو غالب آچکا ہےَ۔ اب تو ہمیں ہَللِویاہ کا نعرہ لگانے کی ضرورت ہےَ۔” اَے موت تری فتح کہاں رہی؟ اَے موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟” اُس نے گناہ  اَور موت کو شکست دی ہےَ۔ ( 1۔ قرنتیوں 15: 57)۔ مکاشفہ کی کتاب میں لکھا ہےَ کہ” اِن باتوں کے بعد میَں نے آسمان پر گویا بڑی جماعت کی آواز یہ کہتی ہوئی سنی کہ ” ہلَلِویاہ۔ نجات اَور جلال اَور قدرت ہمارے خُدا ہی کی ہیں” ( مکاشفہ 19: 1)۔ اَب کونسی بڑی جنگ ہےَ جو اُسے جیتنا ہےَ؟ یہ بھی سوچنے کی بات ہےَ کہ جو زبان ہم استعمال کر رہے ہیں۔ اِس کو ہم سے بچھڑے تقریباً 73برس کا عرصہ کا چکا ہےَ۔ پھر کیوں اُس زبان کے الفاظ استعمال کریں جن سے ہمارے لوگ نا واقف ہیں۔ نعرہِ تثلیث ایک اَور نعرہ ہےَ۔ جو حالیہ برسوں میں عبادت میں متعارف کروایا گیا ہےَ۔ ہمارے مسیحی اِس نعرے سے نا واقف ہیں۔ جب یہ نعرہ لگایا جاتا ہےَ تو جماعت کے منہ سے مطلوبہ جواب نکلنے کی بجائے کچھ اَور ہی نکل جاتا ہےَ۔ اِس لئے وہی لطوریائی نعرے استعمال کرنے کی ضرورت ہےَ جو کلام ِ مقدس میں پائے جاتے ہیں۔ اَور جو عالمگیر کلیسیا میں مقبول ہوچکی ہیں۔

Read Previous

کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔

error: Content is protected !!