انجیلِ مقدس برائے 14 اگست 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیلِ مقدس بمُطابق مقدس متی 19: 3- 12

اَور فریسی اُس کو آزمانے کے لِئے اُس کے پاس آئے۔ اَور کہا کہ کیا روا ہےَ کہ مرد کسی بھی سَبب سے اپنی بیوی کو چھوڑ دے؟ اُس نے جواب میں کہا ۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ جِس نے ابتدا میں اِنسان کو بنایا۔ اُنہیں نَر و ناری بنایا۔ اَور فرمایا کہ ” اِس واسطےمرد اپنے باپ اَور اپنی ماں کو چھوڑے گا اَور اپنی بیوی سے مِلا رہے گا اَور وہ دونوں  ایک تن ہوں گے” سو اَب وہ دو نہیں بلکہ ایک تن ہیَں۔ پس جسے خُدا نے جوڑا ہےَ اُسے انسان جُدا نہ کرے ۔ اُنہوں نے اُس سے کہا۔پُھر مُوسی ٰؔنے کیوُں حکم دیا کہ طلاق نامہ دے کر اُسے چھوڑ دے۔ اُس نے اُن سے کہا  کہ موسی ٰؔ نے تمہاری سَخت دِلی کے سبب سے تمہیں اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی لیکن شروع سے اَیسا نہ تھا۔ پر میَں تم سے کہتا ہُوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سِوا کسی اَور وجہ سے چھوڑ دے اَور دُوسری سے بیاہ کرے۔ زنا کرتا ہےَ اَور جو کوئی اُس چھوڑی ہُوئی کو بیاہےزِنا کرتا ہےَ۔

شاگردوں نے اُس سے کہا کہ اگر مَرد کا بیوی کے ساتھ اَیسا ہی حال ہے تو بیاہ کرنا ہی اَچھّا نہیں۔ اُس نے اُن سے کہا کہ یہ بات سَب کی سمجھ میں نہیں آتی مگر اُن کی جن کو دیا گیا ہےَ۔

غوروخوض

آج کی تلاوت میں ازدواجی اَور مجرد زندگی  دونوں کے بارے میں  خُدا کی رضا بیان کی گئی ہےَ۔تلاوت کے پہلے حصّے (آیات 3-19) میں خُداوند یسُوؔع مسیح نے طلاق کے بارے میں تعلیم دی ہےَ۔ دوسرے حصّے ( آیات 10-12) میں مجرد زندگی کے بارے میں تعلیم دی گئی ہےَ۔

آج کی تلاوت کے مطابق بعض فریسی خُداوند یسُوؔع مسیح کو آزمانے کے لئے اُس کے پاس آئے۔اَور سوال کیا کہ کیا رواہےَ کہ مَرد کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو چھوڑدے؟خُداوند یسُوؔع مسیح نے تخلیق کے منصوبے میں کی روشنی میں اُن کو سمجھایا۔میاں بیوی کا باہمی رشتہ تخلیق کے وقت سے ہی خُدا کی رضا میں شامل تھا۔

ازدواجی زندگی میاں بیوی کی تا حیات رفاقت ہےَ۔اِس رفاقت کو قائم کرنے والی ذات خُدا کی ہےَ۔خُدا ہی ازدواجی زندگی کا بانی ہےَ۔خُداوند یسُوؔع مسیح نے اِس باہمی اَور دائمی رفاقت کی اہمیت اَور پائیداری پر زور دیا۔

فریسی خُداوند یسُوؔع مسیح کے جواب سے مطمئن نہ تھے۔اُنہوں اُس سے دوسرا سوال کیا۔کہ “پھر موسیٰؔ نے کیوں حُکم دیا کہ طلاق نامہ لکھ کر اُسے چھوڑ دے؟”غور کریں کہ موسیٰؔ نے اُنہیں طلاق دینے کا حُکم نہیں دیا تھا۔فریسیوں نے اپنے مفاد کی خاطر طلاق کی اجازت کو حُکم میں تبدیل کر لیا تھا۔

خُداوند یسُوؔع مسیح نے فریسیوں کی تصحیح کرتے ہوئےطلاق دینے کی وجہ بیان کی کہ “موسیٰؔ نے تمہاری سخت دِلی کے سبب سے تمہیں اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اجازت دی تھی”۔ عہدِ عتیق کے زمانےمیں موسیٰ ؔ کی شریعت کے مطابق طلاق نامہ لکھ کر دینے سے طلاق ہو جاتی تھی۔طلاق کے عمل میں بیوی کو کوئی حق نہیں دیا گیا تھا۔ خُداوند یسُوؔع مسیح نے اُنہیں طلاق دینے کا واحد جوا ز حرامکاری بیان کیا۔شادی بے وفائی کے نتیجہ میں برباد ہوسکتی ہےَ۔ خُداوند یسُوؔع مسیح نے طلاق کے لئے شرط حرامکاری رکھی ہےَ۔

خُداوند یسُوؔع مسیح نے طلاق کے متعلق تعلیم دیتے ہوئے فرمایا کہ طلاق یافتہ مرد یا عورت اگر دوبارہ شادی کرتے ہیں تو وہ زنا کرتے ہیں۔اَور زانی خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے۔اِس لئے مسیحیوں کو طلاق کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئیے۔

ازدواجی زندگی اَور مجرد زندگی دونوں خُدا کی طرف سے بلاہٹیں ہیں۔دونوں میں خُدا کی رضا کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہےَ۔ لیکن خُداوند یسُوؔع مسیح بیان کرتے ہیں کہ مجرد زندگی افضل ہےَ۔بشرطیکہ کہ اعلیٰ مقصد کے لئے اِختیار کی جائے۔جنہوں نے یہ زندگی اپنائی ہےَ۔اُنہوں نے آسمان کی بادشاہی کی خاطر ازدواجی زندگی ترک کی ہےَ۔تاکہ وہ غیر منقسم دِل کے ساتھ خُدا کی بادشاہی کے لئے کام کرسکیں۔

Read Previous

شیر اَور لومڑی کی کہانی

Read Next

سولی اَور صلیب میں کیا فرق ہےَ؟

error: Content is protected !!