انجیلِ مقدس برائے 13 اگست 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیلِ مقدس بمُطابق مقدس متی 18: 21- 19: 1

تب پطرس نے پاس آکر اُس سے کہا اے خُداوند کتنی دفعہ میرا بھائی میرا گناہ کرے اَور میَں اُسے مُعاف کرُوں ۔ کیا سات دفعہ تک؟ یسُوع نے اُس سے کہا۔ میَں تجھُ سے یہ نہیں کہتا کہ سات دفعہ بلکہ سات دفعہ کے ستّر بار تک۔

اِس لِئے آسمان کی بادشاہی اُس بادشاہ کی مانند ہےَ۔ جس نے اپنے خادموں سے حساب لینا چاہا۔  تو جب حساب لینے لگا۔تو اُس کے سامنے دس ہزار قنطار کا قرضدار حاضر کیِاگیا۔ اَور چونکہ اُس کے پاس  ادا کرنے کے لِئے  کچھ نہ تھا ۔اِس لِئے اُس کے آقا نے حُکم دِیا کہ یہ اَور اِس کی بیوی اَور بال بچّے اَور سَب کچھُ جو اِس کا ہےَ بیچا جائے اَور قرض وصول کر لیا جائے۔ مگر اُس نے گرِ کر اُس نی منّت کی۔ اَور کہا میرے بارے میں صبر کر اَور میَں تجھے سَب ادا کروں گا۔ اُس خادِم کے آقا نے ترس کھا کر اُسے چھوّڑ دیا۔ اَور قرض اُسے بخش دیا۔

مگر جَب وہ خادم باہر نکِلا۔ تو اُس کے ہمَ خدِمتوں میں سے ایک  اُسے مِلا جس پر اُس کے سَو دینا رآتے تھے۔ اُس نے اُس کو پکڑ کر اُس کا گلا گھونٹا۔ اَور کہا۔ اپنا قرض اداکر۔ تب اُس کے ہم خدمت نے گرِ کر اُس کی منّت کی اَور کہا۔ میرے بارے میں صبر کو۔ تو میَں تجھے سَب اَداکرُوں گا۔ مگر اُس نے نہ مانا۔ بلکہ جا کر اُسے قَید خانے میں ڈال دیا۔ جَب تک کر وہ قرض ادا نہ ادا کردے۔

اُس کے ہمَ خَدمت جو کچھُ ہُوا تھا۔ وہ سَب دیکھ کر نہایت غمگین ہُوئے۔ اَور آکر اپنے آقا سے تمام واردات بیان کی۔ تب اُس کے آقا نے اُسے بُلوایا اَور اُس سے کہا۔اَے شریر خادِم میں نے سارا قرض تجھے بخش دیا۔ کیُونکہ تُو نے میری منّت کی۔ تو کیا لازم  نہ تھا کہ جیسا میَں نے تجھ پر رحم کیِا تُو بھی اپنے ہَم خدمت پر رحم کرتا ؟ اَور اُس کے آقا نے غصے ہو کر اُس کو جَلادوں کے حوالے کیِا۔ جَب تک کہ تمام قرض ادا نہ کرے۔

میرا آسمانی باپ بھی تمہارے ساتھ اِسی طرح کرے گا۔ اگر تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کو دل سے مُعاف نہ کرے گا۔ اَور یوں ہُؤا کہ جب یسُوؔع یہ باتیں ختم کر چُکا تو وہ جلیلؔ سے روانہ ہُؤا۔

غوروخوض

آج کی تلاوت  رحمدلی اَورمعافی کے بارے میں ہےَ۔ مقدس پطرسؔ نے خُداوند یسُوؔع مسیح سے مُعافی کے بارے میں سوال کیا تھاکہ ” اَے خُداوند کتنی دفعہ میرا  بھائی میرا گُناہ کرےاَور میَں اُسے معاف کروں ۔ کیا سات دفعہ ؟”خُداوند یسُوؔع مسیح کے زمانے میں ربیوں کی تعلیم تھی کہ اگر کسی کا بھائی کو ئی گناہ کرے  تو اُسے تین بار معافی کا موقعہ دینا چاہیے۔مقدس پطرؔس نے اِس کی بجائے سات دفعہ معاف کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔مقدس پطرؔس چاہتا تھا کہ معافی کی حد مقرر کی جائے۔مگر خُداوند یسُوؔع مسیح نے سات بار معافی دینے کی تجویز کو قبول نہیں کیا۔ بلکہ مقدس پطرؔس کے جواب میں اُس نے فرمایا کہ “میَں تجھ سے یہ نہیں کہتا کہ سات دفعہ بلکہ سات دفعہ کے ستر بار تک”۔جس کا مطلب ہے َ کہ معافی کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی۔

خُداوند یسُوؔع مسیح نے مقدس پطرؔس کو معافی کا درس دینے کے لئے ایک تمثیل پیشکش کی جو سخت دِل خادم کی تمثیل کہلاتی ہےَ۔ یہ تمثیل دو حصّوں پر مشتمل ہےَ۔ پہلے حصّے میں (آیات 23 -30) میں خُداوند یسُوؔع مسیح اُس شخص کی بات کرتے ہیں جو خود دوسرے  سے معافی کا طلبگار ہُؤا جس کے اُس نے دس ہزار قنطار ادا کرنا تھے۔ دوسرے حصّے (آیات31۔ 35) میں خُداوند یسُوؔع مسیح اُس شخص کی بات کرتے ہیں  جس سے دوسرا شخص معافی کا طلب گار ہُؤا جس نے اُس کےک سو دینار ادا کرنا تھے۔

تمثیل میں آقا اَور دو خادموں کے بارے میں بتایا گیا ہےَ۔ پہلا خادم دس ہزار قنطار کا قرضدار تھا۔خُداوند یسُوؔع مسیح کے زمانے میں دس ہزار قنطار 350 ٹن سونے کے برابر تھے۔جو ایک صوبے کا سال بھر کا ٹیکس ہو تا تھا۔یا یہ اتنی بڑی رقم تھی جو کسی بادشاہ کو چھڑانے کے لئے فدیہ کے طور پر ادا کی جاتی تھی۔آپ خود اندازہ لگالیں کہ 350 ٹن سونے کی آج مالیت کیا ہےَ۔

خُداوند یسُوؔع مسیح کے زمانے میں قانون تھا کہ اگر کوئی قرضدار اپنا قرض ادا نہ کرسکے۔تو اُس کی بیوی، بال بچوں اَور جو کچھ اُس کے پاس ہےَ۔ سب کچھ بیچ کر قرضدار سے وصول کیا جائے۔ مگر خادم کے منت کرنے پر آقا نے اُسے دس ہزار قنطار معاف کرئیے۔اگر قرضدار اَور اُس کے بیوی بچے ساری عمر محنت کرتے رہتے۔ تو وہ تب بھی یہ قرض ادا نہ کرسکتے۔ بلکہ یہ قرض نسل در نسل چلتا رہتا۔آقا کی فراخدلی دیکھیے اُس نے 350 ٹن سونے کے برابر اُس کو قرض معاف کردیا۔

دوسری طرف اِس خادم کارویہ دیکھیں۔ جیسے ہی یہ باہر نکلا۔اِس نے اپنے ہم خدمتوں میں سے ایک کو پکڑا جس نے اُس کاسو دینا ریعنی 30 گرام سونے کے برابر رقم اَدا کرنا تھی۔اُس نے اُس کا گلہ گھونٹا اَور کہا کہ میری رقم ابھی واپس کر۔اُس کے ہم خدمت نے اُس کی منت کی اَور اُسے تھوڑا صبر کرنے کو کہا۔ مگر وہ نہ مانا۔ بلکہ اُسے قید خانے میں ڈال دیا۔

جب دوسرے ہم خدمتوں کو اِس واقعہ کا علم ہُؤا۔ تو اُنہوں نے اپنے آقا کو بتایا جس پر آقا کو اِس خادم پر بڑا غصّہ آیا۔ اُس نے نہ معاف کرنے والے خادم کو بلا کر کہا۔ اے شریر خادم میَں نے تیرا سارا قرض معاف کردیا۔ مگر تو نے کیا کیا۔تو نے  اُسے جلادوں کے حوالے کردیا۔

تمثیل ان الفاظ پر ختم ہوتی ہےَ کہ آسمانی باپ بھی اُن کے ساتھ وہی سلوک کرے گاجو اپنے بھائی کو دِل سے معاف نہیں کرتے۔ تمثیل میں دئیے گئے کرداروں میں اپنا کردار پہچانیں۔ کیا ہم آقا کی طرح فراخدل ہیں یا سخت دِل خادم کی طرح خود تو معاف کئے جانے کی تمنا رکھتے  ہیں لیکن خود کسی کو معاف نہیں کرتے۔ذرا غور کریں کہ آسمانی باپ کا ہم نے کتنا قرض ادا کرنا ہےَ۔ہماری ساری زندگی اُس کی مقروض ہے۔ اُس نے اپنے بیٹے کے کفارہ کے وسیلہ سے ہمارے سب گناہ معاف کر دئیے ہیں اَور ہم نے کسی کے معاف کئے ہیں؟

Read Previous

قناعت

Read Next

شیر اَور لومڑی کی کہانی

error: Content is protected !!