سال کے عام ایام کے دَوران چودھواں اتوار

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

اِن باتوں کو چھوٹوں پر ظاہر کیا

پہلی تلاوت: زِکریا 9: 9-10

مزمور 144

دوسری تلاوت :رومیوں 8: 9، 11- 13

انجیلِ مُقدس: متی 11: 25-30

پہلی تلاوت میں بتایا گیا ہےَ کہ ہمارا خُداوند فتحمند ہو کر آئے گا۔ لیکن وہ بڑی عاجزی کے ساتھ گدی کے بچے پر سوار ہو کر آئےگا۔یہ تلاوت ہمیں یاد دلاتی ہےَ جب خُداوند یسوؔع مسیح کھجوروں کے اتوار پر گدھی کےبچے پر سوار ہو کر یروشلیمؔ میں داخل ہوئے تھے۔اُس وقت یہ نبوت پوری ہوئی تھی۔گدھی کے بچے کی عاجزی اَور طاقتور گھوڑے میں موازنہ کیا گیا ہےَ۔لیکن عاجزی اَور فروتنی غالب آئے گی۔

دوسری تلاوت میں مقدس پولوسؔ رسول لکھتے ہیں کہ جن میں یسوعؔ مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کرنے والا روح بسا ہُوا ہےَ۔وہ بشریت کے طور پر نہیں بلکہ رُوح کی ہدایت سے چلتے ہیں۔ اَور وہی خُدا کے فرزند کہلائیں گے۔

آج کی انجیل ِ مقدس میں خُداوند یسوؔع مسیح اپنے پیروکاروں کی تعریف کرتے ہیں۔ اَور آسمانی باپ کا شُکر بجا لاتے ہیں کہ اُس نے آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کو داناؤں اَور عقلمندوں سے چھپایا اَور چھوٹوں پر ظاہر کیا۔ دانا اَور عقلمند فقہی اَور فریسی تھے جو خود کو شریعت کے عالم سمجھتے تھے۔ اُن کا خیال تھا وہ خُدا کے بارے میں عام انسانوں سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ جبکہ خُدا کے بارے میں اُن کا علم  صرف جاننے تک محدود تھا۔لیکن خُدا کی محبت، اُس کی قُربت اَور رفاقت کا تجرہ کرنا اَور بات تھی۔ وہ اپنے علم پر غور کرنے سے خُدا سے کتنے دُور تھے۔ اِس بات کا اُن کو اندازہ نہیں تھا۔ فقہیوں اَور فریسیوں نے اپنے ذہنوں کو بند کر رکھا تھا۔ وہ خُداوند کے معجزات دیکھتے ہوئے اَور تعلیم کو سُنتے ہوئے بھی اِیمان لانے کے لئے تیار نہ تھے۔ اِن کے برعکس خُداوند نے “چھوٹوں” یعنی اپنے شاگردوں کی تعریف کی۔ اگرچہ وہ ساد  ہ لوگے تھے۔ اتنے پڑھے لکھے نہ تھے۔ معاشرے میں اُن کا کوئی مقام نہ تھا۔وہ غریب اَور پسماندہ تھے۔ لیکن وہ آسمان کی بادشاہی کی باتیں سُننے کے لئے آمادہ تھے۔ اِس لئے وہ خُداوند کا پیغام سُن کر اُس کے پیچھے ہولئے تھے۔

خُداوند یسوؔع مسیح اپنے آسمانی باپ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اَے باپ تجھے ایسا پسند آیا۔ آخر میں خُداوند یسوؔع مسیح اِس بات کا دعویٰ کرتے ہیں  کہ کوئی بیٹے کو نہیں جانتا سوائے باپ کے اَور کوئی باپ کو نہیں جانتا سوائے بیٹے کے اَور اُس کے جس پر بیٹا ظاہر کرنا چاہے۔ اِس کا مطلب ہےَ کہ یسوؔع مسیح خُدا کا کامل مکاشفہ ہےَ۔ یہ مسیحی اِیمان کی ایک بڑی سچائی ہےَ۔ اُسی کے وسیلے سے ہم ُخدا کے بارے میں جان سکتے اَور اُسے پیار کر سکتے ہیں۔

جب ہم اِبتدائی کلیسیا کی زندگی پر غور کرتے ہیں تو آج کی تلاوت ہمیں اِبتدائی کلیسیا کا عکس پیش کرتی ہےَ۔ جب رسولوں نے منادی کی۔ تو رسولوں کی طرح خُداوند یسوؔع مسیح پر اِیمان لانے والے لوگ معمولی حیثیت کے لوگ تھے۔ کلیسیا داناؤں اَور عقلمندوں کی بدولت نہیں پھیلی۔ کلیسیا کے پھیلاؤ کو دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہےَ کہ یہ واقعی خُدا کا کام تھا۔ خُدا کو حلیم اَور فروتن لوگ پسند ہیں۔ ہم خُدا کا شکر بجا لاتے ہیں ۔ کیونکہ ہمارا شمار چھوٹوں میں ہوتا ہےَ۔جو باپ کو پسند آئے ہیں۔ ہم اپنی بلندی پر نہیں بلکہ اپنے ادنی ٰ پن پر فخر کرتے ہیں۔ اَور خُداوند یسوؔع مسیح کے وسیلے باپ کو جانتے اَور اُسے پیار کرتے ہیں۔ خُداوند ہمیں آج کی انجیل مقدس کی روشنی میں اپنے اِیمان میں بڑھنے کا فضل عطا فرمائے۔ آمین۔

Read Previous

موسیٰؔ کے زمانے کی جلتی جھاڑی

Read Next

اسقاطِ حمل کے بارے میں کاتھولک تعلیم

error: Content is protected !!