سولی اَور صلیب میں کیا فرق ہےَ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔
John 19 - The Crucifixion of Jesus

ہمارے اکثر مسیحی شاعر مسیحی گیتوں میں صلیب کی جگہ لفظ سولی استعمال کرتے ہیں۔ یہ لفظ ہماری  مسیحی الہیات کی زبان میں کیسے داخل ہُؤا۔ اِس کے بارے میں وثوق کے ساتھ تو کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ یہ بات واضح ہےَ کہ اِسے مشنریوں نے اپنی تعلیم میں استعمال نہیں کیا۔ یہ زوان ہمارے اپنے ہی مقامی لوگوں کو بویا ہُؤا ہےَ۔

اگر اُردو لُغت میں لفظ سولی کے معنی دیکھے جائیں تو سولی کے معنی ” پھانسی” کے ہیں۔ بائیبل مقدس میں ہم پڑھتے ہیں کہ مردکائیؔ جو کہ ملکہ استیرؔ کا چچا زاد بھائی تھا۔ جب اُسے پہریداروں کی سازش کا علم ہُؤا تو اُس نے ملکہ کو بتایا اَور ملکہ نے بادشاہ کو خبردی ۔ جب معاملہ کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ واقعی پہریداروں نے بادشاہ کو مارنے کی سازش تیار کی تھی۔ تو اِس جُرم میں دونوں پہریدار “درخت پر لٹکائے گئے”( استیر 2: 23)۔

ہاماؔن فارسؔ کے بادشاہ اَحش ویروشؔ کا وزیرِ اعظم تھا۔ جب مرد کائیؔ نے ہاماؔن کے سامنے جُھکنے سے اِنکار کیا تو ہاماؔن نے انتقام لینے کا منصوبہ بنایا  کہ مردکائیؔ کو پچاس ہاتھ اونچی پھانسی پر لٹکایا جائے( استیر5: 14)۔ کاتھولک بائیبل میں اِس کا ترجمہ پھانسی کیا گیا ہےَ۔ جبکہ پروٹسٹنٹ بائیبل میں اِس کے لئے لفظ سولی استعمال کیا گیا ہےَ۔

مردکائیؔ کے سیاق و سباق میں سولی یا پھانسی کی سزا قدیم فارسؔ میں متعارف کروائی گئی تھی۔ دراصل یہ سزائے موت تھی۔ سولی چڑھانے کا طریقہ صلیب دینے سے بالکل مختلف تھا۔ فارسؔ میں باغیوں اَور خطرناک مجرموں کو پھانسی دی جاتی تھی۔اُنہیں درخت یا لکڑی کے کھمبوں کے ساتھ کیلوں سے جڑ دیا جاتا تھا۔ سزا دینے کا یہ طریقہ انتہائی دردناک ہوتا تھا۔ مجرم آہستہ آہستہ بھوک پیاس اَور درد کی شدت سے سسک سسک کر مرتا تھا۔ اَور مرنے کے بعد لاش کو پھانسی پر چھوڑ دیا جاتا تھا تاکہ پرندے نوچ نوچ کر اُن کی لاشوں کو کھاجائیں۔ سزا دینے کا یہ طریقہ دوسروں کے لئے باعث ِ عبرت سمجھا جاتا تھا۔

عہدِ عتیق میں صلیب کی سزا کا ذکر موجود نہیں ہےَ۔ صلیب دینے کی سزا رومیوں نے متعارف کروائی تھی۔ سولی یا پھانسی کے برعکس صلیب لکڑی کے دو شہتیروں کو جوڑ کر بنائی جاتی تھی۔ عام طور پر یہ سزا حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو دی جاتی تھی۔ تاکہ آئندہ کوئی شہری حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے کا حوصلہ نہ کرے۔ مجرم پر مقدمہ چلایا جاتا تھا۔ پھر اُسے سزائے موت سنائی جاتی تھی۔ اَور مجرم کو اپنی صلیب اُٹھا کر اُس مقام تک جانا ہوتا تھا جہاں اُسے صلیب دینا مقصود ہوتی تھی۔ صلیب دینے سے پہلے مجرم کے کپڑے اُتارے جاتے تھے۔ پھر مجرم کو صلیب پر لٹا کر اُسے بازو پھیلائے جاتے تھے۔پھر ہاتھ اَور پاؤں میں کیل گاڑے جاتے تھے۔ صلیب کو عمودی انداز میں زمین میں گاڑا جاتا تھا۔ صلیب پر مجرم کا جُرم لکھ کر لگایا جاتا تھا۔ تاکہ راہ چلتے لوگوں کو معلوم ہو کہ اُس شخص نے کیا جُرم کیا ہےَ۔

Crucifixion As Capital Punishment | Curious Historian

صلیب کی سزا انتہائی خوفناک اَور دردناک ہوتی تھی۔ صلیب پر مصلو ب کو سانس لینا دشوار ہوتا تھا۔ اَور مصلوب کے خُون کا ایک ایک قطرہ اُس کی شریانوں سے ٹپک رہا ہوتا تھا۔ جسم سے خون کے بہنے سے مصلوب کو شدید پیاس لگتی تھی۔ اَور وہ پانی کے لئے چلاتا تھا۔ مصلوب کئی دِن تک صلیب پر لٹکا رہتا تھا۔ لاشوں کو صلیب پر سے اُتارا نہیں جاتا تھا۔ گدھ اَور چیلیں مصلوب کا گوشت نوچتی تھیں۔ تصلیب کا منظر دیکھنے والوں کے لئے عبرتناک ہوتا تھا۔

سولی یا پھانسی  کی سزاعہدِ عتیق کے زمانے میں استعمال ہوتی تھی۔اَو ر سولی یا پھانسی لکڑی کا ایک شہتیر یا ستون یا کھمبا ہوتا تھا۔جبکہ صلیب عہدِ جدید کے زمانے میں پائی جاتی تھی۔ صلیب دو شہتیروں سے بنائی جاتی تھی۔ اَور صلیب پھانسی کی نسبت زیادہ خوفناک اَور دردناک موت کا سبب تھی۔

خُداوند یسُوؔع مسیح کو صلیب دی گئی۔ عہدِ جدید میں جگہ جگہ لفظ صلیب استعمال کیا گیا ہےَ۔ کہیں بھی صلیب کی جگہ لفظ سولی استعمال نہیں کیا گیا۔ دُنیا میں  خُداوند یسُوؔع مسیح کی صلیب مسیحیوں کا اِمتیازی نشان ہےَ۔ سولی مسیحیوں کو اِمتیازی نشان نہیں ہےَ۔

ایک کاتھولک مسیحی کی زندگی کا آغاز “سولی” کے نشان سےنہیں بلکہ “صلیب کے نشان” سے شروع ہوتا ہےَ۔ بپتسمہ کے وقت فادر کلیسیا کی جانب سے بپتسمہ پانے والے کی پیشانی پر صلیب کا نشان کرتے ہوئے کہتا ہےَ کہ “باپ اَور بیٹے اَور روح القدس کے نام سے آمین”۔

کاتھولک مسیحی اپنے ہر عمل ( دُعا، سفر پر روانگی سے پہلے، کھانا کھانے سے پہلے وغیرہ)کا آغاز سولی کے نشان سے نہیں بلکہ صلیب کے نشان سے کرتے ہیں۔ صلیب مسیحیوں کی پہچان اَور موجودگی کا نشان ہےَ۔ اِس لئے صلیب اکثر گرجاگھروں ، مسیحی اسکولوں، مسیحی ہسپتالوں، مسیحی قبرستانوں اَور مسیحی گھروں میں لگی ہوئی دکھائی دیتی ہےَ۔ کبھی کسی مسیحی کو یہ کہتے نہیں سُنا کہ ہمارے چرچ پر سولی لگی ہوئی ہےَ۔ یا دُعا کرنے سے پہلےکسی  مسیحی کو یہ کہتے نہیں سُناکہ آئیں ہم سولی کانشان بنائیں۔

اِس لئے وہ مسیحی جو جواز پیش کرتے ہیں کہ سولی اَور صلیب ایک ہی بات ہےَ۔ وہ غلطی پر ہیں۔ آئیں گیہوں اَور زوان میں اِمتیاز کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ گیہوں میں دشمن کا بویا ہُؤا زوان گیہوں کے ساتھ نشوو نما پاتا رہےَ۔

Read Previous

انجیلِ مقدس برائے 14 اگست 2020

Read Next

مقدس فرانسسؔ زیوئیر کا کیکڑا

error: Content is protected !!