امن کامجسمہ

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

ارجنٹائن ؔاَور چلیؔ کے درمیان اینڈؔس ایک سرحدی مقام ہےَ۔ جہاں دونوں ممالک کی سرحدیں ایک دوسرے سے مِلتی ہیں۔یہ پہاڑی مقام سطح سمندر سے 14000 فٹ کی بلند ی پر واقع ہےَ۔ اَور مقام پر خُداوند یسُوؔع مسیح کا ایک مجسمہ نصب کیا گیا ہےَ۔ جو توپوں کو پگھلا کر بنایا گیا ہےَ۔ اِس مجسمہ کی تاریخ بڑی دلچسپ ہےَ۔

واقعہ یوں ہےَ کہ ارجنٹائنؔ اَور چلیؔ کے درمیان سرحدی تنازعہ چلا آ رہا تھا۔ دونوں جانب سے اِس علاقے پر دعویٰ کیا جارہا تھا اَور اپنی اپنی عملداری کی کوششیں ہو رہی تھی۔ اِس سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے لئے مذاکرت ہوتے رہے۔جب مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل نہ ہوسکا۔ تو نوبت جنگ پر آگئی۔

دونوں ممالک نے بھر پور جنگی تیاریاں شروع کردیں۔ایسٹر کا اتوار تھا۔ارجنٹائنؔ اَور چلیؔ کے کاتھولک بشپ صاحبان کی طرف سے جنگ کو ٹالنے اَور امن کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوششیں ہونے لگیں۔دونوں ممالک کے بشپ صاحبان نے اپنے اپنے ملک کے طول و عرض کا دَور ہ شروع کیا۔اَور جگہ جگہ یسُوؔع نام کی خاطر امن کی اپیل کی گئی۔

بشپ صاحبان کی امن مہم اِس قدر کامیاب رہی  کہ دونوں ممالک کے عوام نے جنگ کے آپشن کو رد کر دیا۔ اَور اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ تنازعے کا فیصلہ کرنے کے لئے امن کی راہ اِختیار کریں۔دونوں حکومتوں کے درمیان  امن معاہد ہ طے پایا۔ 1904 میں اِس امن معاہد ہ کی یادگار میں جنگ کے لئے تیارکی ہوئی توپوں کو پگھلا کر تانبے کا 25اونچا خُداوند یسوؔع مسیح نجات دہندہ کا مجسمہ نصب کیا گیا۔

خُداوند یسوؔع مسیح  کا مجسمہ ایک گلوب پر بنایا گیا ہے َ۔ اَور مجسمہ کے ایک ہاتھ میں صلیب دکھائی گئی ہےَ۔ اَور دوسرا ہاتھ برکت دینے کے لئے اُٹھا ہُؤا ہےَ۔ دونوں ممالک کے درمیان خُداوند یسُوؔع مسیح کا یہ مجسمہ امن کی ضمانت ہے َ۔دونوں قوموں نے عہد کیا کہ جب تک یہ مجسمہ قائم ہےَ۔ دونوں قومیں ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار نہیں اُٹھائیں گی بلکہ امن سے رہیں گی۔ہسپانوی زبان میں مجسمے کے پاؤں کے نیچے یہ عبارت لکھی ہوئی ہےَ کہ ” ایک دوسرے کے خلاف دو قوم بہنوں کے  جنگ شروع کرنے سے پہلے یہ قَوّی پہاڑخاک میں تبدیل ہوجائیں”۔

کاش دُنیا کی وہ تمام قومیں جن کے درمیان سرحدی تنازعات پائے جاتے ہیں۔ وہ تاریخ کے اِس واقعہ سے سبق سیکھیں ۔اَور باہمی طور پر تنازعات کا پُرامن حل تلاش کریں اَور آپس میں امن سے رہنے کا عہد کریں۔ اَور جو مالی وسائل جنگی تیاریوں پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ وہ اپنی اپنی قوم کی فلاح کے لئے خرچ کریں۔                                                                              

Read Previous

انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہےَ؟

Read Next

شیطان مقدسہ مریمؔ سے کیوں عداوت رکھتاہےَ؟

error: Content is protected !!