کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

خُداوند یسُوؔع مسیح نے مقدس پطرؔس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “میَں تجھ سے کہتا ہُو ں کہ تُو کیفاؔ ہےَ۔اَور میَں اِس کیفا ؔ پر اپنی کلیسیا بناؤں گا” ( مقدس متی 16: 18)۔کیفاؔ ارامی زبان کا لفظ ہےَ۔ جس کے معنی چٹان کے ہیں۔مقدس پطرؔس وہ چٹان ہےَ جس پر خُداوند یسُوؔع مسیح نے اپنی کلیسیا بنائی ہےَ۔

خُداوند یسُوؔع مسیح کے الفاظ بڑے غور طلب ہیں۔اُس نے فرمایا کہ میَں “اپنی “کلیسیا بناؤں گا۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہےَ کہ کلیسیا کسی انسان کی نہیں بلکہ خُداوند یسُوؔع مسیح کی ہےَ۔ اَور وہی اِس کا مالک ہےَ۔خُداوند یسُوؔع مسیح  نے کہیں  یہ نہیں کہا کہ “میَں اپنی کلیسیائیں” بناؤں گا۔بلکہ یہ کہ “میَں اپنی کلیسیا” بناؤں گا۔ اُس کی بنائی ہوئی کلیسیا ایک ہی ہےَ۔ باقی  تمام کلیسیا ئیں انسانوں کی بنائی ہوئی ہیں۔

آج کل ہم اپنے ارد گرد بہت سی کلیسیاؤں کو قائم ہوتے دیکھتے ہیں۔اَور ایسے میں نہایت سنجیدگی سے ساتھ سوال پوچھنے کی ضرورت ہےَ کہ کیا یہ سب خُداوند یسُوؔع مسیح کی بنائی ہوئی کلیسیائیں ہیں؟خُداوند یسُوؔع مسیح نے ایک ہی کلیسیا بنائی تھی۔ یہ باقی کلیسیائیں کہاں سے آگئیں؟جو اپنے بانیوں اَور خادموں کے ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔خُداوند یسُوؔع مسیح کی بنائی ہوئی کلیسیا پر کوئی انسان اپنی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

کلام ِ مقدس میں لکھا ہےَ کہ “کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ”(1۔قرنتیوں 1: 27)۔ اَور “ہم اِس بدن کے اعضا ء ہیں”(افسیوں 5: 30)۔ اَور مسیح اِس بدن یعنی “کلیسیا کا سر ہے”(کلسیوں 1: 18)۔ “بدن میں ایک عضو نہیں بلکہ بہت سے اعضاء ہوتے ہیں(1۔قرنتیوں 12: 12)۔”پس تم فرداً فرداً اعضاہو کر مسیح کا بدن ہو”(1۔قرنتیوں 12: 27)۔ کلام ِ مقدس واضح طور پر بیان کرتا ہےَ کہ “کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ”۔ وہاں یہ نہیں لکھا کہ “کلیسیائیں مسیح کا بدن ہیں”۔

بعض خُداوند یسُوؔع مسیح کے مدِ مقابل کلیسیائیں بنانے والے اپنے حق میں یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ “کلیسیا مسیح کا بدن ہے”، یہ ایک استعارہ  یا کنایہ ہےَ۔استعارہ یا کنایہ کسی شے کو کسی شے سے تشبیہ دینے کو استعارہ کہتے ہیں۔مثلاً کہا جاتا ہےَ کہ “چاند سی بیٹی”۔ اِس کا مطلب ہےَ کہ بیٹی بذاتِ خود چاند نہیں بلکہ اُس کو چاند جیسی کہا گیا ہےَ۔

کلام مقدس میں قطعاً یہ نہیں کہا گیا کہ “کلیسیا مسیح کے بدن کی مانند ہےَ”۔ بلکہ لکھا ہےَ کہ کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔بدن کی مانند ہونے اَور بدن ہونے میں بڑا فرق ہےَ۔کلیسیا مجازی معنوں میں نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں مسیح کا بدن ہےَ۔

رسولوں کے اعمال میں ہم پڑھتے ہیں کہ جب دمشق کی راہ پر شاؤؔل پر خُداوند کا نور چمکا اَور وہ زمین پر گر پڑا۔اَور اُسے ایک آواز یہ کہتے سنائی دی “شاؤؔل ! شاؤؔل تو مجھے کیوں ایذا دیتا ہےَ؟”تب شاؤؔل نے پوچھا اَے خُداوند تُو کون ہےَ؟” جواب میں آواز آئی “میَں یسُوؔع ہُوں جِسے تو ایذا دیتا ہےَ”(رسولوں کے اعمال 9: 1-5)۔غور طلب بات یہ ہےَ کہ یہاں خُداوند یسُوؔع مسیح صیغہ غائب استعمال کرتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ “تو میرے لوگوں کو کیوں ایذیت دیتا ہےَ”۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو شاؤؔل براہ ِ راست خُداوند یسُوؔع مسیح کو دُکھ نہیں دیتا تھا۔وہ تو صرف مسیح کے پیروکاروں کا دشمن تھا۔وہ تو صرف اُن کو ایذیت دیتا تھا۔ مگر خُداوند یسُوؔع مسیح شاؤؔل سے کہتے ہیں کہ تو مجھے کیوں ایذا دیتا ہےَ؟”جس کا مطلب ہےَ کہ کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔ اَور مسیح اِس بدن کا سر ہےَ۔اَور اُس کے پیروکاروں اُس کے بدن کے اعضا ء ہیں۔اِس لئے مقدس پولوؔس رسول لکھتےہیں کہ جب ایک عضو دُکھ پاتا ہےَ۔تو سب اعضاء اُس کے ساتھ دُکھ پاتے ہیں(1۔ قرنتیوں 12: 26)۔ جب بدن کے اعضاء کو تکلیف پہنچتی  ہےَ۔ تو پورے بدن کو تکلیف پہنچتی ہےَ۔جب بدن  کو دُکھ پہنچتا ہےَ تو دُکھ کا اظہار اعضاء نہیں کرتے۔بلکہ اعضا ء کی خاطر سر دُکھ کا اظہار کرتا ہےَ۔ مثلاً جب پاؤں کو چوٹ لگے ۔ تو کبھی پاؤں یہ نہیں کہتا کہ مجھے چوٹ لگی ہےَ۔ یا ہاتھ پر چوٹ لگے تو ہاتھ دُکھ کا اظہار کرتا ہو۔ سر ہی دُکھ کا اظہار کرتا ہےَ۔

یاد رکھیں کہ کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔بدن ایک ہی ہوتا ہےَ۔اَور بہت سی کلیسیا ئیں مسیح کا بدن نہیں ہیں۔ بالکل ایسے جیسے بدن سے الگ ہو کر ہر عضو بدن ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ ہاتھ ، ہاتھ ہی رہے گا ، پاؤں ، پاؤں ہی رہے گا۔ ہر عضو کی اپنی پہچان ہےَ۔ مگر وہ بدن کا حصہ تو ہیں مگر بذاتِ خود بد ن نہیں ہیں۔ اسی طرح خُداوند کی کلیسیا سے الگ ہونے والے مسیح کے بدن کے اعضا تو ہوسکتے ہیں۔ مگر وہ بدن نہیں ہیں۔اَور جو عضو بدن سے الگ ہو جاتا ہےَ۔ وہ بے جان ہو جاتا ہےَ۔ نہ اُس کی شناخت رہ جاتی ہےَ اَور نہ اُس میں زندگی رہتی ہےَ۔ بالکل ایسے جیسے حادثات میں لوگ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اُن کے اعضاء سے اُن کی پہچان ختم ہوجاتی ہےَ۔ وہ کس کے بدن کا عضو ہیں۔ یہ جاننے کے لئے ڈی این اے ٹیسٹ ہوتے ہیں  اَور پھر کہیں پتہ چلتا ہےَ کہ وہ کون تھا۔

کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔اَور مسیح اِس بدن کا سر ہےَ۔بدن کو احکامات سر سے صادر ہوتے ہیں۔ اَور سر بدن کے مختلف اعضاء کو مختلف کام سر انجام دینے کا حکم دیتا ہےَ۔ جب روٹی کھانی ہو۔ سر بدن کے عضو یعنی ہاتھ کو حکم دیتا ہےَ کہ ہاتھ نوالہ توڑ کر منہ میں ڈالے۔ جب کہیں جانا ہو۔ سر بدن کے عضو پاؤں کو چلنے کا حُکم دیتا ہےَ۔ اِسی طرح تمام اعضا ء سر کے تابع رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔بدن میں سر کنٹرول سنٹر کا کام کرتا ہےَ۔یہ بدن کے اعضا کو مختلف پیغام بھیجتا اَور موصول کرتا رہتا ہےَ۔بدن کے تمام اعضاء بڑی ہم آہنگی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ہر بدن کا ایک ہی سر ہوتا ہےَ۔ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ ایک بدن کے دو یا دو سے زیادہ سر ہوں۔جس بدن کے دو سر ہوں ۔ یا جس سر کے دو بدن ہوں ۔وہ نارمل نہیں ہوتا۔ جس طرح سر بدن کے اعضا ء کی ہدایت اَور رہنمائی کرتا ہےَ۔ اِسی طرح مسیح اپنی کلیسیا کی ہدایت اَور رہنمائی کرتا ہےَ۔اِس لئے مسیح کی کلیسیا کی ہر سرگرمی کے پیچھے مسیح کارفرما ہوتاہےَ۔

کلیسیا کے بارے میں ہمارا اِیمان بڑا واضح ہونا چاہئیے۔اگر ہمارا اِیمان یہ ہےَ کہ کلیسیا مسیح کا بدن اَور ہم اِس بدن کے اعضاء ہیں۔تو یہ اِیمان ہماری سوچ کا رُخ تبدیل کرسکتا ہےَ۔پھر ہم مسیح کے بدن کے ٹکڑے کرنے والوں کے اِیمان کا حصّہ نہیں بن سکتے۔پھر ہم گلی محلے کی کلیسیاؤں کی عبادتوں میں شامل ہونا پسند نہیں کریں گے۔

کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔ اَور ہم اِس کے اعضا ء ہیں۔مقدس گریگوری اعظم ہر ایک مسیحی کو اِسی عظمت کی یاد دلاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “اَے مسیحی اپنی عظمت کو پہچان۔۔۔یاد رکھ کہ تیرا سر کون ہےَ اَورتُو کس کے بدن کا عضو ہےَ”۔

Read Previous

مقدس فرانسسؔ زیوئیر کا کیکڑا

Read Next

لطوریائی نعرے

error: Content is protected !!