ابنِ خُدا اَور ابنِ انسان میں کیا فرق ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

عہدِ جدید میں “ابن ِ خُدا “اَور “ابن اِنسان”کی اصطلاحیں  خُداوند یسوؔع مسیح کو ” حقیقی خُدا” اَور ” حقیقی انسان” ظاہر کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہیں۔ خُداوند یسوؔع مسیح “ابنِ خُدا” کا لقب استعمال کرنے سے خُدا باپ سے ایک خاص رشتہ اَور تعلق ظاہر کرتے تھے۔باپ اَور بیٹے کا تعلق ازلی اَور اَبدی ہےَ۔ مقدس یوحناؔ رسول  لکھتےہیں کہ ” اِبتدا میں کلمہ تھا۔ کلمہ خُدا کے ساتھ تھا اَور کلمہ خُدا تھا”( مقدس یوحنا 1:1)۔

ابن خُدا کی اصطلاح اِس حقیقت کی طرف اِشارہ کرتی ہے َ کہ یسوؔع  کنواری مریم ؔ سے انسان کی صورت میں پیدا ہُؤا۔مگر وہ حقیقی خُدا ہےَ۔ جبرائیلؔ فرشتے نے مقدسہ مریمؔ کو اپنے پیغام میں کہا تھا کہ “وہ قُدّوس مولُود خُدا کا بیٹا ” کہلائے گا( مقدس لوقا 1: 35)۔ مقدس پطؔرس نے قیصریہؔ فیلپی کے علاقے میں خُداوند یسوؔ ع مسیح کے ” ابن ِ خُدا ” ہونے کا اِقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” تو المسیح ہےَ زِندہ خُدا کا بیٹا” ( مقدس متی 16: 16)۔ ابن ِ خُدا کی اصطلاح خُداوند یسوعؔ مسیح کی الوہیت  کو ظاہر کرتی ہے َ۔خُداوند یسوؔع مسیح کے لقب ” ابن ِ خُدا” استعمال کرنے پر کاہن ِ اعظم نے اپنے کپڑے پھاڑے تھے( مقدس متی 26: 63 -65)۔ مقدس مرقس ؔ انجیل کو قلمبند کرتے ہوئےانجیل کے تعارف میں لکھتا ہےَ کہ ” یسوؔع مسیح ابن ِ خُدا کی انجیل کا شروع”۔

ابن ِ انسان کالقب خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنے لئے استعمال کیا۔یہ لقب صرف اُنہی کی زبان سے اَدا ہُؤا ۔کسی انجیل نویس یا رسول  یا اِبتدائی مسیحی مصنف نے یہ لقب اپنی تصانیف میں استعمال نہیں کیا۔جب  کبھی اُنہوں نے خُداوند یسوؔع مسیح کے مُنہ سے نکلے ہوئے الفاظ  کوبیان کیا ۔ تواُس میں اِس لقب کا ذکر آتا ہےَ۔رسولوں کے اعمال میں صرف ایک دفعہ پہلے مسیحی شہید مقدس استیفانس ؔ نے یہ لقب استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” دیکھو میَں آسمان کو کھلا اَور ابن ِ انسان کو خُدا کے دہنے ہاتھ کھڑا دیکھتا ہُوں ” ( رسولوں کے اعمال 7: 56)۔ ابن ِ انسان کا لقب خُداوند یسوؔع مسیح کی انسانی ذات کی طرف اِشارہ کرتا ہے َ۔وہ الٰہی ذات جو اِنسان کی نجات کی خاطر آسمان سے زمین پر اُتر آئی۔اکثر خُداوند یسوؔع مسیح  “ابن اِنسان ” کا لقب استعمال کرتے تھے۔کیونکہ لوگ اُنہیں انسان ہی  سمجھتے تھے۔ اِسی حقیقت کے پیش نظر خُداوند یسوؔع مسیح نے کے قیصریہ فیلپیؔ کے علاقے میں اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ “لوگ ابن ِ اِنسان ” کو کیا کہتے ہیں؟ ( مقدس متی 16: 13 )۔فقہیوں اَور فریسیوں کو خُداوند یسوؔع مسیح کے خود کو “ابن ِ انسان ” کہنے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ وہ یہ سُننا گوارہ نہیں کرتے تھے کہ وہ اپنے لئے لقب ” ابن خُدا ” استعمال کرے۔ یہ اُن کے نزدیک کفرگوئی تھی۔ اَور اِس پر کاہن ِ اعظم نے اپنے کپڑے پھاڑے( مقدس مرقس 14: 63-64)۔

خُداوند یسوؔع مسیح کے یہ دونوں القاب ” ابن ِ خُدا ” اَور ” ابن ِ انسان” خُداوند یسوؔع مسیح کی دو ذات یعنی “حقیقی خُدا” اَور “حقیقی اِنسان” کو ظاہر کرتے ہیں۔ الہی رحم کی تصویر میں نیلے اَور سُرخ رنگ کی دو کرنیں پھوٹتی ہوئی دکھائی جاتی ہیں ۔ نیلا رنگ اُس کی الوہیت اَور سُرخ رنگ اُس کی انسانیت کو ظاہر کرتا ہے َ۔ کلیسیا نقایہ ؔ کے عقیدے میں اپنے اِس اِیمان کا اقرار کرتی ہےَ کہ ” ( یسوؔع مسیح )۔۔۔جو خُدا کا اکلوتا متولد بیٹا ہےَ۔سب زمانوں سے پیشتر باپ سے پیدا ہُؤا۔ وہ خُدا سے خُدا ، نور سے نور ، سچے خُدا سے سچا خُدا ہےَ”۔

Read Previous

مقدسہ مریمؔ کے دوپٹے کا رنگ نیلا کیوں ہوتا ہےَ؟

Read Next

کیا مقدسہ مریمؔ کا کردار مسیح کی پیدائش کے ساتھ ختم ہوگیا؟

error: Content is protected !!