انجیلِ مقدس برائے 7 اگست 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

تقلید ِ المسیح

انجیل مقدس متی 16: 24-28

تَب یسُوؔع نے اپنے شاگردوں سے کہا اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے۔ تو وہ خود انکاری کرے اَور اپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے ۔کیونکہ جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا۔ اَور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اُسے بچائے گا۔ کیونکہ آدمی کو کیا فائدہ ہےَ۔ اگر تما م دُنیا حاصل کرے۔ مگر اپنی جان کا نقصان اُٹھائے یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دے گا۔ کیونکہ ابنِ انسان اپنے باپ کے جلال میں اپنے فرشتوں کے ساتھ آئے گا۔ اَور تب ہر ایک کو اُس کے کاموں کے موُافق بدلہ دے گا۔ میَں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو یہاں کھڑے ہیَں اُن میں سے بعض ایسے ہیَں کہ جَب تک ابنِ انسان کو اپنی بادشاہی میں آتےدیکھ نہ لیں موت کا مزہ نہ چکھیں گے۔

غوروخوض

آج کی تلاوت میں خُداوند یسُوؔع مسیح فرماتے ہیں کہ “اگر کوئی میرے پیچھے آنا چاہے۔ تو وہ خود انکاری کرے اَور اپنی صلیب اُٹھائے اَور میرے پیچھے ہولے “۔ خُداوند یسُوؔع مسیح کا شاگرد ہونے کی پہلی شاگرد ” خودانکاری” ہےَ۔خودانکاری کے معنی ہیں ہر اُس خواہش کو مارنا جو خُدا کی مرضی بجالانے میں رکاوٹ ہےَ۔ خودانکاری کے بعد انسان اپنی مرضی کا مالک نہیں رہ جاتا۔ وہ روزمرہ زندگی میں خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہےَ۔ہماری زندگی کا ایک ہی مالک ہونا چاہیے۔ کوئی انسان دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا۔

شاگرد ہونے کی دوسری شرط” اپنی صلیب اُٹھانا ” ہےَ۔اِس سے مُراد خُداوند کی شاگردیت موت تک وفادار رہنے کا تقاضا کرتی ہےَ۔اَور خُداوند یسُوؔع مسیح کے شاگرد ہونے کی تیسری شرط” پیچھے ہولینا” ہےَ۔اِس سےمُراد خُداوند یسُوؔع کی تقلید کرنا ہےَ۔ اِس کے بعد خُداوند یسُوؔع مسیح ” خودانکاری”، “صلیب اُٹھانے ” اَور ” پیچھے ہولینے ” کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ ” جو کوئی اپنی جان بچانا چاہے وہ اُسے کھوئے گا۔ اَور جو کوئی میری خاطر اپنی جان کھوئے گا وہ اُسے بچائے گا”۔

اگر کوئی شخص اپنی جان کو عزیز جانتا ہےَ تو وہ اِس زندگی سے لُطف اندوز ہونا چاہے گا۔ وہ کبھی بھی خودانکاری نہیں کرے۔ وہ کبھی بھی خُداوند کی مرضی پر نہیں چلے گا۔ اَور وہ کبھی بھی خُداوند کی پیروی نہیں کرے گا۔ یعنی وہ خُداوند کے حُکموں پر نہیں چلے گا۔بالآخر وہ ہمیشہ کے لئے اپنی جان کو کھودے گا۔ اِس کے برعکس وہ شخص جو خُداوند کی خاطر اپنی جان کھوئے گا۔ وہ اُسے بچالے گا۔

آج کے انسان کے لئے خودانکاری کرنا یعنی اپنی خواہشوں کو قابو میں رکھنا، صلیب اُٹھا اَور خُداوند یسُوؔع مسیح کی پیروی کرنا انتہائی مشکل ہےَ۔ ابتدائی مسیحیوں کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ جب اُنہوں نے خُداوند یسُوؔع مسیح کی شاگردیت اِختیار کی تو اپنا سب کچھ ترک کردیا۔خُداوند کی انجیل صرف انجیل سنانے کا نہیں بلکہ انجیل پر عمل کرنے کا تقاضا بھی کرتی ہے َ۔

انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کیا ہےَ؟کیا دُنیا اَور اِس کی شُہرت حاصل کرنا۔ اپنا نام بنانا۔ روپیہ پیسہ اکٹھا کرنا۔ اِس سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ نہیں ہےَ۔ اِس سرمایہ کاری کے نتیجہ میں اگر انسان اپنی جان کھودے تو کیا فائدہ ؟ خُداوند یسُوؔع مسیح ہر انسان کو اچھی سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہیں۔ مقدس پطرؔس نے ایک دفعہ اِسی قسم کا سوال خُداوند سے کیا تھاکہ اَے خُداوند ہم نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے اَور تیرے پیچھے ہولئے ہیں۔ ہمیں اِس کے بدلے کیا ملے گا۔خُداوند کا جواب تھا کہ جو کچھ تم نے میرے اَور انجیل کے لئے چھوڑ دیا ہےَ۔ اِسی زمانے میں سوگنا پاؤ گے اَور آنے والے زمانے میں ہمیشہ کی زندگی ۔ یہ کیسی سرمایہ کاری ہے َ جس میں سو فی صد منافع اَور اِس کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی کی پیشکش کی گئی ہے َ۔ کیا ہم اِس پیشکش کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟۔

Read Previous

اقدس روزری کی دُعا ایٹم بم سے طاقتور ہےَ۔

Read Next

انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہےَ؟

error: Content is protected !!