برکت دینا یا مخصوص کرنا بپتسمہ کا متبادل نہیں ہےَ۔

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

وہ مسیحی جو بچوں کے بپتسمہ کی مخالفت کرتے ہیں۔وہ بپتسمہ کے متبادل کے طور پر نِت نئی رسمیں متعارف کرواتے ہیں۔کیونکہ اِسی میں اُن کی بقا ہےَ۔ وہ ایسی رسمیں متعارف کرواتے ہیں۔ جن کا نہ تو کلام مقدس میں کوئی حوالہ ملتا ہےَ اَور نہ ہی کوئی مثال ملتی ہےَ۔ اَور نہ ہی اِبتدائی کلیسیاکے دستور میں ایسی رسمیں شامل تھیں۔ہوں۔تاکہ قارئین کو معلوم ہوسکے کہ اصلیت کیا ہےَ۔

(Humanism) اِنسان پرستی

بپتسمہ کی جگہ بچوں کو برکت دینا اَور مخصوص کرنا اَور اِن جیسی دیگر رسومات انسان پرستوں کی بنائی ہوئی ہیں۔ جو ہیومنزم کے نظریہ حامی ہیں۔مغرب میں بے دینی کا رُجحان بڑھ رہا ہےَ۔ اَور مذہب سے دُور ی اُن کو نِت نئی رسمیں اَور نِت نئے طریقے تلاش کرنے پر مجبور کررہی ہےَ۔وہ پیدائش سے لے کر شادی تک کی تقریبا ت کوگھروں ، ہوٹلوں اَور تفریحی مقامات پر منعقد کرنا پسند کرتے ہیں۔اَور وہ اپنی رسومات اَور تقریبات کو غباروں ، موم بتیوں ، مشروبات اَور لذیذ کھانوں سے معنی خیز بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ فطرت اَور زمین کے بُنیادی عناصر کو اپنا رہنما اصول مانتے ہوئے اِن کو مسیحی عقیدوں سے پروتے ہوئے اپنی تقریبا ت میں مسیحیت کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن یاد رہے کہ سچے مسیحیوں کو اپنا اِیمان چھوڑ کر انسان پسندی کے مذہب کو اپنانے کی ضرورت نہیں ہےَ۔

(Unitarianism) وحدت پسندی

وحدت پسندی ایک الہیاتی تحریک ہےَ۔ جس کے ماننے والے خود کو وحدپسند کہتے ہیں۔ وحد پسند پاک تثلیث کو نہیں مانتے۔اُن کا عقیدہ ہےَ کہ خُداواحد ذات ہےَ۔ وہ خُداوند یسُوؔع مسیح کے حُکم کے  مُطابق بچوں کو باپ اَور بیٹے اَور روح القدس کے نام سے بچوں کو بپتسمہ نہیں دیتے۔ وہ خُداوند یسُوؔع مسیح کی تعلیم کے برعکس بچوں کو اپنی جماعت یا کلیسیا میں شامل کرنے کے لئے مختلف دیگر تقریبا ت کا اہتمام کرتے ہیں۔جن میں “نام دینے”، مسیحی بنانے، برکت دینے ،اَور مخصوص کرنے جیسی رسومات شامل ہیں۔ اِن رسومات میں مذہبی رہنما کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔اپنی رسومات کو وہ پُرمعنی بنانے میں آزاد ہوتے ہیں اَور جو چاہیں اَور جیسے چاہیں کرسکتے ہیں۔

وحدت پسندوں کا موقف ہےَ کہ بچے کو مسیحی بنانے اَور دُنیا میں اُس کا خیرمقدم کرنے کے لئے یہ رسم چرچ میں ادا تو جاسکتی ہےَ۔ مگر چرچ کے باضابطہ تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔دھرم والدین کی جگہ بچے کے والدین کے دوستوں میں سے کسی اِس رسم کے لئے منتخب کیا جاسکتا ہےَ۔ اِس رسم میں روحانی پہلوکی بجائے دوستی پر زیادہ زور دیا جاتا ہےَ۔ اَور بلائے گئے مہمانوں میں سے کوئی بھی  دوست دھرم والدین کی جگہ کھڑا کیا جاسکتا ہےَ۔ اِس رسم میں اُن کے اِیمان اَور روحانی کردار کو نظر انداز کیا جاتا ہےَ۔ حتیٰ کہ کلیسیا کے پاسبانوں کے کردار کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہےَ۔

(Planting a Tree) پودا لگانے کی رسم

انسان پسندوں کا موقف ہےَ کہ اگر کوئی بے دین ہےَاَور کرہِ ارض کے کسی بھی حصّے میں سکونت پذیر ہےَ۔ تو وہ  بپتسمہ کی رسم کو نظر انداز کرتے ہوئےزندگی، نشوونما اَورتجدید پر غور کرتے ہوئے پودا لگانے کی رسم اداکرسکتا ہےَ۔ انسان پسند وں کے ہاں ہر نومولود بچے کے لئے ایک پودا لگا کر رسم ادا کی جاتی ہےَ۔ مثال کے طور پر جمیکاؔ میں نومولود بچے کی آنول (وہ غذائی نالی جس کے ذریعے جنین کو ماں کے پیٹ میں خوراک مہیا ہوتی ہےَ۔اَور فضلات خارج ہوتے ہیں) کو دفن کرکے اِس کے اوپر بیج بویا جاتا ہےَ۔ تاکہ فطرت میں رہنما روح بچے کی رہنمائی کرتی رہےَ۔

انسان پسندوں کے نظریات  گردش کرتے ہوئے مسیحی عقائد کا حصّہ بنتے جار ہے ہیں۔اَور کلیسیا کے قدیم دستوروں کی جگہ انسان پسندوں کی نئی رسومات جگہ لے رہی ہیں۔اَور نئے نئے کلیسیائی فرقے اپنی مُشاق چالاکیوں سے اِیمانداروں کو گمراہ کرتے ہیں۔اَور مسیحی اِیمانداروں کو مسیحی اِیمان کی اصل بنیادوں سے ہٹا کر اُنہیں انسان پسند نظریات کی جانب مائل رکھتے ہیں۔اَور بعض اِیماندار اِن کے نظریات سے اِس قدر مرعوب ہو جاتے ہیں کہ اُن کی سوچ کینویں کے مینڈک کی سوچ بن کر رہ جاتی ہےَ۔

انسان پسندی کی ایک مثال امریکہ میں سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت تھی۔اِس کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر انسان پرستوں نے امریکہ اَور یورپ میں آسمان سر پر اُٹھا رکھا تھا۔ دُنیا میں اِس سے بدترین ظلم مسیحیوں پر ہوتا ہےَ۔ اِن ممالک میں کبھی صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔ انہی ملکوں میں مسیحی اِیمان پر حملہ ہوتاہےَ۔ اِس پر کبھی کوئی احتجاج نہیں ہُؤا۔ حال ہی میں ترکی میں ہگیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر کوئی ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ کیونکہ انسان پرست مذہب سے بیگانہ ہو کر انسان کو خُدا بنائے بیٹھے ہیں۔اِنہی انسان پرست لوگوں کے پیسوں سے ہمارے ہاں نِت نئی کلیسیائیں بنتی اَور منسٹریاں چلائی جاتی ہیں۔اِن کے پاسبان اپنی ہی عقل سے بائیبل مقدس کی نت نئی تفسیریں بیان کرتے اَور ان کے موقف کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ہمارے سیدھے سادھے لوگ اِن کی مُشاق چالاکیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ کاتھولک کلیسیاکی تعلیم اَور رسومات کی مخالفت کرنے میں ہی نجات ہےَ۔ انسان پرست مذہب کا حربہ  اچھی استعمال کرنا جانتے ہیں۔اُن کو اچھی طرح معلوم ہےَ کہ کاتھولک کلیسیا ہی اصل میں مسیحی اِیمان کی ڈھال ہےَ۔ اَور باقی مسیحیوں کو کاتھولک تعلیم اَور رسومات کے متبادلات کے طور پر آسانی سے نئی رسومات کی طرف راغب کیا جاسکتا ہےَ۔

(Blessing of Children) بچوں کو برکت دینا

بچوں کو بپتسمہ دینے کی بجائے بچے کو برکت دینے کی رسم کا اہتمام کیا جاتا ہے َ۔ جس میں دوست اَور خاندان کے افراد دُنیا میں بچے کا خیرمقدم کرتے ہیں ۔اَور جواز پیش کیا جاتا ہے َ کہ چونکہ خُداوند یسُوؔع مسیح نے بچوں کو برکت دی تھی۔اِس لئے وہ بھی بچوں کو بپتسمہ دلوانے کی بجائے برکت دیتے ہیں۔لیکن برکت دینے کی رسم بپتسمہ کا متبادل نہیں ہوسکتی۔بپتسمہ خُداوند یسُوؔع مسیح کا حُکم ہےَ (مقدس متی 18: 19)۔ جبکہ خُداوند یسُوؔع مسیح کا بچوں کر برکت دینا ایک واقعہ ہےَ (ملاحظہ ہو مقدس متی 10: 13-16،  مقدس مرقس 10: 16)۔ بائیبل مقدس میں کوئی حوالہ یا مثال ایسی نہیں ملتی۔ جہاں بچوں کو بپتسمہ کی جگہ برکت دی گئی ہو۔

(Child Dedication) مخصوصیت کی رسم

مخصوصیت کے معنی ہیں کسی چیز یا  عمارت یاانسان کو خُدا کے لئے وقف کردینا۔جس کے بعد مخصوص شُدہ چیز ، عمارت( گرجاگھر) یا شخص پر انسان کااختیار اَور حق ختم ہوجاتا ہےَ۔ حتیٰ کہ کوئی انسان اُسے چُھو بھی نہیں سکتا۔مثلاً پاک الطار پاک ماس کے لئے مخصوص کیا جاتا ہےَ۔ اِس پر صرف پاک ماس گزرانی جاسکتی ہےَ۔ اَب کوئی اپنی مرضی سے اِسے کھانا کھانے کے لئے استعمال نہیں کرسکتا۔ اِسی طرح چرچ کے لئے مخصوص کی گئی عمارت کو رہائش یا کسی دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں کی جاسکتا۔ اِسی طرح فادر یا سسٹر یں جو خُدا کے لئے مخصوص ہو جاتے ہیں۔ کوئی اُن کو اپنی زندگی کا ساتھی بنانے کے لئے ورغلانے کی پیشکش نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنے والوں کو معلعون کہا گیا ہے۔

نیز مخصوص کرنے کا مطلب”خُدا کو دے دینا ” ہےَ۔ سموئیلؔ کی ماں جو بانجھ تھی۔وہ خُداوند کے حضور روئی اَور اُس نے دُعا مانگی۔ “اے رب الافواج !اگر تو اپنی بندی کی پست حالی پر نظر کرےاَور مجھے یاد کرے۔۔۔ اَور اپنی بندی کو فرزندِ نرینہ عطا کرےتو میَں اُس کو زندگی بھر کے لئے خُداوند کو دے دُوں گی” (1۔سموئیل 1:11)۔ عہدِ جدید میں مقدسہ مریمؔ اَور مقدس یوسفؔ بچہ یسُؔوع کو ہیکل میں لائے۔تاکہ وہ بچہ “خُداوند کے لئے مخصوص ٹھہرے” (مقدس لوقا 2: 22)۔

وہ جو اپنے بچوں کے لئے مخصوصیت کی رسم اداکرتے ہیں۔ اُن کو اچھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئیے کہ وہ اپنے بچے کے لئے خُدا سے کیا مانگ رہے ہیں۔ مخصوصیت کے بعد بچے پر والدین کا اِختیار اَور حق ختم ہوجاتا ہےَ۔ اَب وہ بچہ براہِ راست خُدا کے اِختیار اَور حق کے تابع ہوجاتاہےَ۔ والدین اُس کی زندگی کے فیصلے کرنے کے حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔

(Christening) مسیحی بنانا

بچوں کے بپتسمہ کی ایک متبادل رسم مسیحی بنانے کی ہےَ۔ یہ رسم مختلف مسیحیوں میں مختلف طریقے سے اَدا کی جاتی ہےَ۔ یہ رسم کوئی ایک طریقے سے نہیں ہوتی۔ اِس لئے جتنے چرچ اتنی رسمیں ہیں۔ جبکہ کاتھولک اَور بڑی منظم کلیسیاؤں میں بپتسمہ کم و بیش ایک ہی طریقے سے دیا جاتا ہےَ۔

Read Previous

شیطان مقدسہ مریمؔ سے کیوں عداوت رکھتاہےَ؟

Read Next

قناعت

error: Content is protected !!