کنویں کے مینڈک

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہےَ کہ ایک شخص سمندر سے ایک مچھلی پکڑ لایا۔ اُس نے اُسے کنویں میں ڈال دیا۔ اِس کنویں میں مینڈکوں کی اپنی ہی حکومت تھی۔ جب مینڈکوں نے اپنے درمیان مچھلی کو دیکھا تو نہایت گھبرائے۔ اَور ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہےَ۔ ایک مینڈک نے باقی مینڈکوں سے کہا۔ ٹھہرو میں معلوم کرکے آتا ہوں۔ وہ دلیری پکڑ کر مچھلی کے قریب گیا۔ اَور پوچھا تُم کون ہو؟ مچھلی نے جواب دیا کہ” میَں مچھلی ہوں”۔ مینڈک نے دوسرا سوال پوچھا” تم کہاں سے آئی ہو؟” مچھلی نے مینڈک سے کہا” جناب میَں سمندر سے آئی ہوں” ۔ مینڈک نے حیرانگی سے پوچھا ” وہ سمندر کیا ہوتا ہے؟” مچھلی نے جواب دیا” وہ کنویں کی طرح پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہوتا ہے”۔ مینڈک سوچ میں پڑگیا کہ سمندر کتنا بڑا ہوگا۔ اُس نے پانی میں ایک چھوٹا گھول چکر کاٹا اَور مچھلی سے پوچھا کیا سمندر اتنا بڑا ہوتا ہےَ؟ مچھلی مسکرائی اَور نفی میں سرہلاتے ہوئے بولی” نا بھیا سمندر اِس سے بھی کہیں بڑا ہوتا ہےَ ۔ مینڈک بڑا حیران ہُؤا۔ پھر تھوڑی دیر سوچ کر اُس نے کنویں کی دیواروں کے ساتھ ایک پورا چکر کاٹا اَور پھر مچھلی سے پوچھا” کیا سمندر اِس سے بھی بڑا ہوتا ہے؟”۔ مچھلی نے نفی میں سرہلایا اَور کہا” جناب سمندر آپ کی سوچ سے بھی کہیں بڑا ہوتا ہےَ۔ وہ اتنا بڑا ہوتا ہےَ کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ سمندر میں لاکھوں بڑے بڑے آبی جاندار رہتے ہیں”۔ مینڈک نے حیرانگی سے پھر پوچھا” کیا سمندر میں مینڈک بھی ہوتے ہیں”۔ مچھلی نے پھر نفی میں سر ہلایا اَور کہا کہ ” مینڈک کھارے پانی میں رہ نہیں سکتے۔ اِس لئے وہ سمندر میں نہیں ہوتے”۔اِس پر مینڈک نے طنزیہ قہقہ لگایا اَور کہا کہ “میَں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ سمندر ہمارے اِس کنویں سے بڑا ہو ہی نہیں سکتا”۔ اُس نے اپنے دوسرے مینڈک ساتھیوں کو بھی آواز دی۔ وہ سب اکٹھے ہوگئے۔ مینڈک نے اپنے ساتھیوں سے کہا”دیکھو مچھلی کتنی جھوٹی ہےَ ۔ یہ کہہ رہی ہےَ کہ سمندر ہمارے کنویں سے بڑا ہےَ”۔ اِس پر دوسرے مینڈک بھی پہلے مینڈک کا ساتھ دینے لگے۔ اَور طنزیہ قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم مان ہی نہیں سکتے کہ سمندر ہمارے کنویں سے بڑا ہوسکتا۔ مچھلی نے مینڈکوں سے کہا۔ “جناب اِس میں تمہارا کوئی قصُور نہیں۔ تمہاری سوچ اِس کنویں تک محدود ہے۔ تم اِس کنویں سے باہر کی دُنیا تصّور بھی نہیں کرسکتے”۔ بعض تنگ نظر لوگوں کی پارسائی کا بھی یہی حال ہےَ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن جیسا راستباز کوئی نہیں ہےَ۔

Read Previous

قربانی کا گوشت

Read Next

سال کے عام ایّام کےدَوران اٹھارھواں اتوار

error: Content is protected !!