اسقاطِ حمل کے بارے میں کاتھولک تعلیم

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

دیدہ  ودانستہ  طور پر حاملہ عورت کے پیٹ سے طبی یا کسی دوسرے طریقے سے جنین کی زندگی کو ختم کرنا اسقاطِ حمل کہلاتا ہےَ۔ لوگ کئی وجوہات کی بناء پر اِس عمل کی طرف راغب ہوتے ہیں مثلاً کنواری لڑکی کا حاملہ ہوجانا۔ اَور معاشرے کے ڈر سے خاندان کا اسقاطِ حمل پر مجبور ہونا۔ بعض مالی پریشانیوں اَور بچوں کی کفالت کے ر سے حمل گرانے کی خواہش کرنا۔ کئی لوگ اسقاطِ حمل کو ضبطِ تولید کا ایک طریقہ سمجھتے ہوئے اِس کی جانب راغب ہوتے ہیں۔

ایک اندازے کے مُطابِق دُنیا میں ہر سال تقریبا ً 56 ملین حمل گرائے جاتے ہیں۔ اسقاطِ حمل کی حمایت کرنے والے اپنے حق میں دلائل دیتے ہیں کہ جو بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہےَ۔ اُس کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔ ماں چاہے تو اِس بچے کو دُنیا میں لانے یا حمل کے گرانے سے اُس کی زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہےَ۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہےَ کہ چونکہ جنین ابھی بافتوں کا بے جان لوتھڑا ہوتا ہےَ۔ جس میں نہ جان ہوتی ہے َ اَور نہ اُس کی کوئی پہچان ہوتی ہےَ۔ اِس لئے اُسے وقت سے پہلے گرایا جاسکتا ہےَ۔

جب کہ کاتھو لک اخلاقیات بچے کے حق میں  پانچویں حُکم  کو پیش کرتی ہے َ کہ ” تو خُون مت کر”( خروج 20: 13)۔ کاتھولک کلیسیا کی تعلیم یہ ہےَ کہ زندگی کے ہر لمحہ پر انسانی زندگی کا احترام کیا جائے۔ کلیسیا کا اِیمان ہےَ کہ زندگی استقرارِ حمل سے شروع ہوتی ہےَ۔

کلام ِ مقدس اِس نظریے کی تائید و حمایت کرتا ہےَ۔ کلام ِ مقدس میں یوں لکھا ہےَ کہ ” اگر آدمی جھگڑتے ہوں اَور کسی حاملہ عورت کو چوٹ لگائیں۔ مگر اُس کا حمل گرنے کے سوا اَور کوئی حادثہ نہ ہو۔ تو چوٹ لگانے والا اتنا تاوان بھردے گا جتنا اُس کا شوہر تجویز کرے۔ اَور جتنا منصف مناسب سمجھیں۔ پر اگر حادثہ پڑے تو وہ جان کے بدلے جان دے”( خروج 21: 22)۔

بائیبل مقدس میں نازائیدہ بچے اَور اُن کی ماں دونوں کو یکساں مقام اَور تحفظ فراہم کیا گیا ہےَ۔ خُدا نازائیدہ بچے کو مکمل انسان سمجھتا ہےَ۔ اِس لئے انسانی زندگی اپنی اِبتدا سے ہی پاک اَور قابل ِ احترام ہےَ۔ کیونکہ اِس میں خالق خُدا کا تخلیقی عمل شامل ہےَ۔ اَور انسانی زندگی کی پیدائش کا عمل قدرت کا شاہکار ہےَ۔ کلام مقدس میں لکھا ہے کہ ” میَں ۔۔۔خُداوند تیرا خالق جس نے رِحم ہی سے تجھے بنایا”( اشعیا 44:2)۔ صرف خُدا ہی شروع سے لے کر آخر تک انسانی زندگی کا خالق اَور مالک ہےَ۔ کوئی انسان کسی بھی حالات کے تحت معصوم انسانی زندگی کے وجود کو ختم کرنے کا حق نہیں رکھتا۔خُدا حمل کے لمحہ سے ہی انسانی زندگی کو احترام بخشتا اَور اُسے مطلق تحفظ فراہم کرتا ہےَ۔ خُداوند فرماتا ہےَ” پیشتر اِس کے کہ میَں نے تجھے بطنِ مادر میں بنایا۔ میَں تجھے جانتا تھا”( ارمیا 1: 5)۔ اِس لئے یاد رہے کہ وہ جان جو پیدا ہوچکی ہےَ۔ یا وہ جو ابھی پیدا نہیں ہوئی دونوں خُدا کی نظر میں گراں قدر ہیں۔

کاتھولک کلیسیا نے پہلی صدی سے ہی ہر وقوع پذیر اسقاطِ حمل کو اخلاقی بُرائی قرار دیا اَور اِس کی پُرزور مذمت کی ہےَ۔ اسقاطِ حمل کے بارے میں کاتھولک کلیسیا کی تعلیم اَور کاتھولک کلیسیا کا موقف زمانوں کے نشیب و فراز میں ناقابل ِ تبدیل رہا ہےَ۔ اِبتدائی کلیسیا کی تعلیم کی کتاب دیداخے میں یوں لکھا ہےَ ” تم اسقاطِ حمل سے جنین کو قتل نہ کرنا اَور نہ نومولود کو ہلاک کرنا”( دیداخے 2: 2)۔اِس لئے ایک مسیحی کو چاہئیے کہ وہ ماں کے رحم کے اندر انسانی زندگی کا اتنا ہی احترام کرے جتنا کسی اَور انسانی زندگی کا احترام کیا جاتا ہےَ۔

Read Previous

سال کے عام ایام کے دَوران چودھواں اتوار

Read Next

انجیلِ مقدس برائے 6 جولائی 2020

error: Content is protected !!