خُداوند کے ایلچی بنیں

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

پس ہم مسیح کے ایلچی ہیں”(2۔ قرنتیوں 5: 20) “

رومیوں 10: 14 میں سوال کیا گیا ہےَ کہ ” پس جس پر وہ اِیمان نہیں لائے ۔ اُس کا نام کیونکر لیں اَور جس کی خبر اُنہوں نے نہیں سُنی اُس پر کیونکر اِیمان لائیں”؟کیا کوئی ایسا شخص مسیح پر اِیمان لاسکتا ہےَ جس نے کبھی مسیح کے بارے میں سُنا ہی نہیں؟ کیا ایسا شخص مسیح پر اِیمان لاسکتا ہےَ جس کے بارے میں وہ جانتا ہی نہیں؟ کیا کوئی ایسا شخص انجیل پر اِیمان لاسکتا ہےَ جس کی منادی کبھی اُس نے سُنی ہی نہیں؟

آئیں ایک مثال پر غور کرتے ہیں۔ ایک ارب پتی اخبار میں اشتہار دیتا ہےَ  کہ ” جو کوئی میرے گھر کے پتہ پر مجھے خط لکھے گا ۔ میَں ہر اُس شخص کو ایک لاکھ روپیہ انعام دُوں گا”۔ غریبوں کے لئے یہ خوشخبری ہوسکتی ہےَ۔ کیونکہ اُنہیں پیسے کی ضرورت ہےَ۔ وہ اِس موقعہ سے فائد ہ اُٹھا سکتے ہیں۔ کیا یہ اُن لوگوں کے لئے خوشخبری ہوگی جن تک اخبار پہنچا ہی نہیں۔ اَور جنہوں نے یہ اشتہار پڑھا ہی نہیں؟کیا کوئی شخص بغیر اشتہار پڑھے اِس موقعہ سے فائدہ اُٹھا سکتا ہےَ؟ کیا کوئی بغیر اشتہار پڑھے ارب پتی سے ایک لاکھ روپیہ وصول کرسکتا ہےَ؟

اِس ارب پتی کی طرح خُدا بھی انسان کے سامنے ایک پیشکش رکھتا ہےَ کہ “تم گناہ سے آزاد اَور خُدا کے غلام ہو پاکیزگی کا پھل رکھتے ہو۔ اَور اُس کا انجام دائمی حیات ہےَ۔ کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہےَ۔ مگر خُدا کی نعمت ہمارے خُداوند یسوؔع مسیح میں دائمی حیات ہےَ”( رومیوں 6: 23)۔کیا سب انسان خُدا کی اِس نعمت کےبارے میں جانتے ہیں؟

ہماری دُنیا میں آج بھی بے شمار لوگ ایسے ہیں جنہوں نے خُداوند یسوؔع مسیح کی انجیل نہیں سنی۔ کیا ہمارے ارد گرد ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی خُداوند یسوؔع مسیح کے بارے میں نہیں سُنا؟ کیا کوئی پیغام سنانے والے کے بغیر پیغام سن سکتا ہے؟ اگر لوگ خُدا کی خوشخبری سننا چاہتے ہیں۔ تو اُنہیں پیغام سنانے والوں کی ضرورت ہےَ۔ کوئی ایسا شخص ہو جو منہ کھول کر کہے کہ میرے پاس تمہارے لئے خوشخبری ہےَ۔کیا خُدا کو واقعی ایسے لوگوں کی ضرورت ہےَ جو اُس کی خوشخبری دُنیا کو دے سکیں؟ کیا خُدا لوگوں کو استعمال کئے بغیر اپنا پیغام نہیں دے سکتا؟ بالکل ایسے جیسے اُس نے دس احکام پتھر کی لوحوں پر لکھ کر دئیے تھے( خروج 42: 12)۔ کیا خُدا کے لئے ممکن نہیں کہ وہ دُنیا کے پہاڑوں پر بڑے بڑے حروف میں اپنا پیغام لکھ دے تاکہ لوگ پڑھ سکیں؟ جس طرح بنی اسرائیلؔ نے کوہ سیناؔ پر زندہ خُدا کی آواز سُنی ( تثنیہ شرع 6: 22- 26)۔ کیا اِسی طرح  خُدا  آسمان سے براہ ِ راست  لوگوں سے مخاطب نہیں ہوسکتا؟ جس طرح خُدا نےجبرائیل فرشتے کو پیغام دینے کے لئے بھیجا۔ کیا وہ اپنے فرشتوں کو نہیں بھیج سکتا؟ کیا اُس کے پاس فرشتوں کی کمی ہے؟ جس طرح خُدا نے بلعامؔ کی گدھی کا منہ کھولا۔ کیا وہ اپنا پیغام دینے لئے آج بھی ایسا نہیں کرسکتا( عدد 22: 28-30)۔ خُدا چاہتا تو اِن سب کو اپنی خوشخبری کا پیغام دینے کے لئے استعمال کرسکتا تھا۔ مگر اُس نے ایسا نہیں کیا۔ اِس لئے کہ اُس نے پیغام دینے کے لئے مجھے اَور آپ کو چنا ہےَ۔ خُداوند فرماتا ہےَ کہ “تم نے نہیں بلکہ میَں نے تمہیں چن لیا ہےَ( مقدس یوحنا باب 15)۔ کیا آپ اِس خدمت کا حصہ بننا چاہتے ہیں؟

تو پھرآئیں جہاں ہم فیس بُک پردوسروں کی تصویریں لائک کرنے اَور اپنی تصویریں اَور مسیج شئیر کرنے میں وقت گزارتے ہیں ۔ وہیں خُدا کے کلام کی اُن باتوں کو بھی دوسروں سے شئیر کیا جائے۔ جن سے اِیمان پیدا ہوتا ہےَ۔ اَور اِیمان سے ہمیشہ کی زندگی ملتی ہے َ۔

Read Previous

مے اَور شراب میں کیا فرق ہےَ؟

Read Next

انجیل ِ مقدس برائے 28 جولائی 2020

error: Content is protected !!