انجیل مقدس برائے 13 جولائی 2020

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

انجیل ِ مقدس بمطابق مقدس متی 10: 34- 11:1

یہ مت سمجھو کہ میَں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں۔صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہُوں۔ کیونکہ میَں اِس لئے آیا ہُوں کہ آدمی کو اُس کے باپ سے اَور بیٹی کو اُس کی ماں سے اَور بہُو کو اُس کی ساس سے جُدا کراؤں۔ اَور آدمی کے دُشمن اُس کے گھر والے ہوں گے۔ جو کوئی باپ یا ماں کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہےَ۔ وہ میرے لائق نہیں۔اَور جو کوئی بیٹے یا بیٹی کو مجھ سے زیادہ پیار کرتا ہےَ۔ وہ میرے لائق نہیں۔ اَور جو کوئی اپنی صلیب نہ اُٹھائے اَور میرے پیچھے نہ ہولے۔ وہ میرے لائق نہیں۔ جو کوئی اپنی جان بچاتا ہےَ۔اُسے کھوئے گا۔ لیکن جو میری خاطر اپنی جان کھوتا ہےَ۔ اُسے بچائے گا۔ جو تمہیں قبول کرتا ہے وہ مجھے قبول کرتا ہےَ۔ وہ اُسے قبول کرتا ہےَ جس نے مجھے بھیجا ۔ جو کوئی نبی کے نام سے نبی کو قبول کرتا ہےَ۔ وہ نبی کا  اَجر پائے گا۔ اَور جو راستباز کے نام سے راستباز کو قبول کرتا ہےَ۔ وہ راستباز کا اَجر پا۔ئے گا۔ اَور جو شاگرد کے نام سے اِن چھوٹوں میں سے کسی  کو صرف ایک پیالہ ٹھنڈا پانی ہی پلائے۔ میَں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اَجر ہر گز نہ کھوئے گا۔

غوروخوض:

آج کی انجیل ِ مقدس میں خُداوند یسوؔع مسیح کا یہ بیان بڑا عجیب لگتا ہےَ کہ ” یہ مت سمجھو کہ میَں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں۔صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہُوں”۔ کئی دفعہ جب ہم یہ حوالہ پڑھتے یا سُنتے ہیں تو پریشان ہوجاتے ہیں کہ خُداوند یسوؔع مسیح جو امن کا شہزادہ ہےَ۔ اَور جس کی پیدائش پر فرشتوں نے امن کا پیغام دیا تھا۔ اَور جس نے خود فرمایا کہ “مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں۔ کیونکہ وہ خُدا کے فرزند کہلائیں گے”( مقدس متی 5: 9)۔ اَور جس نے مقدس پطرؔس کو تلوار چلانے سے منع کیا اَور متنبہ کیا کہ ” وہ سب جو تلوار کھینچتے ہیں۔ تلوار ہی سے ہلاک ہونگے”(مقدس متی 62: 52)۔ وہ کس طرح یہ کہہ سکتا ہےَ کہ ” میَں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں۔صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہُوں”۔

غور کریں کہ اِس حوالے کا سیاق و سباق کچھ یوں ہےَ۔ کہ یہودی موعودہ مسیح کے عہد کے منتظر تھے۔ اَور امن کی اُمید لگائے بیٹھے تھے۔ کہ جب مسیح آئے گا ۔ تو دُنیا میں جنگ و جدل ختم ہوجائے گا۔ اِس دھرتی پر امن کا راج ہوگا۔

خُداوند یسوؔع مسیح نے اِس پس مننظر میں کہ ” یہ مت سمجھو کہ میَں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں۔صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلانے آیا ہُوں”۔  اپنے اِس بیان سے خُداوند یسوؔع مسیح اپنے شاگردوں کو باور کرانا چاہتےہیں کہ اُس کی محبت اَور تعلیم کی وجہ سے گھروں کا امن تباہ ہو جائے گا۔ اپنے بیگانے ہو جائیں گے۔ اپنے گھر کے لوگ ہی دشمن بن جائیں گے۔ جب کوئی انجیل کے پیغام کو قبول کرتا ہےَ۔ اَور خُداوند یسوؔع مسیح پر اِیمان لاتا ہےَ۔ تو سب سے پہلے اُس شخص کے گھر والے دشمن بن جاتے ہیں۔ خُداوند یسوؔع مسیح کی خاطر بہت سے لوگوں کو اپنا گھربار ماں باپ اَور بہن بھائی چھوڑنے پڑے۔

مقدس فرانسس آف اسیسی کی زندہ مثال ہمارے سامنے ہےَ۔ جب اُس نے خُداوند یسوؔع مسیح کی پیروی کرنے میں غریبی کی زندگی اِختیار کی۔ اَور اپنا مال غریبوں میں بانٹ دیا۔ تو اُس کے والد نے اُس کو گھر سے نکال دیا۔ اِیمان بہت بڑی دولت ہےَ۔ جس کی خاطر بعض انسان اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔

خُداوند یسوؔع مسیح ہمارے سامنے ترجیحات رکھتےہیں کہ کس کو اولیت دیتے ہیں۔ کیا خُدا پر دوسرے رشتوں کو یا خُدا کو ترجیح دیتے ہیں۔ کلام ِ مقدس میں لکھا ہےَ کہ ” تو خُداوند اپنے خُدا کو اپنے دِل اَور اپنی ساری جان اَور اپنی ساری عقل اَور اپنی ساری طاقت سے پیار کر” ( مقدس مرقس 21: 30)۔ ہماری سب سے پہلی ترجیح خُدا اَور اُس کی محبت ہونی چاہئیے۔ اِس کے بعد دوسرے رشتے ناطے آتے ہیں۔ دوسرا حکم یہ ہےَ کہ ” تو اپنے ہمسائے کو اپنی مانند پیار کر” (مقدس مرقس 21: 30)۔ خُدا ماں باپ ، بہن بھائیوں کو پیار کرنے سے منع نہیں کرتا۔ بلکہ اپنی ترجیحات کو دُرست کرنے کی بات کرتا ہےَ۔ آئیں ہم غور کریں کہ ہم کس کو زیادہ پیار کرتےہیں  خُداوند یسوؔع مسیح ہمیں اپنے کلام کے مطابق اپنی ترجیحات کا تعین کرنے کا فضل عطا فرمائے۔ آمین۔

Read Previous

باغِ عدؔن کہاں پر واقع تھا؟

Read Next

مکاشفہ کی کتاب کا مطالعہ آٹھویں قسط

error: Content is protected !!