زمین پر کسی کو اپنا باپ نہ کہو

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

کاتھولک مسیحی اپنے کاہنوں کو “فادر “کہتے ہیں۔اِس پر غیر کاتھولک اعتراض کرتے ہوئے دلیل پیش کرتے ہیں کہ کاتھولک کاہن کو فادر کہنا بائیبل مقدس کی تعلیم کے خلاف ہےَ۔ وہ اپنے موقف میں یہ حوالہ پیش کرتے ہیں کہ “زمین پر کسی کو باپ نہ کہو۔کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہےَ جو آسمان پر ہے” (مقدس متی 23: 9)۔

یہ آیت جو وہ اپنے موقف میں پیش کرتے ہیں۔  اِس میں کہیں اِمتیاز نہیں کیا گیاکہ کاتھولک کاہن کو فادر نہیں کہنا۔ اگر اِس آیت کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا جائے۔ تو اِس آیت میں زمین پر ہر کسی کو باپ کہنے سے منع نہیں کیا گیا ہےَ۔ جس کا مطلب ہےَ کہ وہ جو اِس کی لفظی تشریح کرتے ہوئے صرف لفظ باپ کو کاتھولک کاہنوں تک محدود رکھتے ہوں۔ اُنہیں اِس حُکم کی وُسعت کو دیکھتے ہوئے اپنے “ابّو” کو بھی باپ نہیں کہنا چاہئیے۔ کیونکہ لکھا ہےَ کہ “زمین پر کسی کو باپ نہ کہو۔کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہےَ جو آسمان پر ہے”۔ وہ جو اِس آیت میں مذکورہ  لفظ “باپ “کو کاتھولک فادر تک محدود رکھتے ہیں۔ وہ کل سے اپنے “ابّو” کو”ابّو” کہنا چھوڑ دیں۔ کیونکہ یہ بھی اِس حُکم کی خلاف ورزی ہےَ۔ وہ اپنے پاسٹر کو “پادری” کہنا بھی چھوڑ دیں۔ کیونکہ پادری کے معنی بھی باپ کے ہیں۔

جب خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنے شاگردوں کو یہ حُکم دیا کہ “زمین پر کسی کو باپ نہ کہو”۔تو اِن سے اُن کی کیا مُراد تھی؟ کیا وہ واقعی چاہتے تھے کہ اُس کے پیروکار زمین پر کسی کو باپ نہ کہیں۔ حتیٰ کہ وہ اپنے والد کو بھی باپ نہ مانیں۔ اِس لئے خُداوند یسوؔع مسیح کے اِس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ  اِسے دوسروں پر فتویٰ دینے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ پہلے اِس حوالے کے سیاق و سباق کو دیکھا جائے۔

جس سیاق و سباق میں خُداوند یسؔو ع مسیح نے یہ الفاظ کہے تھے کہ “زمین پر کسی کو باپ نہ کہو۔کیونکہ تمہارا باپ ایک ہی ہےَ جو آسمان پر ہے”۔ وہ فقیہوں اَور فریسیوں کی بابت اپنے شاگردوں کو متنبہ کر رہے تھے جو “موسیٰؔ کی گدھی” پر بیٹھے تھے (مقدس متی 23: 1)۔ خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنے شاگردوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا” جو کچھ وہ تم سے کہیں وہ سب عمل میں لاؤ۔لیکن اُن کے سے کام نہ کرو” ( مقدس متی 23: 2)۔ فقیہوں اَور فریسیوں کے کام کیا تھے۔ وہ  دوسروں کو خُدا کے حُکموں پر عمل کرنے کو “کہتے تھے مگر خود کرتے نہ تھے”۔وہ شریعت کے ” ایسے بھاری بوجھ جو اُٹھائے نہیں جاتے باندھتے اَور لوگوں کے کندھوں پر رکھتے تھے ۔ لیکن آپ اُنہیں اپنی اُنگلی سے بھی ہلانا نہ چاہتے ” (مقدس متی 23: 4)۔ فقیہہ  یہودی علماء کی ایک جماعت تھی جو خود کو شریعت کے محافظ اَور اپنے آپ کو عوام کے حقیقی اُستاد سمجھتے تھے۔ دِن رات شریعت کا مطالعہ کرتے اَور اِس کی تشریح و تفسیرکرتے ہوئے روزمرہ زندگی میں شریعت کے اصولوں کو نافذ کرتے تھے۔اِسی طرح فریسی تھے جو سب سے زیادہ بااثر تھے۔ اَور اپنے آپ کو کٹّر یہودی سمجھتے تھے۔ یہ یہودی شریعت پرستی کی تعلیم دیتے تھے۔ خُداوند یسؔو ع مسیح نے اِن الفاظ میں اِن کا خاکہ کھینچا گیا ہےَ کہ “وہ اپنے سب کام لوگوں کو دکھانے کے واسطے کرتے ہیں۔کیوُنکہ وہ اپنے تعویذ چوڑے اَور اپنے پھُندے بڑے بناتے ہیں۔ وہ ضیافتوں میں صدر نشینی اَور عبادت خانوں میں اعلیٰ درجہ  کی کُرسیاں اَور بازاروں میں کورنشات اَور آدمیوں سے ربّی کہلانا پسند کرتے ہیں” ( مقدس متی 23: 5-7)۔خُداوند یسوؔع مسیح نے فقیہوں اَور فریسیوں کی اِس ریاکاری کی سخت مذمت کی  ہے ۔

عالمِ شرع ربّی کہلاتے تھے۔ لفظ ربّی ربّ  سے نِکلا ہےَ جس کے معنی “مالک” کے ہیں۔ یہ لقب یہودی مذہبی اُستادوں کے لئے بطورِ خاص استعمال کیا جاتا تھا۔ خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنے شاگردوں کو متنبہ کیا کہ اپنے کو ربّی نہ کہلاؤ۔ کیونکہ فقیہوں اَور فریسیوں نے اِس لقب سے منسوب عظمت اَوراِختیار کو اپنی ذات  سے منسوب کر رکھا تھا۔ نہ صرف وہ اپنے کو ربّی کہلوانا پسند کرتے، بلکہ اپنے لئے ارامی لفظ “ابّا” (باب) کہلوانا بھی پسند کرتے تھے۔  خُداوند یسوؔع  مسیح نے لفظ”ابّا” (اے باپ)  خُدا کے لئے استعمال کیا  تھا۔  جو زندگی کا خالق اَور مالک ہےَ۔ صرف خُدا  ارامی لفظ “ابّا” (اے باپ) کہلانے کے تمام اوصاف رکھتا ہےَ۔ اِن معنوں میں خُداوند یسوؔع مسیح نے فرمایا  تھاکہ ” تمہارا باپ ایک ہی ہےَ جو آسمان پر ہےَ” (مقدس متی 23: 9)۔

کہا جاتا ہےَ کہ ہر انسان کے دو باپ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو آسمان سے زمین پر لانے کا وسیلہ بنتا ہےَ۔ اَور دوسرا وہ جو زمین سے آسمان پر جانے کا وسیلہ بنتا ہےَ۔ اِس لئے مقدس پولوؔس نے خود کو بھی باپ کہا۔ وہ اپنے آپ کو قرنتس ؔ کے مسیحیوں کا روحانی باپ سمجھتا تھا۔ کیونکہ وہ اُس کے وسیلے سے مسیح پر اِیمان لائے۔ اَور از سرنو پیدا ہوئے ۔مقدس پولوؔس رسول لکھتا ہےَ کہ ” خواہ مسیح میں تمہارے دس ہزار اُستاد بھی ہوں۔تو بھی تمہارے باپ بہت سے نہیں ۔ اِس لئے کہ میَں ہی انجیل کے وسیلے سے مسیح یسوؔع میں تمہارا باپ ہُؤا” (1۔ قرنتیوں 4: 15)۔ اَب وہ جو زمین پر کسی کوبھی باپ کہنے کی مخالفت کرتے ہیں۔ اُن کو مقدس پولوؔس رسول کو ایک خط لکھنا چاہئیے۔ جس میں مقدس پولوؔس رسول سے کہا جائے کہ وہ مقدس متی 23: 9 کے حوالے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔ قرنتیوں کے نام اپنے خط (1۔ قرنتیوں 4: 15) سے یہ حوالہ نکال دے۔ جس میں اُس نے قرنتیوں کے مسیحیوں کا باپ ہونے کا دعویٰ کیا ہےَ۔

کلیسیائی حلقوں میں مذہبی رہنماؤں کے لئے لقب “فادر” ، “ایبٹ”، “پوپ”، پیٹریاک” وغیرہ استعمال کیا جاتا ہےَ۔ یہ القاب “ابّا” کے معنوں میں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مقامی کلیسیاؤں  میں اُن کے  پاسبانی کردار اَور اِیمانی تعلیم کے اِختیار کی نشاندہی کرتے ہوئے “باپ” کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ کاہنوں کے لئے لقب “فادر” نہ صرف کاتھولک کلیسیا استعمال کرتی ہےَ۔  بلکہ  کاتھولک کلیسیا کے علاوہ  آرتھوڈکس ،کلیسیائے انگلستان  اَور کچھ دیگر کلیسیائیں بھی اپنے کاہنوں کے لئے لقب “فادر “استعمال کرتی  ہیں۔اِس لئے کاتھولک کلیسیا کی مخالفت کرنے والے ذرا اپنے ذہنوں سے یہ غلط فہمی دُور کرلیں۔

Read Previous

دونوں صورتوں میں پاک شراکت کا تقاضا

Read Next

انجیل مقدس برائے 31 جولائی 2020

error: Content is protected !!