انجیل مقدس برائے 3 اگست 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیل ِ مقدس بمطابق مقدس متی 14: 22-36

اَور اُس نے فوراً شاگردوں کو مجبُور کیِا کہ کشتی کی طرف جاؤ اَور مجھُ سے پہلے پار چلو۔ جَب تک کہ میَں ہجُوم کو رخصت کرُوں۔ اَور ہجُوم کو رخصت کر کے اکیلا دُعا کرنے کے لئے پہاڑ پر گیا۔ اَور جَب رات ہُوئی تو وہاں اکیلا رہا۔ مگر کشتی اُس وقت خشکی سے کئی غَلوَہ کے فاصلے پر تھی اَور لہروں سے ڈگمگا رہی تھی۔ کیوُنکہ ہَوا مُخالفِ تھی۔ اَور رات کے چوتھےپہر وہ جھیل پر چلتا ہُؤا اُن کے پاس آیا۔ جَب شاگردوں نے اُسے جھیل پر چلتے دیکھا۔ وہ گھبرا کر کہنے لگے کہ بھُوت ہےَ اَور ڈر کر چلاّ اُٹھے۔ اَور یسُوؔع نے اُن سے فوراً بات کر کے کہا۔ کہ خاطر جمع رکھوّ۔ میَں ہی ہُوںمَت ڈرو۔ پطرؔس نے اُس سے جواب میں کہا۔ اَے خُداوند اگر تُو ہی ہے تو مجھے حُکم دے کہ میَں پانی پر چل کر تیرے پاس آؤں۔ اُس نے کہا آ۔ تب پطرؔس کشتی پر سے اُترکر پانی پر چلنے لگا۔ تا کہ یسُوؔع کے پاس جائے۔ مگر جَب دیکھا کہ ہَوا تیز ہے۔ تو ڈر گیا۔ اَور جَب ڈوبنے لگا۔ تو چلا ّ کر کہا۔ اَے خُداوند مجھےُ بچا۔

تب یسُوؔع نے فوراً ہاتھ بڑحا کر اُسے پکڑ لیاِ ۔ اَور اُس سے کہا۔ کہ اَے کم اَعتقادتُو نے کیُوں شک کیا۔؟ اَور جُونہی وہ کَشتی پر چڑھ آئے تو ہَو ا فوراً تھم گئی۔ اَور جو کشتی پر تھے اُنہوں نے اُسے سجِدہ کر کے کہا کہ درحقیقت تُو خُدا کا بیٹا ہےَ۔

اَور وہ پار اُتر کر جنّاسرؔت کے ملکُ میں پہنچے۔ اَور وہاں کے لوگوں نے اُسے پہچان کر تمام گرِد ونواح میں خبر بھیجی۔ اَورسَب بیماروں کو اُس کے پاس لائے۔ اَور اُس کی مِنّت کی۔ کہ فقط اُس کی پاشاک کا دامن ہی چھوُلیں۔ اَور جتنوں نے چھُؤا اُنہوں نے شفِا پائی۔  

غوروخوض

آج کی تلاوت میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب خُداوند یسُو ع مسیح نے اپنے شاگردوں کو جھیل کے پار جانے کو کہا ۔اَور خود دُعا کرنے کے لئے پہاڑ پر چلا گیا۔ تو شاگرد کشتی میں سوار ہو کر ابھی چند کلومیٹر دُور گئے ہونگے کہ اُن کی کشتی طُوفان میں گھر گئی۔ہَوا اُن کے مخالف چلنے لگی۔ پانی کی لہروں سے اُن کی کشتی ڈگمگانے لگی۔ شاگرد مخالف ہَوا اَور پانی کی لہروں کا مقابلہ کرتے رہے۔ رات کے چوتھے پہر یعنی تقریبا تین بجے اور چھ بجے کے درمیان جب غالباً اندھیرا ہی تھا۔ تو اُنہوں نے خُداوند یسُوع مسیح کو پانی پر چلتے ہوئے اپنی طرف آتے دیکھا۔ اور وہ اُسے دیکھ کر گھبرا گئے۔ کیونکہ وہ سمجھے کہ شاید کوئی بُھوت دیکھ رہے ہیں۔ خُداوند یسُوع نے اُن کو گھبراہٹ میں دیکھا تو اُن سےکہا خاطر جمع رکھو۔ میں ہی ہوں مت ڈرو۔ اس سے شاگردوں کا حوصلہ بڑھ گیا۔ مقدس پطرس نے خُداوند کو پانی پر چلتے دیکھا تو پانی پر چلنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اور خُداوند نے اُسے کہا کہ آ۔ وہ خُداوند کی طرف چل پڑا۔ جب دیکھا کہ ہوا تیز ہے۔ تو ڈر گیا اور ڈوبنےلگا۔ اور چلایا کہ اے خُداوند مجھے بچا۔ خُداوند نےہاتھ بڑھا کر اُسے بچالیا۔ جب دونوں کشتی پر چڑھ گئے تو ہَوا فوراً تھم گئی۔ اس واقعہ میں پہلی دفعہ خُداوند یسوع مسیح کی الِہی قدرت کو پہچان کر شاگردوں نے اقرارکیا کہ “تو درحقیقت خُدا کا بیٹا ہے۔ اس سے پہلے جب خُداوند یسوع مسیح نے ہَوا اور جھیل کو ڈانٹا تو شاگردوں نے کہا کہ یہ کِس طرح کا آدمی ہےَ کہ ہَوائیں اَور جھیل اِس کی مانتے ہیں۔ یہاں وہ اپنے اِسی سوال کا جواب خُد ہی دیتے ہیں۔

خُداوند یسوع مسیح کا پانی پر چلنا ہمیں یاد دلاتا ہےَ کہ ہماری زندگی میں بھی طوفان آتے ہیں اَور ہماری زندگی کی کشتی ڈگمگانے لگتی ہےَ۔ اِسے مخالف ہَوا کا سامنا کرنا پڑتا ہےَ۔ تو ایسے میں خُداوند یسوع مسیح ہمارے پاس آتے ہیں تو کئی دفعہ ہم شاگردوں کی طرح اُسے پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں۔ہمارے دِل میں خوف ہوتا ہےَ۔ ایماں اَور خوف دونوں دِل میں سما نہیں سکتے۔ کیوں کہ خوف ایمان کی آنکھوں کو بند کر دیتا ہےَ جِس کی بنا پر ہم خُداوند کی موجودگی کو نہیں پہچان سکتے۔ لیکن جب وہ ہماری زندگی کی کشتی میں داخل ہو جاتا ہےَ تو ہَوائیں تھم جاتی ہیں۔ آئیں ہم خُداوند کو اپنی زندگی میں آنے کاموقعہ دیں۔

Read Previous

ہگیا صوفیہ چرچ سے مسجد، مسجد سے میوزیم اَور میوزیم سے مسجد

Read Next

مقدسہ مریمؔ کا آسمان پر اُٹھایا جانا

error: Content is protected !!