انجیل مقدس برائے 21 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

روحانی رشتہ تمام رشتوں سے افضل ہے

انجیل ِ مقدس متی 12: 46-50

جب وہ ہجوم سے باتیں کر رہا تھا تو دیکھو اُس کی ماں اَور بھائی باہر کھڑے تھے۔ اَور اُس سے بات کرنا چاہتے تھے۔ تب کسی نے اُس سے کہا کہ دیکھ تیری ماں اَور تیری بھائی باہر کھڑے ہیں۔ اَور تجھ سے مِلنا چاہتے ہیں۔ لیکن اُس نے جواب میں خبر دینے والے سے کہا۔ کون ہےَ میری ماں اَور کون ہیں میرے بھائی ؟ اَور اپنا ہاتھ اپنے شاگردوں کی طرف بڑھا کر کہا کہ دیکھو میری ماں اَور میرے بھائی! کیونکہ جو کوئی میرے باپ کی جو آسمان پر ہےَ مرضی پر چلتا ہےَ۔ میرا بھائی اَور بہن اَور ماں وہی ہےَ۔

غوروخوض

خُداوند یسوؔع مسیح ہجوم سے باتیں کر رہے تھے کہ کسی نے آکر اُسے خبردی کہ تیری ماں اَور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں۔ یقیناً ماں کے ساتھ یہ اُس کے رشتہ دار بھائی آئے تھے۔ خبردینے والے نے کہا کہ وہ تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اَور خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنا ہاتھ اپنے شاگردوں کی طرف بڑھا کر کہا کہ دیکھو میری ماں اَور میرے بھائی۔ اَور وہ اِس رشتے کی وضاحب کرتے ہیں۔ کہ جو کوئی میرے باپ کی جو آسمان پر ہےَ مرضی پر چلتا ہےَ۔ میرا بھائی اَور بہن اَور ماں وہی ہےَ۔ایسا کہنے سے خُداوند یسوؔع مسیح اپنے خونی رشتوں کی نفی نہیں کرتے۔ بلکہ اُس رشتے کی طرف اِشارہ کرتے ہیں جو خونی رشتوں سے بھی افضل ہےَ۔

خُداوند یسوؔع مسیح کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ جو فرماتے ہیں کہ تو اپنے ماں باپ کی عزّت کر۔ اَور سب کو پیار کرنے کی بات کرتے ہیں۔وہ خود کس طرح اپنے خاندان کو رد کر سکتے تھے اَور فقہیہوں اَور فریسیوں کی تنقید کا نشانہ بن سکتے تھے۔چونکہ وہ تعلیم دے رہے تھے ۔ اِس لئے وہ موقعہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے شاگردوں کو ایک نئے رشتے کا درس دینا چاہتے تھے۔ وہ یہ کہ اِیمان کا رشتہ جسد اَور خون کے رشتے سے افضل ہےَ۔ جو آسمانی باپ کے وسیلے سے خُداوند یسوؔع مسیح کے ساتھ کامل وفاداری کا رشتہ ہےَ۔ مسیحی ہونا یا خُداوند کا شاگرد بننا خُداوند یسوؔع مسیح اَور دوسروں کے ساتھ ہمیں ایک نئے رشتے میں منسلک کردیتا ہےَ۔ باقی انسانی بندھن ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ بشرطیکہ اِیمان کے رشتے کو خُداوند یسوؔع مسیح کی نظروں سے دیکھا جائے۔

میَں انگلینڈ میں ایک ایسی جگہ کام کرتا تھا جہاں سکھ عورتیں اکثریت میں تھیں۔جب کھانے کا وقفہ ہوتا تھا۔ تو مشرقی عورتیں کھانے کے بعد ٹولیوں میں بیٹھ کر آپ میں گفتگو کیا کرتھی تھیں۔ اِن سکھ عورتوں کے درمیان ایک پولش لڑکی بھی تھی ۔ جو اُن سے ہٹ کر الگ تھلگ بیٹھی ہوتی تھی۔ سکھ عورتوں نے محسوس کیا کہ شاید وہ لڑکی پریشان ہےَ۔ اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ معلوم کرو کہ اُس کا مسئلہ کیا ہےَ۔ اگر کوئی مسئلہ ہےَ تو وہ اُس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔

میَں اُس پولش لڑکی کے پاس گیا۔ اُس نے اپنا نام مگداؔ( مگدلینی سے نام مگدا نکلا ہےَ) بتایا۔ جب اُس سے عورتوں سے الگ بیٹھنے کی وجہ دریافت کی۔ تو اُس نے بتایا کہ چونکہ سب سکھ عورتیں پنجابی زبان میں گفتگو کرتی تھیں۔ جو اُس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ لہذا کام کے وقفہ کے دَوران اُس نے مناسب سمجھا کہ وہ اپنی بائیبل مقدس پڑھ لیا کرے گی۔ اُس نے ایک پاکٹ بائیبل دکھاتے ہوئے بتایا کہ وہ دوسروں سے فضول باتیں کرنے کی بجائے اِس دَوران اپنے خُداوند سے گفتگو کر لیتی ہےَ۔

مگداؔ نے میرا نام پوچھا۔ جب میَں نے اپنا نام عمانوایل بتایا۔ تو وہ میرا نام سُن کر بڑی خوش ہوئی اَور کہنے لگی  کہ اچھا تم بھی مسیحی ہو۔ اُس نے میری کلیسیا کا نام پوچھا۔ میَں نے بتایا کہ میَں کاتھولک ہوں ۔اَور اُس نے بتایا کہ وہ آرتھوڈکس کلیسیا کی رُکن ہےَ۔ اِس کے بعد وہ اکثر وقفے کے دَوران میرے پاس کھڑی ہو جاتی  اَور بائیبل مقدس کے مختلف موضوعات پر بات ہوتی۔ جب سکھ عورتوں نے اُسے اکثر میرے ساتھ باتیں کرتے دیکھا۔ تو اُن کے ذہن میں شک آیا۔ ایک دِن اُنہوں نے میری طرف اِشارہ کرتے ہوئے  طنزیہ مگد ا ؔ سے پوچھا ” کیا وہ آپ کا بوائےفرینڈ ہےَ؟” مگداؔ نے اُنہیں جواب دیا کہ بوائے فرینڈ نہیں ۔ بوائے فرینڈ سے بھی بڑھ کر ہےَ”۔ اِس پر سکھ عورتیں حیران ہو کر آپس میں کہنے لگیں  کہ بوائے فرینڈ تو سُنا تھا۔ لیکن بوائے فرینڈ سے بڑھ کر ہےَ۔ یہ نہیں سُنا تھا۔

سکھ عورتوں کے ذہن میں سوالات گردش کرتے رہے۔ اگلے روز اُنہوں نے مگداؔ کو کریدتے ہوئے پوچھا” مگداؔ تم نے کل کہا تھا عمانوایل تمہارا بوائے فرینڈ نہیں ۔ بوائے فرینڈ سے بھی بڑھ کر ہےَ۔ اِس کا مطلب کیا ہےَ۔ مگداؔ نے جواب میں اُن سے کہا کہ وہ میرا بھائی ہےَ۔ اِس جواب نے سکھ عورتوں کو اَور بھی پریشان کردیا۔ وہ سوچ میں پڑگئیں کہ مگداؔ گوری ہےَ اَور عمانوایل ایشین ہےَ۔ یہ کیسے ہوسکتا ہےَ۔ اُنہوں کا خیال تھا کہ شاید کسی انگریز نے کسی ایشین عورت سے شادی کی ہوگی۔ جس سے یہ دونوں بچے پیدا ہوئے ہیں۔

ابھی کچھ دِن گزرے تھے کہ وہ سکھ عورتیں میرے پاس آئیں۔ اَور مجھ سے وضاحت چاہی ۔اَور کہنے لگیں کہ مگداؔ کہتی تھی کہ تم اُس کے بھائی ہو۔ کیا یہ سچ ہےَ۔ میَں نے کہا کہ بالکل سچ ہے َ۔ وہ میری بہن ہےَ۔ ہمارا باپ ایک ہےَ اَور مائیں دو ہیں۔ میرے اِس جواب سے وہ سمجھیں کہ شاید ہمارا باپ کوئی گورا اَور مائیں دو یعنی ایک یورپین اَور ایک ایشین ہیں۔ وہ مزید جاننا چاہتی تھیں۔ میَں نے اُن کو بتایا کہ ہم دونوں مسیحی ہیں۔ خُدا ہمارا باپ ہےَ۔ اَور کلیسیا ہماری ماں ہےَ۔ مگداؔ کی ماں آرتھوڈکس اَور میری ماں کاتھولک ہےَ۔ ہم مسیحی جہاں کہیں بھی دُنیا میں جائیں۔ ہم آپس میں بھائی بہن ہوتے ہیں۔ یہ سُن کر وہ حیران رہ گئیں۔ یہ روحانی رشتہ تمام رشتوں کے افضل ہےَ۔ یہی وہ رشتہ ہےَ جس کی بابت خُداوند یسوؔع مسیح آج کی انجیل میں سمجھاتے ہیں۔

Read Previous

کیا مرحوم عزیزوں کے لئے دُعا کرنی چاہئیے؟

Read Next

مدر ٹریضؔہ اَور بیکری والا

error: Content is protected !!