انجیل ِمقدس برائے 27 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

آسمان کی بادشاہی کی تمثیلیں

انجیل ِ مقدس بمطابق مقدس متی  13: 31-35

اُس نے ایک اَور تمثیل اُن کے سامنے پیش کرکے کہا کہ آسمان کی بادشاہی رائی کے دانے کی مانند ہےَ۔ جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہےَ۔ لیکن جب بڑھ جا تا ہےَ۔ تو سب ترکاریوں سے بڑا ایسا پودا ہوجاتا ہےَ۔ کہ آسمان کے پرندے آکر اُس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔

اُس نے ایک اَور تمثیل اُنہیں سنائی۔ کہ آسمان کی بادشاہی اُس خمیر کی مانند ہےَ۔ جسے کسی عورت نے تین سعا آٹے میں ملا دیا۔ یہاں تک کہ وہ سب خمیر ہوگیا۔ یہ سب باتیں یسُوؔع نے ہجُوم سے تمثیلوں میں کہیں اَور بِلا تمثیل اُن سے نہ بولتا تھا۔ تاکہ جو نبی کی معرفت کہا گیا تھا وہ پورا ہو کہ میَں تمثیلوں کے لئے اپنا منہ کھولوں گا۔میَں بنائے عالم کے اسرار ظاہر کروں گا۔

غوروخوض

خُداوند یسوؔع مسیح عظیم اُستاد تھے۔اُن کے تمثیلوں میں تعلیم دینے کا طریقہ اَور انداز منفرد تھا۔ اُن کا تمثیلوں میں تعلیم دینا اشعیاؔ نبی کی پیشنگوئی کی تکمیل تھا کہ ” میَں تمثیلوں کے لئے اپنا منہ کھولوں گا۔میَں بنائے عالم کے اسرار ظاہر کروں گا”۔ آج کی انجیل مقدس میں خُداوند یسوؔع مسیح کی دو تمثیلیں بیان کی گئی ہیں۔ یہ غالباً باقی تمثیلوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔

خُداوند یسوؔع مسیح نے کل کی انجیل ِ مقدس میں بھی آسمان کی بادشاہی کو تمثیلوں میں بیان کیا۔ اَور آج کی دو تمثیلیں بھی اُنہی کا تسلسل ہےَ۔ پہلی تمثیل میں آسمان کی بادشاہی کو رائی کے دانے سے تشبیہ دی گئی ہےَ۔ یہ بیجوں میں چھوٹا بیج ہےَ۔ رائی کے بیج کی خوبی ہےَ کہ یہ بڑی جلدی اُگ جاتا ہےَ۔ ہم سب رائی یا سرسوں کے پودوں سے واقف ہیں۔ یہ بڑھ کر انسان کے قد سے بھی اونچا ہوجاتا ہےَ۔ اِس کے پتے ساگ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اِس کے بیجوں سے تیل نکالا جاتا ہےَ۔ یہ چھوٹے پرندوں کا پسندیدہ بسیرا ہےَ۔ جہاں وہ بیٹھ کر اِس کے بیج کھاتے ہیں۔

رائی کے دانے کا چھوٹا پن ایک ضرب المثل ہےَ۔ رائی کے دانے کی تمثیل میں بونے والا خُداوند یسوؔع مسیح ہیں۔ کھیت دُنیا ہےَ۔ بیج خُدا کا کلام اَور اِس کا اثر ہےَ۔ اَور بیج کا بڑھنا دُنیا میں کلیسیا کی ترقی ہےَ۔ جس طرح رائی کا چھوٹا سا بیج بڑھ کر پودا بن جاتا ہےَ۔ اِس کی شاخیں پھیل جاتی ہیں۔ اِسی طرح انجیل کا پیغام دُنیا میں پھیلا ہےَ۔ اِس کا آغاز رائی کے بیج کی مانند چھوٹے پیمانے پر شروع ہُؤا۔ اَور آج خُداوند یسوؔع مسیح کی کلیسیا پوری دُنیا میں پھیل چکی ہےَ۔ دُنیا میں تقریباً دو ارب سے زیادہ مسیحی ہیں۔ جو دُنیا کی کل آبادی کا تقریبا ً اکتیس فی صد ہیں۔ جن میں سے سولہ فی صد کاتھولک ہیں۔ جس طرح آسمان کے پرندے آ کر رائی کے پودے پر بسیرا کرتے ہیں۔ اِسی طرح کلیسیا میں سب کو قبول کیا جاتا ہےَ۔ اپنے پرائے سب کلیسیا کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ جن میں غیر اقوام بھی شامل ہیں۔ جس طرح رائی کا پودا پرندوں کو اپنی طرف لُبھاتا ہے َ۔ اَور پرندے آکر اِس کے بیج کھاتے ہیں۔ اِسی طرح سب ہی کلیسیا سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

دوسری تمثیل خمیر کی ہےَ۔ جس میں خُداوند یسوؔع مسیح آسمان کی بادشاہی کو خمیر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جب خمیر کو آٹے میں ملایا جاتا ہےَ تو آٹا پھول جاتا ہےَ۔ جس  طرح خمیر کا اثر چھپا ہوتا ہےَ۔ اِسی طرح خُدا کا کلام سارے ماحول کو اپنے اثر میں لے لیتا ہےَ۔ خمیر سے مراد انجیل کاپیغام ہےَ۔ اَور آٹے سے مراد معاشرہ ہےَ۔ جس طرح خمیر آٹے پر اثرانداز ہوتا ہےَ۔ اِسی طرح انجیل کا پیغام لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیتا ہےَ۔ آسمان کی بادشاہی کا آغاز چھوٹے پیمانے پر انسان کے دِل سے شروع ہوتا ہےَ۔ اِس کا اثر پوشیدہ ہوتا ہےَ۔ مگر یہ جلد پھیلتے پھیلتے انسان کی پوری ذات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہےَ۔ اِس کا اثر اُس کے کردار اَور گفتار سے ظاہر ہونے لگتا ہےَ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا کی ہر ثقافت میں انجیل کے پیغام کا اثر دکھائی دیتا ہےَ۔

آج بھی جب ہم انجیل کا پیغام سُنتے ہیں تو اِس کا اثر ہماری زندگیوں پر ہوتا ہےَ۔ اَور خُداوند کا فضل دِن بہ دِن ہمیں تبدیل کرتا جاتا ہےَ۔ اَور یہی اثر کلیسیا اَور معاشر ے میں پھیلتا جاتا ہےَ۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ ہمیں اُس خمیر سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہےَ۔ جو جھوٹے معلموں کی تعلیم سے اثر انداز ہوتا ہےَ۔ خُداوند ہمیں انجیل کے پیغام کے مطابق تبدیل ہونے کا فضل عطا فرمائے۔

Read Previous

سٹار فِش

Read Next

مے اَور شراب میں کیا فرق ہےَ؟

error: Content is protected !!