ہگیا صوفیہ چرچ سے مسجد، مسجد سے میوزیم اَور میوزیم سے مسجد

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

آج کل میڈیا میں ہگیا صوفیہ کا کافی ذ کر ہو رہا ہےَ۔ جسے 900 برس تک چرچ ، 500 برس تک مسجد اَور 86 برس تک میوزیم  رہنے کے بعد ترکی کے صدر کے حُکم پر  مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔  10 جولائی 2020 کو ترکی کے صدر نے ایک صدارتی حُکم جاری کیا۔جس سے ہگیا صوفیہ کے میوزیم کی حثییت  ختم کر دی گئی۔

ہگیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے اِس فیصلے سے نہ صرف دُنیا ئے مسیحیت میں مایوسی پھیلی ہےَ۔ بلکہ عالمی رہنماؤں اَور مسلمان دانشوروں نے بھی اِس فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا ہےَ۔ پوپ فرانسس نے اِس پر دکھ کا اظہار کیا۔ ترکی کے صدر نے  اپنے فیصلے سے نہ صرف جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا۔ بلکہ  ایک مسلمان حُکمران ہوتے ہوئے  1400برس پہلے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے مسیحیوں کے ساتھ کئے گئے عہدنامہ  کو بھی پامال کیا۔ یہ عہدنامہ 628 خ س میں حضرت محمد ﷺ کی طرف سے لکھا گیا تھا۔ اِس تاریخی عہدنامے کی دستاویز کوہ سیناؔ کے دامن میں سینٹ کیتھرین راہب خانے میں موجود ہےَ۔ اِس دستاویز میں حضرت محمد ﷺنے مسیحیوں کو تحفظ اَور عبادت گاہوں کے احترام کی ضمانت دی تھی۔ اِس دستاویز کا متن کچھ یوں ہےَ:

“یہ محمد ﷺ ابن عبد اللہ کا پیغام ہے، بطور معاہدہ، دور و نزدیک کے عیسائیوں کے نام۔ بیشک میں، میرے ساتھی اور میرے پیروکار ان کا دفاع کرتے ہیں، کیونکہ عیسائی میری رعایا ہیں اور خدا کی قسم میں انہیں ناخوش کرنے والی ہر بات کے خلاف ہوں۔ ان پر کوئی جبر نہیں۔ ان کے منصفین کو ان کے عہدوں سے ہٹایا نہیں جائے گا اور نہ ہی ان کے راہبوں کو ان کی خانقاہوں سے نکالا جائے گا۔ کوئی بھی ان کی عبادت گاہوں کو تباہ نہیں کرے گا، نقصان نہیں پہنچائے گا، اور نہ ہی یہاں سے کوئی چیز اٹھا لے جائے گا۔ ان میں سے کسی بھی اقدام کا مرتکب ہونے والا خدا کے معاہدے کو توڑے گا اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا۔ بے شک یہ میرے اتحادی ہیں اور میری نصرت رکھتے ہیں ان باتوں کے خلاف جو انہیں ناخوش کریں۔ انہیں سفر یا جنگ پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ان کی جگہ مسلمان لڑیں گے۔ اگر کوئی مسلمان کسی عیسائی خاتون سے عقد کرنا چاہے تو یہ خاتون کی اجازت کے بغیر ناہوگا۔ اسے اپنی عبادت گاہ میں جاکر عبادت کرنے سے روکا نہیں جائے گا۔ ان کی عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے گا۔ میرا کوئی بھی امتی روز قیامت تک اس معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے”۔اِس تاریخی دستاویز کے نیچے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دستِ مُبارک کا نقش ہےَ۔ یہ نقش آپ کے دستخط کی حیثیت رکھتا ہےَ۔

اب دُنیا خود اِس مسُلم حُکمران کے فیصلے کا انصاف کرے گی کہ آیا اِس نے ہگیا صوفیہ کی حیثیت کو تبدیل کرکے پیغمبر اسلام کے معاہدے کی خلاف ورزی کرکے نافرمانی کا مرتکب ہُؤا ہےَ یا نہیں؟ وہ جو ترکی کے صدر کے اِس فیصلے کی حمایت کرتے اَور خوشی کے شادیانے بجاتے ہیں۔ کیا وہ حضرت محمد ﷺ کے اُمتی کہلانے کے حقدار ہیں؟

ہگیا صوفیہ دُنیا کی چار بڑی گُنبد نما عمارتوں میں سے ایک ہےَ۔ جو تقریباً 900 سال تک کتھیڈرل رہی۔ 30نومبر 2006 سے پہلے اکثر لوگ اِس کی مسیحی شناخت سے بے خبر تھے۔ 30 نومبر 2006 کو جب پوپ بیناڈکٹ سولہویں نے ترکی کا دَورہ کیا۔ تب سے ہگیا صوفیہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ پوپ بینا ڈکٹ سولہویں کے دَورے کے دَوران اکثر خبر رساں ادارے اِس تاریخی عمارت کو  اِس کے ترکی نام “آیا صوفیہ” کے نام سے پکارتے تھے۔اِس کا یونانی نام “ہگیا صوفیہ”ہےَ۔ اِس کا اصل لاطینی نام “سانکتا صوفیہ” ہےَ۔ “سانکتا” اَور “ہگیا” دونوں کے معنی “مقدسہ” کے ہیں۔یونانی بائیبل میں “صوفیہ” حِکمت کو کہتے ہیں۔ ہگیا صوفیہ کو لوگ  اِبتدائی صدیوں میں سولہ منزلہ “بڑا چرچ” کہتے تھےیہ 900 سال تک کرہِ ارض پر   دُنیا کاسب سے “بڑا چرچ” تھا۔

ہگیا صوفیہ کی تعمیر

سن 306 میں قسطنطینؔ اوّل رومی سلطنت کا شہنشاہ بنا۔ تو  اُس نے رومی سلطنت کو دو حصّوں میں تقسیم کردیا۔سلطنت کا مشرقی حصّہ بزنطینی سلطنت کہلاتا تھا۔ اُس نے ایشائے کوچک ( موجودہ ترکی) میں بزنطینہ کواپنا دارلخلافہ بنایا۔اَور اِسے اپنے نام پر “قسطنطنیہؔ” کا نام دیا۔313 میں قسطنطین ؔ نے فرمان میلانؔ جاری کیا۔ جس کے تحت سلطنت میں مذہبی آزادی دی گئی۔ مسیحی جو تین صدیوں تک رومی سلطنت کا ظلم و ستم سہتے رہے۔ اَب وہ  پہلی دفعہ آزادی کےساتھ اپنی عبادت کرسکتے تھے۔اَور اپنے گرجا گھر تعمیر کرسکتے تھے۔

شہنشاہ قسطنطینؔ نے  اپنے نئے دارلخلافہ میں ہگیا صوفیہ چرچ کے ساتھ دیگر گرجا گھروں  کی تعمیر کا حُکم دیا۔ہگیا صوفیہ چرچ کو تعمیر ہوئے ابھی پچاس سال گزرے تھے کہ فسادیوں نے اِس کو آگ لگا دی۔ اَور یہ گرجا گھر جل کر راکھ ہوگیا۔ چھٹی صدی میں شہنشاہ جسٹینؔین اوّل نے ہگیا صوفیہ کو دوبارہ تعمیر  کرنے کے احکامات جاری کئے۔ اَور حُکم دیا کہ ایک عالی شان گرجا گھر بنایا جائے۔اَور ماہرین تعمیرات اَور معماروں کو 102 فٹ  قطرکا گُنبد اُٹھانے کا حُکم دیا۔جب اِس گرجا گھر کی رسمِ مخصوصیت ہوئی۔ تو شہنشاہ جسٹینین ؔ نے عالی شان عمارت کو دیکھ کر ہیکل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا”سلیمانؔ میں تم پر بازی لے گیا ہوں”۔

زائرین

ہگیا صوفیہ کے بارے میں چھٹی صدی کے مسیحیوں کی روایت بتاتی ہےَ۔ کہ جب ماہرِ  ینِ تعمیرات اَور معماروں نے جسٹینین ؔ کو عمارت کا معائنہ کرنے کے لئے بُلایا تو اُس روز اُس کی طبعیت ناساز تھی۔وہ گرجا گھر آیا اَوراُس نے تھوڑا چل پھر کر اِسے دیکھا۔وہ بہت تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ وہ سنگِ مرمر کے ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔ پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہو کر چلنے لگا۔ تو اُس نے خود کو بہتر محسوس کیا۔اَورصحت یاب ہوگیا۔ اُس کایقین تھا کہ اُس نے اِس ستون کے ساتھ ٹیک لگانے سے شفاء پائی ہےَ۔ ہگیا صوفیہ کی تعمیر کرنے والے مزدوروں نے یہ خبر پھیلا دی۔شہر سے لوگ جوق در جوق اِس ستون کے پاس دُعا کرنے اَور شفا پانے کے لئے آنے لگے۔اَور یہ  ستون مقامی مسیحیوں کے لئے  “زیارت کا ستون ” بن گیا۔پاک ماس کے دَوران بھی اِس ستون کے ساتھ ٹیک لگانے والے اَور شفا پانے والے زائرین کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ چرچ انتظامیہ نے یہ دیکھتے ہوئے۔ گرجا گھر کے اِس ستون کو فولادی چادر چڑھا دی تاکہ لوگ اِس ستون کے پاس قطار لگا کر کھڑے نہ رہیں۔ پھر بھی زائرین اِس ستون کو ہاتھ لگانے سے باز نہ آتے تھے۔ حتیٰ کہ اُنہوں نے چُھو چُھو کر اِس فولادی چادر میں بھی سوراخ کردیا ہےَ۔ اکثر زائرین آکر اِس ستون کو چھونے کی کوشش کرتے اَور شفا پاتے تھے۔

اب جب بھی مسیحی زائرین تُرکی میں اِس تاریخی عمارت کی زیارت کے لئے جایا کریں گے تو یہودیوں کی طرح اِس عمارت کے ماضی کو یاد کرکے آہ و زاری کیا کریں گے۔ جس طرح وہ یروشلیم میں ہیکل کی دیوارِ گریہ زاری کے پاس جا کر آہ و زاری کرتے ہیں۔

Read Previous

سال کے عام ایّام کےدَوران اٹھارھواں اتوار

Read Next

انجیل مقدس برائے 3 اگست 2020

error: Content is protected !!