کیا خُداوند یسوؔع مسیح کے حقیقی بھائی بہن تھے َ؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

کیا خُداوند یسوؔع مسیح کے حقیقی بھائی بہن تھے َ؟ اِس  موضوع پر سب سے پہلے بحث چوتھی صدی میں ہلویدیُسؔ نے شروع کی ۔ اُس کا موقف تھا کہ خُداوند یسوؔع مسیح کی کنواری مریمؔ سے پیدائش کے بعد مقدس یوسفؔ کے  دوسرے بچے بھی پیدا ہوئے۔ اُس نے اپنے موقف میں کلام ِ مقدس کے یہ حوالے پیش کئے ( مقدس متی 1: 42، 12: 46 – 50،  13: 55- 56، مقدس مرقس 6: 3،  مقدس لوقا   2: 7 ، مقدس یوحنا  7: 5)۔ جبکہ مقدس جیرومؔ نے   کلیسیا کا عقیدہ پیش کرتے ہوئے بیان کیا کہ خُداوند یسوؔع مسیح کی پیدائش کے بعد مقدسہ مریمؔ ہمیشہ کنواری رہیں۔اَور کلیسیا اُن کو دائمی کنواری مانتی ہےَ۔ مقدس جیرومؔ نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ خُداوند یسوؔع مسیح کے جن بھائی بہنوں کا ذکر نوشتوں میں کیا گیاہےَ۔ وہ کلوپسؔ کی مریمؔ اَور یسوؔع کی ماں مریمؔ کی بہن کے بچے تھے۔ جو رشتہ دار بھائی بہن ہیں۔

چوتھی صدی میں سَلمیسؔ (قُپرسؔ )کے بشپ ایپِفینئس(310 – 403)نے قیاس آرائی کرتے ہوئے کہا کہ خُداوند یسوؔع مسیح کے جن بھائی بہنوں کا ذکر کیا گیاہےَ۔ وہ غالبا ًاُس کے سوتیلے بھائی بہن تھے ۔ جو بقول اُس کے مقدس یوسؔف سے اُس کی پہلی بیوی سے پیدا ہوئے تھے۔بشپ ایپِفینئس کا موقف تھا کہ مقدس یوسفؔ عمر میں مقدسہ مریم ؔ سے بڑے تھے۔ اَور وہ خُداوند یسوؔع مسیح کی اِعلانیہ زندگی سے پہلے ہی  وفات پا چکے تھے۔

آج بھی بہت سے مسیحی ہلویدیُسؔ کی طرح کلام ِ مقدس کے حوالے استعمال کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ کلام ِ مقدس میں خُداوند یسوؔع مسیح کے جن بھائی بہنوں کا ذکر کیا گیا ہےَ۔ وہ اُس کے حقیقی بھائی بہن تھے۔ سب سے پہلے ہم بائیبل مقدس کے اِنہی حوالوں کو پڑھتے ہوئے دریافت کرتے ہیں کہ اِن  کے موقف  میں کتنی صداقت پائی جاتی ہےَ:

  یُوسفؔ ۔۔۔” اپنی بیوی (مریمؔ) کو اپنے پاس لے آیا۔ اَور اُسے نہ جانا۔ جب تک کہ وہ بیٹا نہ جنی اَور اُس نے اُس کا نام یسوؔع رکھا”(مقدس متی 1: 24 – 25)۔ وہ جو یہ کہتے ہیں کہ خُداوند یسوؔع مسیح کے حقیقی بھائی بہن تھے۔وہ اِس حوالے سے نتیجہ اخذ کرتے ہیں  کہ خُداوند یسوؔع مسیح کی پیدائش کے بعد مقدس یوسف ؔ نے مقدسہ مریم ؔ سے ازدواجی تعلقات قائم کئے ۔

لفظ “جب تک ”  کے معنی ہیں “تاوقتیکہ ۔ تک”۔ یہ لفظ واقعہ سے پہلے یا گزرے ہوئے وقت کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوتا ہے َ۔” اُس کو نہ جانا۔جب تک کہ وہ بیٹا نہ جنی” ۔اِس کا ضروری مطلب نہیں کہ اِس کے بعد اُس نے اُسے جانا۔ کلام ِ مقدس سے “جب تک ” کی چند مثالیں ۔

کلام ِ مقدس میں لکھا ہے َ کہ ” شاؤلؔ کی بیٹی میکل ؔ اپنی موت کے دِن تک بے اولاد رہی “( 2۔سموئیل 6: 23)۔ اِس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کتنی بڑی حماقت ہوگی  کہ ” موت کے دِن تک” بے اولاد رہنے کا مطلب  کہ موت کے بعد اُس سے اولاد ہوئی۔ کیونکہ اِس میں موت کے دِن تک بے اولاد رہنے کا ذکر کیا گیا ہےَ۔

موسی ٰ ؔکے بارے میں لکھا ہےَ ” اُس کی قبر کو آج کے دِن تک کوئی نہیں جانتا” ( تثنیہ شرع 6: 34)۔ “آج کے دِن تک” اُس گزرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہےَ۔ جب تثنیہ شرع کی کتاب لکھی جارہی تھی۔ کیا کسی کو اِس کے بعد موسیٰؔ کی قبر کا علم ہُؤا۔ حتیٰ کہ آج تک کوئی نہیں جانتا کہ موسیٰؔ کی قبر کہاں ہےَ۔

پانی کے طوفان کے بعد ” نوحؔ نے کشتی کا ایک روشن دان جو اُس نے بنایا تھا۔ کھول کر ایک کوّے کو اُڑایا۔ سو وہ نِکلا اَور جب تک زمین پر سے پانی سوکھ نہ گیا۔ وہ اِدھر اُدھر پھر تا رہا”( تکوین 8: 6-7)۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زمین خُشک ہونے کے بعد بھی کوّا واپس نہیں آیا۔

پھر خُداوند یسوؔع مسیح کے حقیقی بھائیوں کے بارے میں یہ حوالہ  پیش کیا جاتا ہےَ۔”جب وہ ہجوم سے باتیں کر رہا تھا۔ تو دیکھو اُس کی ماں اَور بھائی باہر کھڑے تھے۔ اَور اُس سے بات کرنا چاہتے تھے۔ تب کسی نے اُس سے کہا کہ دیکھ تیری ماں اَور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں  اَور تجھ سے بات کرنا چاہتےہیں۔۔۔”( مقدس متی 12: 46۔ 47)۔

عبرانی  اَور ارامی زبان میں کزن کے لئے کوئی لفظ نہیں ہےَ۔مقدسہ الیصاباؔت مقدسہ مریمؔ کی کزن تھیں۔ کلام ِ مقدس میں اُسے “رشتہ دار ” کہا گیا ہےَ( مقدس لوقا 1:36)۔ مقدسہ الیصاباؔت مقدسہ مریم ؔ کی “رشتہ دار” بہن تھی۔ اِس لئے خُداوند یسوؔع مسیح کے رشتہ دار بھائیوں کے لئے لفظ” بھائی” استعمال کیا گیا ہےَ۔ یہ یقیناً خُداوند یسوؔع مسیح کے کزن ہیں۔

اِس  تین حوالوں میں ذکر ہے َ کہ اُس کی ماں اَور اُس کے بھائی  اُس سے ملنا چاہتے تھے(مقدس متی 12: 46- 49 ، مرقس 3: 31- 35 اَور مقدس لوقا   8: 19 – 21)۔  سیاق و سباق کو دیکھا جائے۔ تو فقیہہ کہتے تھے کہ “اُس میں ناپاک رُوح ہےَ”( مقدس مرقس 3: 31)۔اَور یہودی یہ بھی کہتے تھے کہ ” اُس میں بدروح ہےَ اَور وہ دیوانہ ہے”( مقدس یوحنا 10: 20)۔ اَور اکثر فقییہوں اَور فریسیوں سے خُداوند یسوؔع مسیح کا اختلاف رہتا تھا۔ اَور خُداوند یسوؔع مسیح کی ماں کو اپنے بیٹے کی فکر لاحق تھی۔ اَور یہ فکر اُنہیں  خُداوند یسوؔع مسیح کے پاس لائی تھی۔ وہ شاید اِس معاملے پر اُس سے بات کرکے اُسے گھر لے جانا چاہتے تھے۔

“کیا یہ وہ بڑھئی نہیں۔ ابن مریمؔ۔ اَور یعقوبؔ اَور یُوسفؔ اَور یہُودہؔ اَور شمعوُنؔ کا بھائی۔ اَور کیا اِس کی بہنیں ہمارے ہاں نہیں؟ “( مقدس مرقس 6: 3، مقدس متی 13: 55-56)۔اِن حوالوں میں خُداوند یسوؔع مسیح کے جن بھائی بہنوں کی فہرست دی گئی ہےَ۔ یہ لوگ مقدس متی 1: 24 کے حوالے “اُس کو جانا”سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ یہ بچے خُداوند یسوؔع مسیح کی پیدائش کے بعد پیدا ہوئے۔جس کا مطلب ہےَ کہ خُداوند یسوؔع مسیح کے یہ بھائی بہن عمر میں خُداوند سے چھوٹے تھے۔

مذکورہ حوالے میں چار بھائیوں(یعقوبؔ ، یُوسفؔ ،ر یہُودہؔ اَورشمعوُن ) کے نام دئیے گئے ہیں ۔ بہنوں کا ذکر ہےَ۔ نہ تو ان کے نام دئیے گئے ہیں اَور نہ ہی اِن کی تعداد بتائی گئی ہےَ۔ کہ وہ کتنی تھیں ۔ اگر خُداوند یسوؔع مسیح کے مذکورہ بھائی بہنوں کو اِس ترتیب سے دیکھیں ۔اَور اگر خُداوند یسوؔع مسیح کے بھائیوں اَور بہنوں کی پیدائش میں  دوسال کا وقفہ فرض کر لیا جائے ( اُس زمانے مائیں بچوں کو دودھ پلاتی تھیں ۔ اَور بچوں کے درمیان قدرتی وقفہ ہوتا تھا)۔ تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے َ کہ جب یسوؔع بارہ سال کا تھا ۔ اَور اپنے والدین کے ساتھ یروشلیم ؔ گیا ۔ تو اُس وقت یعقوب ؔ کی عمر کیا ہوگی ۔ وہ  بارہ سال کا ہوگا۔ یعنی یسوؔع سے دوسال چھوٹا  ہوگا۔ اِسی یوسف ؔ آٹھ سال کا اَور یہودہ ؔ چھ سال کا  اَور شمعُوؔن چار سال کا ہوگا۔ اَور یسوؔع کی بہنیں کتنے سال کی ہوں گی ؟  اِس لحاظ سے دیکھا جائے تو پہلی دو سال کی ہوگی ۔ اَور دوسری  پھر مقدسہ مریم ؔ کی گود میں دودھ پیتی بچی ہوگی ۔ کیا مقدسہ مریم ؔ اِن بچوں کے ساتھ ناصرت ؔ سے یروشلیم ؔ کا 70 کلومیٹر کا سفر تین دِن میں طے کرسکتی تھیں ؟ اَور وہ بھی ایک طرف کا ؟ جس کا مطلب ہے َ کہ چھ دِن آنے جانے کا سفر وہ بھی سات بچوں کے ساتھ ؟  عقل ماننے کے لئے تیار نہیں کہ  خُداوند یسوؔع مسیح کے علاوہ یہ چھ بچے مقدسہ مریم ؔ سے پیدا ہوئے تھے۔

جب یسوؔع مسیح صلیب پر جان دے رہا تھا۔ تو یسوؔع نے اپنی ماں کو یوحنؔا رسول کے سپرد کرتے ہوئے کہاَ” دیکھ تیرم ماں ” ( مقدس یوحنا 19: 27)۔ اگر خُداوند یسوؔع مسیح کے چھ حقیقی بھائی بہن( چار بھائی اَور کم از کم دو بہنیں )تھے۔ تو وہ خُداوند یسوؔع مسیح کی گرفتاری اَور تصلیب کے وقت کہاں تھے؟ کیا اِن چھ میں سے کوئی بھی اپنی ماں کو اپنے ہاں لے جانے کے لئے تیار نہ تھا؟

ہم تحریک اصلاح ِ کلیسیا کے بانی مارٹن لوتھرؔ، زونگلی اَور جان کیلونؔ اپنے وعظوں میں برملا اظہار کرتے رہے ہیں کہ خُداوند یسوؔع مسیح کنواری مریم ؔ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اَور اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ مقدسہ مریمؔ ہمیشہ کنواری رہیں۔لیکن موجود دَور کے معلمین نہ جانے کہاں سے اپنی حکمت اَور اپنی سمجھ اَور اپنی خواہش کے مطابق مختلف نظریات پیش کرتے ہوئے خُداوند یسوؔع مسیح کے حقیقی بہن بھائی ثابت کرتے اَور مقدسہ مریم ؔ کے دائمی کنوار پن پر دھبہ لگاتے ہیں۔مقدسہ مریمؔ کی دائمی دوشیزگی کاتھولک کلیسیا کے عقیدے کا باضابطہ حصّہ ہےَ۔ اَور کاتھولک کلیسیا آج بھی اِس پر قائم ہےَ ۔

Read Previous

مدر ٹریضؔہ اَور بیکری والا

Read Next

زندگی کا سبق

error: Content is protected !!