کیا منسٹریاں خُدا کی طرف سے ہیں؟

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

آج کل منسٹریاں بنانے کا رُجحان زور پکڑ رہا ہےَ۔ اَور لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا منسٹریاں خُدا کی طرف سے ہیں؟ خُداوند یسوؔع مسیح نے اپنی ایک ہی کلیسیا بنائی ہےَ( مقدس متی 16: 18)۔ اُس نے اپنے رسولوں کو منسٹریاں بنانے کا حُکم نہیں دیا۔ اَور نہ ہی رسولوں نے کوئی منسٹری بنائی ۔ بلکہ وہ ایک ہی خُداوند کی کلیسیا سے منسلک رہے َ۔ اَور اِسی کے تحت خُداوند کی خدمت کرتے رہے َ۔ جبکہ آج کل منسٹریاں انسانی مرضی اَور انسانی خواہش کا نتیجہ ہیں۔ مقدس پولوؔس رسول بھی جھوٹی منسٹریوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” مجھے تمہاری بابت خُدا کی سی غیر آتی ہےَ۔ کیونکہ میَں نے ایک ہی مَرد سے تمہاری نسبت کی ہےَ۔ تاکہ میَں تم کو پاک دامن کنواری کی مانند مسیح کے پاس حاضر کروں ۔ مگر میَں ڈرتا ہُوں کہیں اَیسا نہ ہو کہ جیسے سانپ نے اپنی دغابازی سے حّواؔ کو بہکایا وِیسے ہی تمہارے خیالات بھی اُس خلوص اَور عصمت سے ہٹ جائیں جو مسیح کے لائق ہیں۔ کیونکہ اگر کوئی آ کر دوسرے یسوؔع کی منادی کرتا ہے جس کی ہم نے منادی نہیں کی تھی۔ یا اگر تم اَور روح پاتے ہو جسے تم نے نہیں پایا تھا۔ یا کوئی اَور انجیل ملتی ہےَ جسے تم نے قبو ل نہیں کیا تھا۔ تو تم خوب برداشت کرتے ہو”( 2۔ قرنتیوں 11: 1-4)۔

دراصل منسٹری کلیسیا کے اندرایک مخصوص خدمت کو کہتے ہیں ۔ اَور خدمت کلیسیا کا حصّہ ہوتی ہے َ۔ لیکن آج کل جومنسٹریاں چل رہی ہیں۔ وہ کلیسیا سے ہٹ کر کلیسیا کے مدِ مقابل خود مختارادارے ہیں ۔ جن کے سربراہ خود کو خادم کہتے ہیں اَور یہ خادم پیسے کے لالچ میں انجیل کے پیغام کو بگاڑ کر پیش کرتے ہیں۔یہ منسٹریاں خُدا کی طرف سے نہیں ہوسکتیں۔ اِ ن کے پیشرؤں نے کلیسیائیں بنائیں ۔ اَور اُن کے بعد آنے والوں کے انہی کلیسیاؤں سے منسٹریاں بنائیں۔ اگر اِن کو پرکھا جائے تو یہ منسٹریاں نہ تو خُدا کی طرف سے ہیں۔ اَور نہ ہی اِن کے خادم باقاعدہ کسی اختیار کے تحت مقرر کردہ ہیں۔ بلکہ اِنہوں نے خود ہی اپنے آپ کو اِس خدمت کے لئے چُنا ہےَ۔ کلیسیا کسی کی وارثت نہیں ہوتی۔ جبکہ یہ منسٹریاں خاندانی وارثت ہیں۔ جو خاندانوں میں تقسیم ہوتی ہیں۔

منسٹریوں کے خادم خُدا کے کلام کو اپنے ذاتی فائدہ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اِس لئے  تو مقدس پولوسؔ رسول لکھتے ہیں کہ ” ہم بہتیروں کی مانند خُدا کے کلام کی تجارت نہیں کرتے۔بلکہ صاف دِلی کے ساتھ خُدا کی طرف سے خُدا کے حضور مسیح میں کلام کرتے ہیں”( 2۔ قرنتیوں 2: 17)۔ یہ منسٹریاں “دینداری کی صورت” تو رکھتی ہیں۔ لیکن ” اُس کا اثر قبول نہیں ” کرتیں ( 2۔ تیموتاؤس 3: 5)۔  اِن کی خدمت اَور منادی میں انجیل کا اثر دکھائی نہیں دیتا۔ ایسا اثر جو گنا کے اثر سے بچانے کی قدرت رکھتا ہو۔ ” جس طرح یناؔس اَور یمبراؔس نے موسیٰؔ کا سامنا کیا تھا۔ اُسی طرح یہ لوگ بھی حق کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ ایسے آدمی ہیں جن کی عقل بگڑی ہوئی ہےَ۔ اَور جو اِیمان کی نسبت نامقبول ہیں( 2۔ تیموتاؤس 3:8)۔ خُدا نے اِن کو ان کی عقل کے حوالے کردیا ہےَ۔ اِس لئے اِیمانداروں کو ایسے خادموں کی چِکنی چپڑی باتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہےَ۔کلیسیا مسیح کا بدن ہےَ۔ اَور اِس بدن کے ساتھ پیوستہ رہنے میں ہماری بقا ہےَ۔ جو ڈالی تاک سے جُدا ہوجاتی ہےَ۔ وہ بے پھل رہتی ہےَ اَور سوکھ جاتی ہےَ اَور بالآخر آگ میں جھونکی جاتی ہےَ۔

Read Previous

دو بھیڑئیے

Read Next

کیا آپ جانتے ہیں ؟

error: Content is protected !!