انجیلِ مقدس برائے 6 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیل ِ مقدس بمُطابق مقدس متی 9: 18 -26

جب وہ یہ باتیں اُن سے کہہ ہی رہا تھا۔ دیکھو ایک سردار نے آکر اُسے سجدہ کیا اَور کہا میری بیٹی ابھی مری ہےَ۔ لیکن تو چل کر اپنا ہاتھ اُس پر رکھ تو وہ زندہ ہوجائے گی۔ اَور یسوؔع اُٹھ کر اپنے شاگردوں کے ساتھ اُس کے پیچھے چلا۔ اَور دیکھو ایک عورت نے جس کو بارہ برس سے خُون جاری تھا۔ اُس کے پیچھے آکر اُس کی پوشاک کا دامن چھؤا۔ کیونکہ وہ اپنے جی میں کہتی تھی ۔ اگر میَں صرف اُس کی پوشاک ہی چھُو لوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی۔تب یسوؔع نے پیچھے پھر کر اُسے دیکھا اَور کہا بیٹی خاطر جمع رکھ تیرے اِیمان نے تجھے اچھا کیا۔ پس وہ عورت اُسی گھڑی اچھی ہوگئی۔ اَور جب یسوؔع اُس سردار کے گھر پہنچا اَور بانسلی بجانے والوں اَور بھیڑ کو دھوم مچاتے دیکھا تو کہا۔ ہٹ جاؤ۔ کیونکہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہےَ۔ تو وہ اُس پر ہنسنے لگے اَور جب بھیڑ نکال دی گئی تو اُس نے اندر جا کر اُس کا ہاتھ پکڑا اَور لڑکی اُٹھ بیٹھی ۔ اَور اُس کی شہرت اُس تمام علاقے میں پھیل گئی۔

غوروخوض:

آج کی تلاوت زندگی اَور موت کی بابت بیان کرتی ہےَ۔ ایک طرف وہ عورت ہےَ جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا۔ اُس کی جسمانی اَور روحانی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ دوسری طرف ایک چھوٹی لڑکی جو مرچکی تھی۔ خُداوند یسوؔع مسیح دونوں کی زندگی کو بحال کرتے ہیں۔ خُداوند یسوؔع مسیح کے دونوں معجزات ثابت کرتے ہیں کہ اُسے زندگی بحال کرنے کا اِختیار ہےَ۔

وہ عورت جس کو بارہ برس سے خون جاری تھا۔ وہ شریعت کے لحاظ سے ناپاک سمجھی جاتی تھی ( اَحبار 15: 25-33)۔ ایسی عورت ہیکل میں دُعا کرنے نہیں جاسکتی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے پاس نہیں جاسکتی تھی۔ وہ کسی چیز کو نہیں چُھو سکتی تھی۔ جس کو بھی چھوتی ناپاک تصّور کی جاتی تھی۔ اِس قسم کی ناپاکی کو دُور کرنے کے لئے فقہیوں اَور فریسیوں نے شریعت میں درج طہارت کی تشریح میں ایسی باریکیاں پیدا کردی تھیں کہ اُن پر عمل کرنا مشکل ہوگیا تھا۔

یہ عورت شریعت میں درج طہارت کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر تھی۔ وہ اپنی ناپاکی کی وجہ سے خُدا کی قربت حاصل کرنے سے بھی محروم تھی۔ وہ اپنی ناپاکی کی وجہ سے خُداوند یسوؔع مسیح کے سامنے جانے سے بھی ڈرتی تھی۔ اِس لئے اُس نے ٹھان لیا تھا کہ “اگر میَں صرف اُس کی پوشاک ہی چھولوں گی تو اچھی ہو جاؤں گی”۔ اُس نے ڈرتے ڈرتے پیچھے سے خُداوند یسوؔع مسیح کی پوشاک کے دامن کو چھؤا۔ اِس عورت کے چھونے نے خُداوند یسوؔع مسیح ناپاک نہیں ہوئے۔ بلکہ اُس کی پوشاک کا دامن چھونے سے عورت کی ناپاکی دُور ہوگئی۔ اُس کو اَب شریعت میں درج اَور فریسیوں کے تشریح کے مطابق طہارت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی ضرورت نہ رہی۔ اُسے خُدا کی قُربت حاصل ہوگئی۔ ناپاک دُور ہونے سے اَب وہ معاشرے میں بھی قبول کئے جانے کے لائق ہوگئی۔

دوسرا معجزہ چھوٹی لڑکی کے زندہ کرنے کے بارے میں ہےَ۔ اِس میں بھی ناپاکی کا عُنصر موجود ہےَ۔ خُداوند یسوؔع مسیح کے زمانے میں یہودی شریعت کے مُطابق جو شخص لاش کو چھوتا۔ وہ ناپاک تصّور کیا جاتا تھا۔ شریعت میں لاش سب سے زیادہ ناپاک چیز قرار دی گئی تھی۔ یہاں تک کہ لاش کو چھونے والا بھی ناپاک قرار دیا جاتا تھا۔

جب خُداوند یسوؔع مسیح سردار کے گھر پہنچے تو لڑکی کی لاش پڑی تھی۔ گھر میں ماتم ہو رہا تھا۔ لکھا ہےَ کہ خُداوند نے بھیڑ کو دھوم مچاتے دیکھا ۔ اُس زمانے میں لاش کو قبرستان میں لے جانے سے پہلے تک خاندان کے افراد، پڑوسی ، رشتہ دار اَور کرائے کے ماتم کرنے والے سب مل کر بلند آواز سے بین کرتے تھے۔ روتے ، چھاتی پیٹتے ، اپنے کپڑے پھاڑتے اَور خود کو زخمی کرتے تھے۔

یوں لگتا ہےَ کہ یہ چھوٹی لڑکی کا جنازہ اُٹھنے والا تھا کہ اتنے دیر میں خُداوند یسوؔع مسیح آپہنچے۔ خُداوند نے ماتم کرنے والوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا کہ لڑکی مری نہیں بلکہ سوتی ہےَ۔ تو وہ سب اِس بات پر ہنسنے لگے ۔ باالفاظ دیگر وہ خُداوند کا مذاق اُڑانے لگے کہ وہ مری لڑکی پر ماتم کر رہے ہیں۔ اَور یہ کہہ رہا ہےََ کہ وہ مری نہیں بلکہ سوتی ہےَ۔ خُداوند نے اُس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تو وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔ گھر کا ماحول جو تھوڑی دیر پہلے ماتم میں بدل چکا تھا۔اَب خوشی میں بدل گیا۔ یہاں شریعت کے مطابق لاش کو چھونے سے خُداوند یسوؔع مسیح ناپاک نہیں ہوئے۔ بلکہ لاش کو چھونے سے لاش میں زندگی لوٹ آئی۔ خُداوند یسوؔع مسیح کے یہ دونوں معجزات دیکھ کر لوگ اِیمان لائے کہ وہی زندگی کا مالک ہےَ۔

اِ ن دو معجزات میں ہم کس کردار میں اپنے آپ کو پہچانتے ہیں۔ کیا اُن فقہیوں اَور فریسیوں کے روپ میں جو دوسروں کو ناپاک قرار دے کر خُدا اَور معاشرے سے سے دوسروں کو کاٹ دیتے ہیں ؟ اُس عورت کے روپ میں جس نے ٹھان لیا تھا کہ “اگر میَں اُس کی پوشاک کو چھولو ں گی تو اچھی ہو جاؤں گی”۔؟ کیا ہمارا اِیمان اِس عورت کی طرح مضبوط ہےَ؟کیا ہم اُن لوگوں میں سے تو نہیں جو خُداوند کی باتوں پر قہقہے لگاتے ہیں؟یا کیا ہم اُس سردار کی طرح ہیں جس کا اِیمان تھا کہ اگرچہ اُس کی لڑکی مرگئی ہےَ۔ تاہم خُداوند یسوؔع مسیح کے ہاتھ رکھنے  سے وہ زندہ ہوسکتی ہےَ؟ آئیں ہم بھی اپنے دُکھوں اَور پریشانیوں میں اپنے زندہ خُداوند کی طرف راغب ہوں۔

Read Previous

اسقاطِ حمل کے بارے میں کاتھولک تعلیم

Read Next

خُداوند یسوؔع مسیح کے زمانے کے زتیون کے درخت

error: Content is protected !!