سال کے عام ایّام کےدَوران اٹھارھواں اتوار

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

پہلی تلاوت اِشعیا 55: 1-3 | مزمور 144 | دوسری تلاوت رومیوں 8: 35، 37-39

انجیل مقدس: متی 14: 13-21

اَور یسُوؔع یہ سُن کر وہاں سے کشتی پر الگ کسِی ویران جگہ کو روانہ ہُؤا۔ اَور جَب ہجُوم نے سنا تو وہ شہروں سے پیدل اُس کے پیچھے گیا۔ اَور اُس نے اُتر کر ایک بڑا ہُجوم دیکھا۔ اَور اُسے اُن پر ترس آیا۔ اَور اُس نے اُن کے بیماروں کو شفا بخشی۔ اَور جَب شام ہُوئی تو شاگردوں نے اُس کے پاس آکر کہا۔ کہ جگہ ویران ہےَ اَور اَب وقت گزُر چُکا ہےَ۔ ہجوُم کو رخصت کر۔ تا کہ گاؤں میں جا کر اپنے لئے ِ کھانا مول لیں۔ پر یسُوؔع نے اُن سے کہا۔اِن کا جانا ضرور نہیں تم ہی اُنہیں کھانے کو دو۔ مگراُنہوں نے اُس سے کہا ۔ کہ یہوں ہمارے پاس پانچ روٹیوں اَور دو مچھلیوں کے سوا اَور کچھُ نہیں۔ تو اُس نے کہا کہ اُنہیں۔ یہاں میرے پاس لےلاؤ۔ اَور اُس نے ہجوم کو گھاس پر بیٹھنے کا حُکم دیا۔ پھر اُس نے وہ پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں۔ اَور آسمان کی طرف دیکھ کر برکت دی اَور توڑ کر روٹیاں شاگردِوں کو دیں اَور شاگردوں نے ہجوم کو۔ اَور وہ سَب کھا کر سیر ہوگئے۔ اَور اُنہوں نے ٹکڑوں سے بَھری ہُوئی بارہ ٹوکریاں اُٹھائیں ۔ اَور عورتوں اَور بچوں کے علاوہ کھانے والے تقریباً پانچ ہزار مرد تھے۔

غوروخوض

خُداوند یسوؔع مسیح جہاں کہیں جاتے لوگ اُن کے پیچھے ہولیتے تھے۔ کونسی ایسی بات تھی جو لوگوں کو کھینچ کر خُداوند کے پاس لاتی تھی۔ یہ خُدا کی طلب تھی۔ خُدا کی بھوک  اُنہیں کھینچ کر لاتی تھی۔ خُداوند یسوؔع نے کبھی بھی اُن لوگوں کو بھوکا نہیں رہنے دیتا تو سچے دِل کے ساتھ اُس کی تلاش کرتے ہیں۔آج کی تلاوت میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب خُداوند یسوؔع مسیح اَور اُس کے شاگرد کشتی میں سوار ہو کر گلیل ؔ کے پار ویران جگہ کی طرف روانہ ہوئے تاکہ کچھ آرام کر سکیں۔ تو وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی  ہجوم وہاں پہنچ چکا تھا۔ خُداوند یسوؔع مسیح نے لوگوں کو دیکھ کر اُنہیں ڈانٹا نہیں کہ اُن کے آرام کا وقت تھا۔ بلکہ خُداوند یسوؔع مسیح کو اُن پر ترس آیا۔ خُداوند نے اُن کو شفادی اَور سارا دِن اُن کو آسمان کی بادشاہی کی تعلیم دی۔

اَب شام ہونے کو تھی۔ لوگ سارا دِن کے تھکے ماندے تھے۔ شاگردوں نے خُداوند یسوؔع سے درخواست کی کہ وہ اَب ہجوم کر رُخصت کرے۔ تاکہ وہ جا کر ارد گرد کے گاؤں سے کھانا مول لے آئیں۔ مگر خُداوند یسوؔع مسیح نے شاگردوں سے کہا کہ ان کو یونہی رخصت نہ کرو۔ بلکہ تم خود ہی ان کو کھانے کو دو۔ مگر اُنہوں نے کہا وہاں تو صرف پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں ہیں۔ جو ہجوم کے لئے ناکافی ہیں۔ خُداوند نے وہی پانچ روٹیاں اَور دو مچھلیاں لیں اَور اُن کو برکت دی اَور شاگردوں سے کہا کہ وہ ہجوم میں بانٹ دیں ۔شاگردوں نے وہ بانٹ دیں ۔ سب نے سیر ہو کر کھایا۔ اَور بچ جانے والے ٹکڑوں سے بارہ ٹوکریاں اُٹھائیں۔

ہم پانچ روٹیوں اَور دو مچھلیوں کے معجزے سے یہ سبق سیکھتے ہیں کہ جب ہم خُداوند یسوؔع مسیح کی تلاش کرتےہیں۔ تو وہ ہمیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ وہ ہماری سب ضرورتوں کو پورا کرتا ہےَ۔ خُداوند ناممکن کو ممکن میں تبدیل کر دیتا ہےَ۔ اگر خُداوند چاہتے تھے تو وہ لوگوں کو ویسے ہی روٹی کھلاسکتے تھے۔ مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ خُداوند یسوؔع مسیح اپنے شاگردوں کو بھی اپنے حصّے کا کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اِس لئے وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے پاس ہےَ میرے پاس لے آؤ۔ جب ہم خُداوند کو دیتے ہیں۔ تو خُداوند کی برکت سے وہ بکثرت ہو جاتا ہےَ۔ اَور ہماری سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر بن جاتا ہےَ۔

آج بھی لوگ خُدا اَور خُداکے کلام کے بھوکے ہیں۔ خُداوند پہلے لوگوں کی روحانی بھوک مٹاتے ہیں۔ پھر ان کی جسمانی بھوک کا خیال رکھتے ہیں۔ اِس لئے وہ اپنے شاگردوں سے کہتے ہیں کہ “تم ہی کھانے کو دو”۔ بعض اوقات ہم شاگردوں کی طرح سوچتے ہیں کہ جو ہمارے پاس ہےَ وہ لوگوں کی بھوک مٹانے کے لئے کافی نہیں ہےَ۔ سب سے پہلے ہمارے اندر لوگوں کے لئے احساس ہونا چاہئیے۔ پھر خواہ یہ کلام کی خدمت میں اپنا چھوٹا سا کردار ادا کریں یا کسی فلاحی خدمت کا کام ہو۔ خُداوند اِس کو برکت دے کر بڑھا سکتا ہےَ۔

Read Previous

کنویں کے مینڈک

Read Next

ہگیا صوفیہ چرچ سے مسجد، مسجد سے میوزیم اَور میوزیم سے مسجد

error: Content is protected !!