انجیل ِ مقدس برائے 28 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیلِ مقدس بمطابق مقدس متی 13: 36-43

تب وہ ہجُوم کو چھوڑ کر گھر میں گیا۔ اَور اُس کے شاگردوں نے اُس کے پاس آ کر کہا۔ کہ کھیت کے زَوَان کی تمثیل ہمیں سمجھا۔ تو اُس نے جواب میں کہا۔ کہ اچھّے بیج بونے والا ابن ِ انسان ہَے۔۔ اَور کھیت دُنیا ہَے۔اَور اچھّا بیج بادشاہی کے فرزند ہیں۔ اَور زَوَان بدی  کے فرزند ہیں۔ اَور وہ دشمن جس نے اُسے بویا شیطان ہَےَ۔ اَور کٹائی کا وقت دُنیا کا آخرہَےَ۔ اَور کاٹنے والے فرشتے ہیں۔ پس جس طرح زَوَان جمع کیا جاتااَور آگ میں جَلایا جاتا ہَے۔ اَیسا ہی دُنیا کے آخر میں ہوگا۔ ابن ِ انسان اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔ اَور سب ٹھو کر کھلانے والی چیزوں اَور بدکاروں کو اُس کی بادشاہی میں سے جمع کریں گے۔ اَور اُنہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اَور دانتوں کا بجنا ہوگا۔ تب راستباز اپنے باپ کی بادشاہی میں سُورج کی مانند چمکیں گے ۔ جس کے کان ہوں وہ سُن لے۔

غوروخوض

رائی کے دانے اَور خمیر کی تمثیل سے پہلے خُداوند یسوؔع مسیح نے زوان کی تمثیل ہجوم کے سامنے بیان کی تھی۔ جب ہجوم رخصت ہوگیا تو خُداوند یسوؔع مسیح گھر آئے۔ تو شاگردوں نے اُن سے زوان کی تمثیل کے بارے میں سمجھنے کی درخواست کی۔ خُداوند یسوؔع مسیح نے اُنہیں سمجھایا کہ اچھا بیج بونے والا وہ خود یعنی ابن ِ انسان ہےَ۔ کھیت دُنیا ہےَ۔ اچھا بیج آسمان کی بادشاہی کے فرزند اَور زوان بدی کے فرزند ہیں۔ اَور دشمن شیطان ہےَ۔ اَور کٹائی کا وقت دُنیا کا آخر ہے َ۔ کاٹنے والے فرشتے ہیں۔ جو اِیمانداروں اَور بے اِیمانوں کو دُنیا کے چاروں کونوں سے فراہم کریں گے۔ اَور وہ نیکوکاروں اَور بدکاروں کو ایک دوسرے سے الگ کریں گے۔ اَور اُنہیں جزا اَور سزادیں گے۔

دُنیا میں علم کی روشنی اَور سائنسی ترقی کے باوجود انسان کا خُدا پر بھروسہ اَور اِیمان کمزور ہُؤا ہےَ۔ لوگ موت کے بعد زندگی کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ اِس لئے وہ روحانی باتوں میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے۔ بہت کم ہیں جو خُدا کا کلام پڑھتے اَور دُعا کرتے ہیں۔ بہت کم ہیں جو موت کے بعد کی زندگی کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔ اکثر یہ کہتے سنتے ہیں کہ “دیکھا جائے گا”۔ جزا اَور سزا، بہشت اَور جہنم اِن پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا ۔

خُداوند یسوؔع مسیح کا کلام اَور اُس کی تعلیم دُنیا کے کھیت میں اچھا بیج ہےَ۔ جو لوگوں کو آئندہ کی زندگی کے لئے تیار کرتا ہےَ۔ مگر دشمن یعنی شیطان وہ نجات کے منصوبے کو ختم کرنا چاہتاہےَ۔ وہ جھوٹے معلموں کو بھیجتا ہےَ۔ جو بظاہر مسیحی تعلیم دیتے دکھائی دیتےہیں۔ اصل میں وہ انجیل کے پیغام کے مخالف ہیں۔ وہ اپنی تعلیم کے ذریعے نجات کے اچھے بیج میں کڑوے دانے بو دیتے ہیں۔ اُن کی ٹھو کر کھلانے والی تعلیم اَور باتیں لوگوں کے دِلوں کو لُبھاتی ہیں۔ جس کا نتیجہ گمراہی اَور ارتداد کی صورت میں سامنے آتا ہےَ۔ ہماری زندگی میں آسمان کی بادشاہی کا جو اچھا بیج بویا گیا۔ اِس کی حفاظت کرنا ہمارا کام ہےَ۔ ہر مسیحی کو کوشش کرنی چاہئیے کہ ہمارا شمار آسمان کی بادشاہی کے فرزندوں میں ہو نہ کہ بدی کے فرزندوں میں ہو۔ اِس لئے خُداوند یسوؔع مسیح زوان کی تمثیل کی وضاحت کے آخر میں متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” جس کے کان ہوں وہ سُن لے “۔ خُداوند یسوؔع مسیح ہمیں اپنا فضل عطا کرے تاکہ ہم اچھا بیج ثابت ہوں۔

Read Previous

خُداوند کے ایلچی بنیں

Read Next

کیا دِہ یکی دینا مسیحیوں پر فرض ہےَ؟

error: Content is protected !!