دیداخے

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

دِیدَاخے یونانی زبان کا لفظ ہے َ۔جس کے لغوی معنی ” تعلیم ” کے ہیں۔ اِس کا پورا نام ” بارہ رسولوں کی معرفت غیر اقوام کے لئے خُداوند کی تعلیم” ہے ۔ یہ مسیحی تعلیم کی ایک چھوٹی کتاب ہےَ جو پہلی صدی میں لکھی گئی تھی۔اَور اِبتدائی کلیسیا میں استعمال ہوتی تھی۔ یہ کتاب سولہ ابواب پر مشتمل ہےَ۔ابواب 1 -6 میں دو راستوں کی تعلیم دی گئی ہےَ۔ایک راستہ کی زندگی کی طرف جاتا ہےَ اَور دوسرا ہلاکت کو پہنچاتاہےَ۔اِن دونوں راستوں میں بڑا واضح فرق بیان کیا گیا ہےَ۔ابواب 7-10 بپتسمہ، دُعا اَور پاک یوخرست کے بارے میں بیان کیا گیا ہےَ۔ابواب 11-15 میں کلیسیائی نظام اَور معلموں، رسولوں اَور نبیوں سے برتاؤ کرنے کی ہدایات پر مشتمل ہیں۔اَور تاکید کی گئی ہےَ کہ اگر کوئی اِس کتاب سے ملتی جُلتی تعلیم دے تو اُس کی سُنو۔اگر کوئی اِس سے ہٹ کر گمراہ کن باتیں سکھائے تو اُس سے کنارہ کرو۔باب 16 آمدِ ثانی اَور آخرت کے بارے میں ہےَ۔

باب اول: دوا راستے ہیں اَور پہلا حُکم

دو اراستے ہیں۔ ایک زندگی کا راستہ اَور دوسرا ہلاکت کا راستہ۔لیکن اِن دونوں میں بڑا فرق پایا جاتا ہےَ۔زندگی کا راستہ یہ ہےَ۔پہلے تُم خُدا کو پیار کرو جس نے تمہیں بنایا ہےَ۔دوسرے اپنے ہمسائے کو اپنی مانند پیار کرو۔جو کچھ تُم چاہتے ہو کہ لوگ تمہارے ساتھ کریں۔ وہی تُم بھی اُن کے ساتھ کرو۔ اِن باتوں کی تعلیم یہ ہے:اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا مانگو۔اَور اپنے دشمنوں کے لئے دُعا کرو۔اَور اپنے دُکھ دینے والوں کے لئے روزہ رکھو۔ کیونکہ اگر تُم اُنہی کو پیار کرو جو تمہیں پیار کرتے ہیں تو تمہارے لئے کیا اَجر ہے؟کیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے؟ لیکن تُم اپنے کینہ وروں سے پیار کرو۔تمہارا کوئی دشمن نہ ہو۔ جسمانی اَور دُنیاوی خواہشوں سے پرہیز کرو۔ اگر کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اُس کی طرف پھیردے۔ اَور تُم کامل ہو۔ اگر کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے ۔ اُس کے ساتھ دو کوس چلا جا۔اگر کوئی تیرا کُرتا لینا چاہے تو چُغہ بھی اُسے لے لینے دے۔اگر کوئی تجھ سے تیرا مال لے لے تو اُس سے واپس نہ لے۔ کیونکہ تو درحقیقت اِس لائق نہیں۔ جو کوئی تجھ سے مانگے۔ اُس سے پھر مت مانگ۔ کیونکہ باپ کی مرضی یہی ہےَ کہ ہم اپنی نعمتوں میں اُن کو شریک کریں۔ مُبارک ہےَ وہ جو حُکم کے مطابق دیتاہےَ۔کیونکہ وہ بے خطا ہےَ۔ افسوس اُس پر جو لیتاہےَ۔ اگر کوئی ضرورت کے تحت لیتا ہےَ تو وہ بے قصور ہے۔ لیکن جو بلا ضرورت لیتا ہےَ اُسے جرمانہ اَدا کرنا پڑے گا۔اُس نے کیوں اَور کس لئے لیا۔قید خانہ میں آنے پر جو کچھ کیا اُس نے کیا ہے اِس بارے میں اُس کی پرکھ کی جائے گی۔ اَور جب تک وہ کوڑی کوڑی اَدا نہ کرے گا۔ وہاں سے ہر گز نہ چھوٹے گا۔ اپنی خیرات کو اپنے ہاتھوں میں اُس وقت تک تھامے رہو۔ جب تک آپ کو معلوم نہ ہوجائے کہ یہ کس کو دینا ہےَ۔

Read Previous

بچوں کو برکت دینا یا مخصوص کرنا بپتسمہ کا متبادل نہیں ہےَ۔

Read Next

سکردؔو میں قدیم صلیب کی دریافت

error: Content is protected !!