انجیل مقدس برائے 31 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیلِ مقدس بمطابق مقدس متی 13: 54-58

اَور اپنے وطن میں آکر اُس نے اُس کے عبادت خانے میں اُنہیں اَیسی تعلیم دی کہ وہ سب حَیران ہُوئے اَور کہنے لگے کہ اَیسی حِکمت اَور مُعجزے اُس نے کہا ں سے پائے؟ کیا یہ بڑھئی کا بیٹا نہیں؟ اَور اِس کی ماں کا نام مریمؔ نہیں؟ اَور اِس کے بھائی یعقوؔب اَور یوسفؔ اَور شمعُوؔن اَور یہودؔہ نہیں؟ اَور کیا اُس کی سَب بہنیں ہمارے ہاں نہیں؟ پھر یہ سَب کُچھ اُس نے کہاں سے پایا؟ اَور اُنہوں نے اِس سَبب سے ٹھوکر کھائی۔ لیکن یسُوؔع نے اُن سے کہا کہ نبی اپنے وطن اَور اپنے گھر کے سِوا اَور کہیں بے عزّت نہیں ہوتا۔ اَور اُس نے اُن کی بے اِعتقادی کے سَبب وہاں بہت سے مُعجزے نہ کِئے۔

غوروخوض

اپنوں سے ٹھکرایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہَے۔سب سے پہلے اِنسان اپنوں کی تنقید کا نِشانہ بنتا ہَے۔ جو بہت قریبی ہوتے ہیں۔وہی انسان کی ذات پر پتھر برسانے والوں میں آگے ہوتے ہیں۔اِن میں خاندان کے افراد، رشتہ دار ، پڑوسی اَور ہم خدمت شامل ہوتے ہیں۔ اُن کے دِل میں حسد کی چنگاری بھڑکتی ہےَ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہےَ۔ آج کی تلاوت میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب خُداوند یسُوؔع مسیح اپنے وطن یعنی ناصرؔت میں آئے۔اَور اُنہوں نے عبادت خانے میں تعلیم دی۔تو سُننے والے اُس کی تعلیم سے حَیران ہُوئے۔اَور اُس کی حِکمت اَورمُعجزوں کو سراہنے لگے۔مگر وہ اِس سے آگے بڑھ کر خُداوند یسُوؔع پر اِیمان لانا نہیں چاہتے تھے۔اِس لِئے کہ وہ اِسی ناصرؔت میں پلا بڑھا اَور جوان ہُؤا۔ اَب وہ خُداوند یسُوؔع مسیح کی ذات پر سوال کرنے لگے۔کیونکہ اُن کے دِلوں میں حسد اَور نفرت تھی۔وہ سوچتے ہوں گے کہ وہ ” میَں کیوں نہیں؟”۔وہ خُداوند یسُوؔع مسیح کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اِس لئے کہ عبادت خانے میں موجود لوگوں میں اُس کے رشتہ دار، پڑوسی اَور دوست احباب شامل تھے۔وہ سوچتے ہوں گے کہ یہ ہمیں تعلیم دینے والا کون ہےَ؟اِسی طرح ہم نے زندگی میں تجربہ کیا ہوگا کہ دوسروں کو خُدا اَور خُدا کے کلام کے بارے میں بتانا آسان ہوتا ہےَ۔ مگر اپنے گھر والوں کو سمجھانا نہایت مشکل کام ہوتا ہےَ۔خُداوند یسُوؔع مسیح ناصرؔت کے لوگوں کے اِس رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔اَور اُن کی بے اعتقادی کے سبب  وہاں کسی قسم کا معجزہ نہیں دکھاتے ۔

خُداوند یسُوؔع مسیح کی محبت ہمارے دِلوں میں حسد اَور نفرت کی سُلگتی چنگاریوں کو بجھا سکتی ہےَ۔ اَور تب ہی ہمارے دِل میں قبولیت کا جذبہ بیدار ہوسکتا ہےَ۔اَور قبولیت سے ہی ہم میں خُدا کے کلام کو پڑھنے ، سُننے اَور اُس پر عمل کرنے کی لگن پیدا ہوسکتی ہےَ۔ اَور خُدا کے کلام پر عمل کرنے سے دوسروں کے بارے میں ہمارا رویہ تبدیل ہوسکتا ہےَ۔ خُداوند اپنی انجیل مقدس کے وسیلے سے ہمیں اپنا فضل عطا کرےتاکہ ہم اُس کی محبت سے حسد اَور نفرت کے جذبات پر غالب آسکیں۔ آمین۔

Read Previous

زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو

Read Next

قربانی کا گوشت

error: Content is protected !!