سکردؔو میں قدیم صلیب کی دریافت

اِس پوسٹ کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں۔

بلتستان ؔ یونیورسٹی کی ریسرچ ٹیم نے اِعلان کیا ہے کہ اِس نے کواردوؔ  گاؤں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی پر قدیم ؔ صلیب دریافت کی ہےَ۔ جو تقریباً بارہ سو سال پُرانی ہےَ۔ یہ صلیب سنگ مرمر کو تراش کر بنائی گئی ہےَ۔ اِس کا وزن تقریبا تین سے چار ٹن اَور اِس کی لمبائی چوڑائی تقریباً چھ سے سات فٹ ہےَ۔ بلتستانؔ یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے سہ رُکنی ٹیم کے ہمراہ اس مقام کا دَورہ کیا ہےَ اَور صلیب کے اِس مقدس نشان کی تصدیق کی ہےَ۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خان نے کو ہ پیماؤں اَور مقامی افراد کی موجودگی میں مقدس صلیب کے بارے میں اظہار ِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ یوں لگتاہےَ کہ قراقرمؔ کی وادیوں میں یہ صلیب آسمان اَور جنت سے لائی گئی ہےَ۔اَور شاید یہ بلتستان کی تاریخ میں پہلا موقعہ ہےَ کہ مقدس آثار قدیمہ کی دریافت ہوئی ہےَ۔

یاد رہے کہ 1935 میں سرکاؔپ (ٹیکسلاؔ) کے کھنڈرات کے نزدیک ایک کسان کو ہل چلاتے وقت پتھر کی تراشی ہوئی اِسی قسم کی ایک صلیب ملی تھی۔ جسے اِس زمیندار نے مسز کتبھرٹ کنگ کو پیش کیا۔ جو اُس وقت کے انگریز ڈ پٹی کمشنر کی بیوی تھی۔ یہ صلیب ٹیکسلاؔ صلیب کہلاتی ہےَ۔ اَور آج کل چرچ آف پاکستان کے لاہور کتھیڈرل میں محفوظ ہےَ۔ اِس صلیب کو پاکستانی مسیحی اِس خطے میں مقدس توماؔ رسول کی آمد اَور پہلی صدی میں مسیحیت کی موجودگی کا نشان خیال کرتے ہیں۔ تاہم سکردؔو سے ملنے والی صلیب ٹیکسلاؔ صلیب سے اِس لحاظ سے تھوڑی مختلف ہےَ کہ ٹیکسلاؔ صلیب کے چاروں بازو برابر ہیں۔ جب کہ سکردؔو میں دریافت ہونے والی صلیب افقی لحاظ سے تھوڑی لمبی ہےَ۔ برصغیر میں مقدس توماؔ کے زمانے کی دریافت ہونے والی صلیبوں میں سکردؔو میں دریافت ہونے والی صلیب سب سے بڑ ی ہےَ۔

اُمید  کی جاتی ہے کہ جب  سکردؔو میں دریافت ہونے والی قدیم صلیب کی خبر علمی حلقوں میں پھیلے گی تو آثارِ قدیمہ کے ماہرین اَور مورخین قراقرم ؔ کی وادیوں میں  پہلی صدی کے دَوران مسیحیت کی موجودگی کے مزید  آثار دریافت کرنے میں دلچسپی لیں گے۔ اَور زائرین اَور سیاح اِس خطے کا رُخ کریں گے۔

Read Previous

دیداخے

Read Next

دیداخے باب دوم: دوسرا حُکم

error: Content is protected !!