عام ایام کے دوران سترھواں اتوار

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

برائے ۲۶ جولائی ۲۰۲۰

پہلا ملوک ۳: ۵، ۷۔۱۲

مزمور ۱۱۸

رومیوں ۸: ۲۸۔۳۰

انجیلِ مقدس بمُطابق مقدس متی ۱۳: ۴۴۔۵۲

آسمان کی بادشاہی اُس خزانے کی مانند ہےَ جو کھیت میں چُھپا ہُوا ہےَ جِسے کوئی آدمی پا کر چُھپا دیتا ہےَ اَور خُوشی کے مارے جا کر اپنا سب کچھ بیچتا اَور اُس کھیت کو مول لے لیتا ہےَ۔

پھر آسمان کی بادشاہی اُس سوداگر کی مانند ہےَ جو عُمدہ موتیوں کی تلاش میں ہےَ۔ جب وہ ایک بیش قیمت موتی پاتا ہےَ تو جا کر اپنا سب کچھ بیچتا اَور اُسے مول لیتا ہےَ۔

پھر آسمان کی بادشاہی اُس مہاجال کی مانند ہےَ جو جھیل میں ڈالا جاتا اَور ہر طرح کی مچھلیاں سمیٹ لیتا ہےَ۔ جب وہ بھر گیا تو اُسے کھینچ لاتے ہیں۔ اَور کنارے پر بیٹھ کر اچھی اچھی برتنوں میں جمع کر لیتے اور جو کام کی نہ ہوں پھنیک دیتے ہیں۔ دُنیا کے آخر میں ایسا ہی ہو گا۔ فرشتے نکلیں گے اَور راستبازوں کے درمیان سے بدکاروں کو جُدا کریں گے۔ اَور انہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اَور دانتوں کا بجنا ہو گا۔ کیا تُم یہ سب کچھ سمجھ گئے ہو؟ اُنہوں نے اُس سے کہا ہاں۔ تب اُس نے اُن سے کہا اِس لئے ہر ایک فقیہہ جو آسمان کی بادشاہی کی تعلیم پا چُکا۔ گھر کے اُس مالک کی مانند ہےَ جو اپنےخزانے سے نئی اَور پُرانی چیزیں نکالتا ہےَ۔

غوروخوص:

آپ کی زندگی کا سب سے بڑا خزانہ کیا ہےَ اَور آپ اِس کی کِس طرح حفاظت کرتے ہیں۔ جب بینک نہیں ہُوا کرتے تھے اَور زیادہ تر لوگوں کا پیشہ کھیتی باڑی تھی تو لوگ اپنا خزانہ زمین میں دفن کر دیتے تھے۔ اَور ضرورت پڑنے پر اُسے نکال لیتے تھے۔ پوشیدہ خزانے کی تمثیل میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب اُس آدمی کو معلوم ہُوا کہ فلاں کھیت میں خزانہ چُھپا ہُوا ہےَ تو اُس نے خُوشی کے مارے جا کر اپنا سب کچھ بیچ ڈالا اَور کھیت کو خرید لیا۔ اسی طرح خُدا اپنی بادشاہی کا خزانہ ہمیں پیش کرتا ہےَ۔ یہ ایک ایسا انمول خزانہ ہےَ جس کو ہم کسی قیمت پر خرید نہیں سکتے۔ خُدا نے جو زندگی ہمیں عطا کی ہےَ۔ ہم اَس کی پوری قیمت ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن جب ہم اپنی زندگی کو مسیح کی نئی زندگی میں بدلتے ہیں تو ہم ایک ایسا انمول خزانہ پاتے ہیں جس کا کِسی اَور خزانے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ بیش قیمت موتی کی تمثیل بھی ہمیں یہی درس دیتی ہےَ جب ہم خُدا کی بادشاہی کو پالیتے ہیں تو یہ ایسا خزانہ ہےَ جسے ہمیں ہر قیمت پرحاصل کرنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ اَس تمثیل خُداوند یسوع مسیح ہمارا خزانہ ہے۔ ایوب نبی فرماتے ہیں کہ “قادرِ مطلق تیرا سونا اَور تیرا چاندی کا ذخیرہ ہو گا۔ اُس وقت قاردِ مطلق میں تیری لذت ہو گی” (ایوب ۲۲: ۲۵)۔ آج بہت سے لوگ بے خُدا ہیں۔ وہ ایسے زندگی گزار رہے ہیں جیسے اُن کو خُدا کی ضرورت نہیں ہےَ۔ وہ اپنا ایمان دُنیا کی دولت کے لئے بیچ رہے ہیں۔

آج کی انجیلِ مقدس میں خُداوند یسوع مسیح آسمان کی بادشاہی کو مہاجال سے تشبیہ دیتے ہیں۔ مہاجال کے معنی ہیں مچھلیاں پکڑنے والا بہت بڑا جال۔ ماہی گیر اَس قسم کے جال کو گلیلؔ کی جھیل میں ڈال دیتے تھے۔ اَور جب اِس میں بہت سی مچھلیاں آجاتی تھیں تو ماہی گیر اُسے کھینچ کر کنارے پر لے آتے۔ اَور وہاں بیٹھ کر اچھی اچھی مچھلیوں کو برتنوں میں جمع کر لیتے اَور جو کام کی نہ ہوتیں انہیں پھینک دیتے تھے۔ خُداوند یسوع مسیح اِس تمثیل کر وضاحت بیان کرتے ہیں کہ “دُنیا کے آخر میں ایسا ہی ہو گا۔ فرشتے نکلیں گے اَور راستبازوں کے درمیان سے بدکاروں کو جُدا کریں گے۔ اَور انہیں آگ کی بھٹی میں ڈال دیں گے۔ وہاں رونا اَور دانتوں کا بجنا ہو گا”۔ جِس طرح مہاجال جب جھیل یا سمندر میں ڈالا جاتا ہےَ وہ اپنے اندر ہر طرح کی مچھلیوں کو سمیٹ لیتا ہےَ۔ جِس طرح جال امتیاز نہیں کرتا کہ کون سی مچھلی کِتنی قدرِوقیمت رکھتی ہےَ اِسی طرح انجیل کا پیغام بہت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہےَ۔ اَور اِن لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو دِل سے نہ تو انجیل پر ایمان لاتے ہیں۔ نہ توبہ کرتے ہیں۔ نہ خُداوند یسوع مسیح کی تعلیم کے مطابق زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جِس طرح پانی میں ڈالے ہوئے جال سے اچھی مچھلیوں کو کام نہ آنے والی مچھلیوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک کہ جال کِنارے پر نہ لایا جائے۔ اِسی طرح سچے ایمانداروں کو ایسے ایمانداروں سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ جو خُداوند خُداوند پُکارتے ہیں مگر دِل اُن کا خُداوند سے دُور ہےَ۔ آخر میں خُداوند یسوع مسیح اپنے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا تُم یہ سب کچھ سمجھ گئے ہو؟ اُنہوں نے کہا ہاں۔ آج مہاجال کی جو تمثیل خُداوند نے پیش کی ہےَ وہ ہم سے بھی سوال کرتے ہیں کہ آیا ہم اِس تمثیل معنی سمجھ گئے ہیں۔ اگر سمجھ گئے ہیں تو ہم نے سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا کہ ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔ راستبازوں کے ساتھ یا بدکاروں کے ساتھ، ہماری جگہ آسمان کی بادشاہی میں ہو گی یا آگ کے بھٹی میں۔ یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہو گا۔ خُدا کا کلام ہمارے دِلوں میں جڑ پکڑے تا کہ ہم خُداوند کی انجیل کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

Read Previous

بائیبل مقدس میں جادُوکی حقیقت کیا ہےَ؟

Read Next

سٹار فِش

error: Content is protected !!