کیا دِہ یکی دینا مسیحیوں پر فرض ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

لوگ پوچھتے ہیں کہ کیادِہ یکی دینا مسیحیوں پر فرض ہےَ؟ بالکل نہیں۔ آمدنی اَور پیداوار کا دسواں حصّہ جو خُدا کے لئے وقف کیا جا تاہَے۔دہ یکی کہلاتا ہَے۔ابراہیمؔ نے اپنی سب چیزوں کا دسواں حصّہ مَلکی صادِق شاؔلیم  کاہن کو دے دیا( تکوین 14: 18-20)۔ عہدِ عتیق میں دہ یکی دو باتوں کا اِعتراف تھا۔ کہ ساری زمین اَور اِس کی پیداوار کا  اصل مالک  خُداوند ہَے اَور جو برکات ہم نے خُدا سے پائی ہیں۔ دَہ یکی اُن برکات کی شُکرگزاری کا نشان ہَے۔ ابراہیمؔ نے خُدا سے وعدہ کیا تھا کہ جو تو مجھے دے گا۔ میَں ضرور ہی تجھے دسواں حصّہ دِیاکروں گا( تکوین 27:22)۔

دَہ یکی ہیکل میں لاویوں کی خدمت کے معاوضے کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔کلام ِ مقدس میں لکھا ہَے کہ” خُداوند نے ہاروؔن سے فرمایا کہ تُو اُن کے مُلک میں میراث نہ لے۔ اَور نہ اُن کے درمیان تیرا حصّہ ہوگا۔ کیونکہ بنی اسرائیلؔ کے درمیان تیرا حصّہ اَور تیری میراث میَں ہُوں۔لیکن بنی لاوی کے لِئے اُس خدمت کے واسطے جو وہ حُضُوری کے خیمہ میں کریں گے ۔ میَں نے بنی اسرائیلؔ کی سب دَہ یکیاں میراث کردی ہیں”( عدد 18: 20-21)۔ دَہ یکی ہیکل میں خدمت کرنے والے کاہنوں اَور اُن کے خاندانوں کی کفالت کے لِئے استعمال ہوتی تھی۔ ۔

خُداوند یسوؔع مسیح نے دَہ یکی کے بارےمیں فقیہوں اَور فریسیوں ملامت کی۔کیونکہ وہ  صرف شرعی تقاضے پورے کرتے تھے ۔ وہ دَہ یکی کے بارے میں حُکم کی پابندی کرتے ہوئے ، سونف پودینہ جیسی چھوٹی چھوٹی چیزوں پر تو دَہ یکی  دیتے تھے۔مگر انصاف اَوررحم  جیسی ضروری باتوں کونظر انداز کرتے تھے ( مقدس متی 23: 23)۔ اِس لِئے خُداوند نے اُن کی مذمت کی۔

عہد ِ جد میں خُداوند یسوؔع مسیح نے کبھی بھی دَہ یکی دینے کا حُکم نہیں دیا۔اَور نہ ہی  رسولوں اَور اُن کے جانشینوں نے کبھی دَہ یکی کا مطالبہ کیا۔ اِبتدائی مسیحیوں کا بھی یہی نظریہ تھا کہ دَہ یکی عہدِ عتیق کا تقاضا  تھا۔اَب مسیحی عہد ِ عتیق کے تقاضوں سے آزاد ہیں ۔”مقدس پولوؔس رسول دَہ یکی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ “جب کہانت بدل گئی تو شریعت کا بدلنا بھی ضرور ہَے”( عبرانیوں 7: 12)۔ نئے عہد کے کاہن دَہ یکیوں کا مطالبہ نہیں کرتے۔بعض پاسبانوں کی طرف سے دہ یکی پر حد سےزیادہ زور دیا جاتا ہے َ۔ بار بار دَہ یکی کا مطالبہ کرنا اَور دَہ یکی کے  نام پر پیسہ بنانا اَور پھر اِس پیسے کا ناجائز استعمال کرنا غلط ہےَ۔ یاد رکھیں جہاں خُدا کے کلام کی خدمت میں پیسہ آجاتا ہےَ۔خدمت وہیں رُک جاتی ہےَ۔اَور دولت کی دیوی کی پوجا شروع ہو جاتی ہےَ۔

وہ جو دَہ یکی دے کر “ازروئے شریعت صادق ٹھہرنا چاہتے ہیں۔ وہ مسیح سے جُدا اَور فضل سے محروم ہو جاتے ہیں( ملاحظہ ہو غلاطیوں 5: 4)۔ اُن کا کہنا تھا کہ مسیحی دینے میں آزاد ہیں۔ اِس لئے دَہ یکی مسیحیوں پر فرض نہیں ہے َ۔ وہ جتنا چاہیں اپنی توفیق کے مطابق دے سکتے ہیں۔دَہ یکی دینے میں کوئی حرج نہیں ہَے۔ جو دینا چاہے ۔وہ دے سکتا ہے َ۔

اِس لِئے مسیحیوں کو شریعت سے قائل ہو کر نہیں بلکہ خُدا کی محبت سے سرشار ہو کر دینے کی تلقین کی گئی ہےَ۔جو کچھ خُدا سے ہم نے پایا ہَے۔ ہم اُس میں سے  خُدا کودیتے ہیں۔بعض اوقات ہم شریعت  کے تقاضے سے  بڑھ کر بھی دے سکتے ہیں۔ یعنی دسویں حصّے سے بھی زیادہ  خُداوند کو دے سکتے ہیں۔دینے میں روحانی برکات  اَور مادی برکات دونوں کی شُکرگزاری کا عنصر شامل ہوتا ہَے ۔ہر روز خُداوند ہمیں  زندگی کے چوبیس گھنٹے  دیتا ہےَ۔غور کریں کہ ہم  اِن چوبیس گھنٹوں میں  سے کتنا وقت خُداوند اَور خُداوند کے کاموں کو دیت ہیں؟ اگر وقت کا  دسواں حصّہ دیکھیں تو یہ دو گھنٹے چالیس منٹ بنتا ہےَ۔ ذرا غور کریں کہ ہم اپنی زندگی کے چوبیس گھنٹوں میں سے کتنے گھنٹے خُداوند کو دیتے ہیں؟کتنا وقت دوستوں کو دیتے ہیں؟ ذرا موازنہ کریں۔دَہ یکیاں اَور چندہ دینا “چندے کی ٹوکری” کی حد تک ہی نہیں ہےَ۔اَور جو کچھ ہم خُداوند کو دیتے ہیں ۔ اِس میں بہت کچھ شامل ہوتا ہے َ۔ خُدا نے ہمیں صلاحتیں دی ہیں( پانچ قنطاروں کی تمثیل 25: 14-30)۔ کیا ہم اپنی صلاحیتیں خُداوند کی خدمت کے لئے استعمال کرتے ہیں؟  ہمارادینا خوشی کا عمل ہونا چاہئیے۔

پس ” ہر ایک جس طرح اُس نے اپنے دِل میں ٹھہرایا ہَے  اُسی طرح دے ۔ نہ غمگینی سے اَور نہ ناچاری سے ۔ کیونکہ خُدا خوشی سے دینے والے کو پیار کرتا ہَے” ( 2-قرنتیوں 9: 7)۔

Read Previous

انجیل ِ مقدس برائے 28 جولائی 2020

Read Next

پاک ماس میں مسیح کا خُون کیوں نہیں دیا جاتا؟

error: Content is protected !!