کیا مقدسین ہمارے لئے دُعا کرسکتے ہیں؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

بعض مسیحیوں کی طرف سے کہا جاتا ہےَ کہ مقدسین مرچکے ہیں۔ کیا وہ مرنے کے بعد بھی ہمارے لئے دُعا کرسکتے ہیں؟ ہمارا عقیدہ ہےَ کہ مسیحی مرتے نہیں بلکہ وہ زندہ رہتے ہیں۔ خُداوند یسوؔع مسیح کا فرمان ہےَ کہ “جو مجھ پر اِیمان لاتا ہےَ اگرچہ وہ مرگیا ہو تو بھی وہ زندہ رہے گا”( مقدس یوحنا 11: 26)۔ جن مقدسین کہ ہم بات کرتے ہیں۔ وہ خُدا کے دُوست ہیں۔ جنہوں نے زمین پر رہتے ہوئے کامل طور پر خُدا کی مرضی کو پورا کیا۔ اَور اَب وہ بہشت میں خُدا کی حضوری میں ہیں۔اَور وہ مرے نہیں ہیں۔ خُداوند یسوؔع مسیح فرماتے ہیں کہ “خُدا مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خُدا ہےَ”( مقدس لوقا 20: 38)۔

جب اِنسان مرتا ہےَ تو اُس کے بدن کی موت واقعہ ہوتی ہےَ۔ مگر اُس کی روح زندہ رہتی ہےَ۔ کیونکہ روح لافانی ہےَ۔ جب کوئی انسان مرتا ہےَ تو اُس کا بدن قبر میں رہ جاتا ہےَ۔ بدن مُردہ حالت میں ہوتا ہےَ۔ بدن بے حِس و حرکت ہوجاتا ہےَ۔ مگر روح زندہ رہتی ہےَ۔ بدن سے ضُدا ہونے کے بعد بھی روح کی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ بائیبل مقدس میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔ الیسؔع نبی نے اپنی موت کے بعد حیرت انگیز کام سرانجام دئیے( یشوع بن سیراخ  48: 14)۔الیسؔع وفات پاچکا تھا۔ جب” ایک موآبی گروہ نے ایک مُردہ آدمی کو الیسؔع کی قبر میں ڈال دیا۔ جت اُس آدمی نے الیسؔع کی ہڈیوں کو چھُؤا تو جی اُٹھا اَور اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا”( 2۔ ملوک 13: 20-21)۔

وہ جو یہ حوالہ پیش کرتے ہیں کہ ” کیونکہ خُدا ایک ہےَ۔ اَور خُدا اَور آدمیوں کے مابین درمیانی بھی ایک ہے َ یعنی مسیح یسوؔع انسان “( 1۔ تیموتاؤس 2: 5)۔ اَور کہتے ہیں کہ خُدا اَور آدمیوں کے بیچ میں مسیح ہی اکیلا درمیانی ہےَ۔ تو پھر تواُنہیں خُدا کے خادموں کو بھی دُعا کے لئے نہیں کہنا چاہئیے ۔ کیونکہ ایسا کرنے سے وہ خُدا اَور آدمیوں کے بیچ میں درمیانی کا کردار ادا کرتے ہیں؟ کیا صرف اِس دُنیا سے رِحلت کرنے والے مقدسین کو ہی منع کیا گیا ہےَ کہ وہ زمین پر اپنے پیچھے رہ جانے والے بہن بھائیوں کے لئے دُعا نہ کریں؟

خُداوند یسوؔع مسیح نے کہا “خبردار اِن چھوٹوں میں سے کسی کو ناچیز نہ جانو۔ کیونکہ میَں تم سے کہتا ہوں کہ آسمان پر اُن کے فرشتے میرے باپ کا جو آسمان پر ہےَ مُنہ ہمیشہ دیکھتے ہیں” ( مقدس متی 18: 10)۔ یہ نگہبان فرشتوں کی بات ہو رہی ہےَ۔ جو خُدا کے حضور ہماری شفاعت کرتے ہیں۔

مکاشفہ کی کتاب میں لکھا ہےَ کہ مقدسین ہمارےلئے دُعا کرتے ہیں ۔”پھر ایک اَور فرشتہ آیا اَور سونے کا بخوردان لئے ہُوئے قُربان گاہ کے پاس جا کھڑا ہُؤا۔ اَور بہت سی خوشبوئیاں اُسے دی گئیں تاکہ تمام مقدسوں کی دُعاؤں کے ساتھ تخت کے سامنے طلائی قُربان گاہ پر چڑھائے۔ اَور بخور کا دھواں مقدسوں کی دُعاؤں کے ساتھ ہی فرشتے کے ہاتھ سے خُدا کے حضور پہنچ گیا”( مُکاشفہ 8: 3-4)۔

آبائے کلیسیا بھی مقدسین کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے دُعا کرتے ہیں۔ مقدس جیرومؔ لکھتے ہیں کہ ” جب رسول اَور شہید جسم میں تھے۔ وہ ہمارے لئے دُعا کرتے تھے۔ کیا اَب وہ زندگی کا تاج حاصل کرنے کے بعد ہمارے لئے دُعا نہیں کریں گے؟”۔

کلام مقدس میں لکھا ہےَ کہ “ہم جو بہت سے ہیں۔مل کر مسیح میں ایک بدن اَورآپس میں ایک دوسرے کے اعضاء ہیں”( رومیوں 21: 5)۔مقدسین جو زمین پر رہتے ہوئے مسیح کے بدن کا حصّہ تھے۔کیا وہ اِس جہان سے رِحلت کرنے کے بعد ” مسیح کے بدن” سے الگ ہوجاتے ہیں؟ہر گز نہیں۔وہ اَب بھی اُس کے اسراری بدن کا حصّہ ہیں۔اَور زمین پر اِیمانداروں سے رابطے میں ہیں۔اِس لئے ہم رسولوں کے عقیدے میں “مقدسوں کی شراکت”کا اقرار کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم اُنہیں اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے۔تاہم اُن کی رفاقت ہمارے ساتھ قائم ہوتی ہےَ۔اِس لئے وہ زمین پر اِیمانداروں کے لئے دُعا کرتے ہیں۔ہمیں ذرا شک نہیں کہ خُدا اُن کی شفاعت سے ہماری دُعا ئیں نہیں سنتا۔اَور اِس میں بھی شک نہیں کہ وہ اِس جہان سے رِحلت کرنے کے بعد دُعا نہیں کرسکتے۔

Read Previous

انجیل مقدس برائے 17 جولائی 2020

Read Next

بُت پرستی کیا ہےَ؟

error: Content is protected !!